Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 176

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًۭا كَثِيرًۭا وَنِسَآءًۭ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًۭا

لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے

سورة النساء - رشتوں کا احترام ضروری ہے - قول باری ہے (واتقواللہ الذی تساء لون بہ والارحام۔ اس خدا سے ڈروجس واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور راستہ و قرابت کے تعلقات ہورکاڑنے سے پرہیزکرو) حسن، عابد اورابراہیم کا قول ہے کہ آیت کا وہی مفہوم ہے جو اس قول کا ہے، اسالک باللہ وبالرحیم (میں تجھ سے اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں) ابن عباس (رض) ۔ قتادہ، سدی اور ضحاک کا قول ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے ، رشتہ و قرابت کے تعلقات کو ٹوڑنے اور بگاڑنے سے پرہیزکرو آیت میں اللہ کے نام پر اور اس کا واسطہ دے کر سوال کرنے کے جواز پر دلالت موجود ہے۔ لبیث نے مجاہد سے انھوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من سال باللہ فاعصوہ، جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر اور اس کا نام لے کر سوال کرے اس کا سوال پوراکردیاکرو) معاویہ بن سوید روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا، ان میں سے ایک بات قسم کا پوراکرنا بھی تھی۔ اس روایت کی بھی اسی مفہوم پر دلالت ہورہی ہے جس پر سابقہ روایت دلالت کرتی ہے۔ قول باری (والارحام) میں رشتہ داری کی عظمت اور اہمیت بیان کی گئی ہے نیز اسے بگاڑنے یاتوڑنے کی مانعت کی تاکید بھی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا (فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوافی الارض وتقطعوا ارحامکم، اگر تم وگردانی کروگے تو اس کے بعد عین ممکن ہے کہ زمین میں فساد برپا کرتے پھرو اور رشتہ دری کے تعلقات کو بگاڑ تے چلے جاؤ) اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کے ساتھ قطع رحمی کو مقرون کرکے اس جرم کی سنگینی کو واضح کردیا ہے۔- قول باری ہے (لایرقبون فی مومن الاؤالاذمۃ کسی مومن کے بارے میں نہ یہ لوگ کسی قرابت داری کا پ اس کرتے ہیں اور نہ قول وقرارکا) لفظ، الا کے متعلق قول ہے کہ اس سے مراد قرابت داری ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتاما والمساکین والجارذی القربی۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاذکرو، قرابت داروں اور یتیمیوں اور مسکینوں اور پڑوسی رشتہ دار سے حسن سلوک کرو) رشتہ داری کی حرمت کی عظمت کے بیان میں قرآن مجید کی تائید میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی روایات منقول ہیں۔ سفیان بن عینیہ نے زہری سے۔ انھوں نے ابومسلمہ بن عبدالرحمن سے، انھوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یقول اللہ اناالرحمن وھی الرحم شققت لھا من اسمی فمن وصھا وصلتہ من قطعھا بتتہ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ہیہ انام رحمن ہے اور رشتہ داری کا نام رحم ہے، میں نے اپنے نام سے اس کا نام نکالا ہے اس لیے جو شخص رشتہ داری کا پ اس کرے گا، میں بھی اس کا پ اس کروں گا اور جو شخص رحمی کرے گا میں کلبی اس سے قطع تعلق کروں گا)- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انھیں بشربن موسیٰ نے، انھیں ان کے ماموں حیان بن بشرنے، انھیں محمد بن الحسن نے امام ابوحنفیہ سے، انھیں ناصح نے یحییٰ بن کثیر سے، انھوں نے ابوسلمہ سے، انھوں نے حضرت ابوہریر (رض) ہ سے، انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے ذمایا مامن شئی اطیع اللہ فیہ اعجل ثوابا من صلۃ الرحم ومامن عمل عصی اللہ بہ اعجل عقیبۃ من البغی والیمین الضاجرۃ۔ اللہ کی اطاعت میں کوئی عمل صلہ رحمی سے بڑھ کر نہیں ہے جس کی جزاجلداز جلدمل جاتی ہو اور اللہ کی نافرمانی میں بغاوت اور جھوٹی قسم سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں جس کی سزاکم سے کم وقت میں مل جاتی ہو)- ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی انھیں بشربن موسیٰ نے، انھیں خالدبن خداش نے، انھیں صالح المری نے، انھیں یزید رقاشی نے حضرت انس بن مالک (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ان الصلہ قدوصلۃ الرحم یزید اللہ بھما فی العمرویدفع بھما میتۃ …

2

وَءَاتُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰٓ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا۟ ٱلْخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَهُمْ إِلَىٰٓ أَمْوَٰلِكُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبًۭا كَبِيرًۭا

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے

اسلام یتموں کے حقوق کی حفاظت کا علمبردار ہے - قول باری ہے (واتو الیتامی اموالھم ولا تتبدل الخبیث بالطیب۔ یتیموں کا مال ان کو واپس دوا اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو) حسن سے مروی ہے کہ یتیموں کے مال کے متعلق جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے انھیں اپنے خاندان کے افرادبناکررکھنے سے نہ صرف گریز کرتا شروع کردیا، بلکہ یتیم لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ یتیموں کے متعلق لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہوجس طرزعمل میں ان کے لیے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہت رہے اگر تم اپناخرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تمہارے بھائی ہیں) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں یہاں راوی سے غلطی ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ یہاں اس آیت سے یہ مراد ہے کہ یتیموں کو۔ جب وہ بالغ ہوجائیں۔ ان کا مال ان کے حوالے کردیاجائے۔ اس لیے کہ اہل علم کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے یتیم کو اس کا مال حوالے کردیناواجب نہیں ہوتا۔ وادی کو ایک دوسری آیت کی بناپرغلطی لگی ہے۔ اس کے متعلق ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی، انھیں ابوداؤد نے، انھیں عثمان بن ابی شیبہ نے، انھیں جریرنے عطا سے انھوں نے سعیدبن جبیر سے، انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تقربوا مالایتیم الابالتیھی احسن، یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر صرف اسی طریقے سے جو سب سے بہترہو) نیز (ان الذین یاکلون اموال الیتا می ظلما انما یاکلون فی بطورنھم نارا۔ جو لوگ ازراہ ظلم یتیموں کا مال کھاجاتے ہیں، تو وہ اپنے پیٹوں کو آگ سے بھرلیتے ہیں) نازل فرمائی تو جس شخص کے زیرکفالت کوئی یتیم تھا، اس نے اس کا کھانا پینا علیحدہ کردیا حتی کہ اگر اس کا پس خوردہ بیچ رہتا تو اسے رکھ دیتا اور یتیم ہی کوا سے کھانا پڑتایا یہ کہ وہ خراب ہوجاتا، اس طریق کار سے بڑی وقتیں پیش آئیں اور لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان دقتوں کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم) نازل فرمائی۔ اس کے بعد سرپرستوں نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے ساتھ ملالیا اس بارے میں یہی صحیح روایت ہے۔- رہ گیا قول باری (واتوالیتمی اموالھم) تو اس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے کہ یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمامراد یہ نہیں لیا کہ یتیموں کو ان کا مال حوالے کردو، جبلہ وہ ابھی یتیمی کی حالت میں ہوں، یعنی بالغ نہ ہوئے ہوں، ان کا مال انھیں حوالے کرنا اس وقت واجب ہوتا ہے جب وہ بالغ ہوجائیں اور سمجھ بوجھ کے آثاران میں نظرآنے لگیں ۔ ان پر یتیم کے اسم کا اس لیے اطلاق کیا گیا کہ یتیمی کا زمانہ گزارنے میں انھیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ جس طرح کہ عدت کے اختتام کے قرب کو بلوغ اجل یعنی مدت ختم کرلینے کا نام دیاگیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (فاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف جب یہ اختتام مدت کو پہنچ جائیں تو انھیں یا تو بھیلے طریقے سے اپنے عقدزوجیت میں روک لویابھلے طریقے سے انھیں جانے دو ) اس پر ترتیب آیت میں یہ قول باری دلالت کرتا ہے (فاذادفعتم الیھم اموالھم فاشھدواعلیھم جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگوتو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو) بلوغ سے پہلے ان پر لوگوں کو گواہ بنانا درست نہیں ہوتا ، تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہاں بلوغ کے بعد کا زمانہ مراد ہے۔ پھر انھیں یتیم یا تو اس لیے کہا گیا کہ یتیمی کا دور نھونے حال ہی میں گزارا ہے یا اس لیے کہ وہ اپنے اپنے باپ سے محروم ہوگئے ہیں، جبکہ ایسی صورت میں عام مشاہدہ یہی ہوتا ہے کہ ان میں اپنی ذات کے لیے تصرفات کرنے دربطریق حسن اپنے امور کی تدبیر اور دیجھ بھال میں ضعف …

3

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

کم عمربچے بچیوں کا نکاح کرادینا - اسلام کسی کو بھی یتیم بچیوں کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دیتا - قول باری ہے (وان خفتم ان لاتقسطوافی الیتامی فانکحواماطاب لکم من النساء مثنیٰ واثلث وربع ، اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دودو، تین تین ، چارچار سے نکاح کرلو) زہری نے عروہ سے روایت کی ہے کہ میں نے اپنی خالدحضرت عائشہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھانجے یہ یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے ولی کی سرپرستی میں ہوتی تھی۔ اس کے مال اور حسن وجمال سے اسے رغبت ہوجاتی اور وہ اس سے نکاح کرنے کا ارادہ کرلیتا اور بدلے میں جو مہردیتاوہ اس لڑکی کے مرتبے سے کم ہوتا۔ اس لیے لوگوں کو ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، الا یہ کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ انھیں یہ حکم دیا گیا کہ ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں۔- حضرت عائشہ نے مزید فرمایا : اس کے بعد لوگوں نے پھر یتیم لڑکیوں کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسارکیاجس پر یہ آیت نازل ہوئی (ویستفتونک فی النساء قل یفتیکم فیھن ومایتلی علیکم فی الکتاب فی یتمی النساء التی لاتؤتو نھن اجورھن وتزغبون ان تنکحوھن۔ لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں کہواللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاددلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔ یعنی وہ احکام جو یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور لالچ کی بناپرتم خودان سے نکاح کرلیناچاہتے ہو) حضرت عائشہ نے مزید فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کتاب میں جس آیت کے سنائے جانے ذکرکیا ہے وہ پہلی آیت ہے جس میں فرمایا (وان خفتم الاتقسطوافی الیتامی) اور قول باری (وترغبون ان تنکحوھن) کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی زیرکفالت یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے بازرہتے ہو اس لیے کہ اس میں مال اور حسن وجمال کی کمی ہوتی ہے۔ اس بنا پر انھیں ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے روک دیاگیا جن کے مال اور حسن وجمال کی بناپرانھیں رغبت پیدا ہوگئی ہو، الایہ کہ وہ ان کے متعلق انصاف کارویہ اختیارکریں تو نکاح کرسکتے ہیں۔- اس حکم کی وجہ یہ تھی کہ یتیم لڑکیوں کی طرف وہ لوگ کم ہی راغب ہوتے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ (وان خفتم الاتقسطوافی الیتامی) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے بھی حضرت عائشہ کی طرح قول منقول ہے۔ سعید بن جبیر، ضحاک اور ربیع سی اس آیت کی ایک دوسری تاویل منقول ہے۔ اس کی روایت ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے کی ، انھیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انھیں عبدالرزاق نے، انھیں معمرنے ایوب سے، انھوں نے سعید بن جبیر سے کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو عورتوں کے ساتھ بھی بےانصافی کرنے سے ڈرو۔ تمہارے لیے دودو، تین تین، چار چار بیویوں تک حلال کردی گئی ہیں، ان کے بارے میں بےانصافی نہ کرو۔ مجاہد سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصفی سے ڈرتے ہو، جس کی بناپرتم ان کا مال کھانے سے پرہیز کرتے ہو، تو اسی طرح زنا سے بھی پرہیز کرو اوردودو، تین تین، چارچارتک شادیاں کرلو، اس آیت کی ایک تیسری تفسیر بھی مروی ہے یہ تفسیر شعبہ نے سماک سے اور انھوں نے عکرمہ سے بیان کی ہے کہ بعض دفعہ قریش کے کسی شخص کے نکاح میں عورتیں ہوتیں اور اس کے زیرکفالت یتیم بچے یابچیاں ہوتیں جب کسی وجہ سے اس کا مال ختم ہوجاتاتو وہ ان یتیموں کے مال پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔- اگرباپ یادادا کے علا وہ کوئی اور شخص کم سن بچے یابچی کا نکاح کرادے تو اس کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ ہر وہ رشتہ دارجو میراث میں حقدارہوتا ہے اس کے لیے جائز ہے، کہ وہ اپنے قریب سے …

4

وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحْلَةًۭ ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَىْءٍۢ مِّنْهُ نَفْسًۭا فَكُلُوهُ هَنِيٓـًۭٔا مَّرِيٓـًۭٔا

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق شوق سے کھالو

عورت کا اپنے شوہر کو مہرہبہ کردینا - اسلام عورتوں کے حقوق کا ضامن ہے - قول باری ہے (واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئامریا، اور عورتوں کے مہرخوش دلی کے ساتھ فرض جانتے ہوئے اداکرد، البتہ اگر وہ خوداپنی خوشی سے مہرکا کوئی حصہ معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھاسکتے ہو) قتادہ اور ابن جریج سے مروی ہے کہ آیت کی تفسیر میں کہاگیا فرض کے طورپر، گویا انہوں نے نحلۃ کا یہ مفہوم ، نحلۃ الدین، (دین کا طریقہ) سے اخذکیا ہے نیز یہ کہ مہردینا فرض ہے۔ ابوصالح سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی کا کسی سے نکاح کرادیتا تو اس کے مہر کی رقم خودلے لینا، لوگوں کو اس آیت کے ذریعے اس بات سے روک دیا گیا۔ ابوصالح نے آیت میں واردخطاب کو اولیاء کے لیے قراردے کر یہ معنی بیان کیے کہا نہیں یہ بدایت کی گئی کہ جب کوئی ولی عورت کی طرف سے مہر کی رقم اپنے قبضے میں لے لے تو وہ اسے اپنے قبضے میں نہ رکے، بلکہ عورت کے حوالے کردے۔ تاہم لفظ نحلۃ کے معنی اسی مفہوم کی طرف راجع ہیں جس کا ذکرقتادہ نے کیا ہے یعنی فرض کے طورپر ، اور یہ اس معنی میں ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مواریث کے ذکر کے بعد (فریضۃ من اللہ) کے الفاظ کے ذریعے کیا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ مہرکونحلۃ کا نام دیا گیا جبکہ یہ لفظ اصل میں بعض صورتوں کے اندرہبہ اور عطیہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شوہر، مہر کے بدل کے طورپر کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اس لیے کہ نکاح کے بعد بھی عورت کے اعضائے جنسی نکاح سے پہلے کی طرح عورت ہی کے قبضے میں رہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے ؟ کہ اگر عورت کے ساتھ شبہ کی بناپروطی کرجائے تو مہر کی رقم عورت کو ملے گی شوہر کو نہیں، اب مہرکواس لیے ، نحلۃ، کا نام دیا گیا کہ عورت کی طرف سے اس کے بدلے میں کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس کا شوہر مالک ہوجائے اس لیے مہراس ہبہ اور عطیہ کی طرح ہوگیا جس کے مقابلے میں کوئی بدل نہیں ہوتا۔ عقدنکاح کی بناپر عورت کی طرف سے شوہر جس چیز کا مستحق ہوتا ہے وہ اسباحت ہے نہ کہ ملکیت یعنی وہ عورت کو جسمانی طورپر اپنے طورپرمباح کرلیتا وہ عورت کا مالک قرار نہیں پاتا۔ ابوعبیدہ معمربن المثنی نے قول باری (نحلۃ) کے متعلق کہا کہ، خوش ولی کے ساتھ ، گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دل کی ناپسندیدگی کے ساتھ عورتوں کو ان کے مہرنہ دوبل کہ خوش ولی کے ساتھ مہر کی رقمیں انہیں دے دیا کرو۔ اگرچہ مہر عورت کے قبضے میں چلاجاتا ہے۔ تمہارے قبضے میں نہیں جاتا۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مفہوم کی بناپریہ جائز ہے ۔ کیونکہ مہرکواس لیے، نحلۃ، کا نام دیا گیا ہے کہ ، نحلۃ، عطیہ کو کہتے ہیں اور عام طورپرجب کوئی شخص کسی کو عطیہ دیتا ہے تو خوش ولی کے ساتھ دیتا ہے اسی مفہوم کے تحت مہرکو، نحلۃ، کا نام دے کر گویا مردوں کو یہ ہدایت کی گوئی وہ عورتوں کو مہرخوشد لی کے ساتھ دیں جس طرح عطیہ دینے والا خوشدلی کے ساتھ کسی کو عطیہ دیتا ہے قول باری (واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ) سے اس عورت کو پورامہردینے کے سلسلے میں استدلال کیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ شوہرنے خلوت کی ہو اس لیے کہ آیت کے ظاہر کا یہی تقاضا ہے۔ قول باری (فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریا) میں مراد یہ ہے کہ ، اگر خوشی سے وہ مہرکا کوئی حصہ معاف کردیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ان کے مہرادا کرنے کا حکم دیا تو اس کے بعد ہی یہ بیان کردیا کہ اگر عورت مہرمعاف کردے یاہبہ کردے تو شوہر کوا سے تسلیم کرلینا جائز ہے۔ تاکہ یہ خیال نہ پیداہو کہ مرد بہرصورت مہراداکرے خواہ عورت بطیت خاطرمہرنہ لینے پر تیارہوجائے۔ قتادہ نے اس آیت کے متعلق کہا ہے کہ عورت زوروزبردستی کے بغیر بطیب خاطر، مہرکاجو حصہ چھوڑدے گی وہ مرد کے لیے حلال ہوگا۔ چناچہ علقمہ نے اپنی بیوی سے کہا تھا : مزید اور خوشگوارشئی سے مجھے بھی کھلاو۔ (ان کی مراد یہ تھی کہ مہرکا …

5

وَلَا تُؤْتُوا۟ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ قِيَٰمًۭا وَٱرْزُقُوهُمْ فِيهَا وَٱكْسُوهُمْ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہے اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو

نادانوں اور بیوقوفوں کو ان کا مال حوالے کرنا - اسلام مال وجائد اد کی حفاظت کا حکم دیتا ہے - قول باری ہے (ولاتؤتوالسفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما، اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ناوان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تاویل وتفسیر میں اہل کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ کوئی شخص اپنامال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم نہ کرے اور پھر خودان کا دست نگربن جائے، جبکہ اس کی اولاد کو اس کا دست نگرہونا چاہیئے اور عورت بیوقوف ترین مخلوق ہے۔ اس طرح حضرت ابن عباس (رض) نے آیت کی اس کے ظاہر اور اس کی حقیقت کے مقتضیٰ کے مطابق تفسیر کی اس لیے کہ قول باری (اموالکم) اس بات کا متقاضی ہے کہ اپنا مال نادانوں کے حوالے کرنے کی نہی کا خطاب ہر شخص کو ہے۔ اس لیے کہ حوالہ کردینے کی صورت میں گویا اپنا مال ضائع کردینا ہے کیونکہ نادان لوگ مال کی حفاظت اور اس میں اضافہ کرنے سے عاجزہوتے ہیں۔ نادان لوگوں سے آپ کی مراد بچے اور عورتیں ہیں جو مال کی حفاظت کے نااہل ہوتے ہیں نیز اس امرپر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ایک شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے مال کا کسی ایسے فرد کو وکیل اور کارپروازبنادے جس میں نادانی اور بیوقوفی کی صفت پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان جیسے لوگوں کو اپنے مال کے متعلق وصیت کرے۔ نیز یہ دلالت بھی ہورہی ہے کہ ایک شخص کے ورثاء کم عمرہوں تو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے مال کے متعلق کسی ایسے شخص کو وصیت کرے جو امانت دارہو اور ان ورثاء کی خاطر اس مال کی دل وجان سے حفاظت کرسکتا ہو۔- اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ مال کو ضائع کرنے سے روکا گیا ہے اور اس کی حفاظت دیکھ بھال اور نگرانی واجب کردی گئی ہے۔ اس لیے کہ قول باری ہے (التی جعل اللہ لکم قیا ما) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتادیا ہے۔ کہ اس نے ہمارے جسموں کی زندگی اور قیام کا ذریعہ مال کو بنادیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مال دنیامیں سے کوئی حصہ عطاکیا ہے۔ اس پر اس میں سے اللہ کا حق یعنی زکوۃ و صدقات اداکرنا لازم ہے پھر باقی ماندہ مال کی حفاظت اور اسے ضائع ہونے سے بچانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اصلاح معاش اور حسن تدبیر کی ترغیب دی ہے، یہ بات اللہ نے اپنی کتاب عزیز میں کئی مواقع پر بیان فرمائی ہے۔ چناچہ قول باری ہے۔ (ولاتبذرتبذیرا ان لمبذرین کانوا اخوان الشیطین، اور بلاضرورت خرچ نہ کرو بیشک بلاضرورت مال اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں) نیز قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتقعدملومامحسورا۔ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ کر نہ رکھو، اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو کہ پھر ملامت زدہ اور تھکاہاربن کر بیٹھ رہو) نیز قول باری ہے (والذین اذا انفقوالم یسرفواولم یقتروا، اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی کنجوسی) اللہ تعالیٰ نے اموال کی حفاظت اور گواہوں، دستاویز اوررہن کے ذریعے قرض میں دی ہوئی رقموں کو محفوظ کرلینے کے جو احکامات دیئے ہیں جن کا ذکرہم پہلے کر آئے ہیں وہ بھی اصلاح معاش اور حسن تدبیر کے سلسلے میں دی جانے والی ترغیب کی ایک کڑی ہیں۔ قول باری (التی جعل اللہ لکم قیاما، کی اور تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان اموال کانگران ومحافظ بنا ہے۔ اس لیے انہیں ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جانے نہ دوجوان کے ضیاع کا سبب بن جائیں۔- اسلام میں مال ودولت کا ضائع کرنا منع ہے - آیت زیر بحث کی ایک اور تاویل سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ آیت کا اصل مفہوم یہ ہے ، ناوانوں کو ان کے اموال حوالے نہ کرو۔ اموال کی اضافت دراصل سفہاء یعنی نادانوں کی طرف ہے۔ اب الفاظ میں اموال کی جو اضافت مخاطبین کی طرف ہے تو اس کی مثال یہ …

6

وَٱبْتَلُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُوا۟ ٱلنِّكَاحَ فَإِنْ ءَانَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًۭا فَٱدْفَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَآ إِسْرَافًۭا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا۟ ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّۭا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًۭا فَلْيَأْكُلْ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ فَأَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًۭا

اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے

یتیم کو مال حوالے کرنا - مالی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے سمجھ بوجھ اور ہوشیاری ضروری ہے - قول باری ہے (وابتلوالیتامی حتی اذا بلغوالنکاح فان انستم منھم رشدافادفعوا الیھم اموالھم، اور یتیموں کی پرکھ کرتے رہویہاں تک کہ وہ نکاح کی عمرکوپہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں سمجھ بوجھ اور ہوشیاری دیکھ لوتوان کے اموال ان کے حوالے کردو) حسن، قتادہ اورسدی نے کہا کہ تم انکی عقلمندی اور دینداری کو پرکھتے رہو۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے ہم یتیموں کی پرکھ کرتے رہیں۔ اس لیے کہ فرمایا (وابتلوا الیتامی حتی اذابلغوالنکاح) اس میں ہمیں ان کی یتیمی کی حالت میں ان کو پرکھتے رہنے کا حکم ملاپھر فرمایا (حتی اذابلغوالنکاح) اس میں یہ بتادیا کہ بلوغ نکاح کامرحلہ ابتلاء یعنی پرکھتے رہنے کے مرحلے کے بعد آئے گا۔ اس لیے کہ حرف، حتی، غایت کے لیے ہے جس کا ذکرابتلاء کے بعد آیا ہے ، اس لیے آیت دوطرح سے اس پر دلالت کررہی ہے۔ کہ یہ ابتلاء بلوغ سے پہلے ہے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اگر ایک نابالغ لڑکے کے اندرسمجھ بوجھ اور عقلمندی پیدا ہوجائے توا سے تجارت اور کا ردبار کرنے کی اجازت دے دینا جائز ہے۔ اس لیے کہ ابتلاء یعنی پرکھ کی یہی صورت ہے کہ مال کی حفاظت اور مالی تصرنات میں اس کے علم اور سمجھ کی جانچ کی جائیا ور اس کی حالت معلوم کی جائے اور جب اسے اس طرح کے کام کے لیے کہاجائے گا تو گویا اسے تجارت کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم بچے کو تجارت وغیرہ کرنے کی اجازت دینے کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنفیہ۔ ابویوسف، محمد، زفر، حسن بن زیادہ اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر نابا (رح) لغ میں خریدوفروخت کی سوجھ بوجھ ہے تو باپ کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے تجارت کرنے کی اجازت دے دے۔- اسی طرح باپ کی طرف سے مقررکردہ وصی یا باپ کا وصی نہ ہونے کی صورت میں دادا کی طرف سے مقررکردہ وصی بھی اس قسم کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس نابالغ کی حیثیت اس غلام کی طرح ہوگی جسے آقا کی طرف سے تجارت وغیرہ کرنے کی اجازت مل گئی ہو، ابن القاسم نے امام مالک کی طرف سے کہا ہے کہ میرے خیال میں بچے کے باپ اور دصی کی طرف سے تجار ت کی اجازت مل جانا جائز نہیں ہے اور اگر اس سلسلے میں اس پر قرض چڑھ جائے تو بچے کے ذمے کسی قسم کی کوئی رقم عائد نہیں ہوگی۔ ربیع نے اپنی کتاب میں اقرار کے باب میں امام شافعی سے روایت نقل کی ہے کہ بچہ اگر اللہ یا کسی انسان کے حق یا کسی مالی یا غیر مالی حق کا اقرارکرے گا تو اس کا یہ اقرار ساقط ہوگا خواہ اسے باپ یا کسی ولی یاحاکم کی طرف سے تجارت کی اجازت ملی ہوحاکم کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچے کو اس کی اجازت دے دے اگر اس نے ایسا کرلیا توحاکم کی طرف سے بچے کا اقرارساقط سمجھا جائے گا اسی طرح اس کی خریدوفروخت بھی منسوخ سمجھی جائے گی۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت، تجارت کے لیئے اسے اجازت دے دینے کے جو ارپردلالت کررہا ہے۔ اس لیے کہ قول باری ہے کہ (وابتلوالیتامی) ابتلاء کا مفہوم یہی ہے کہ ان کی عقلمندی، ان کی دینداری اور تصرفات میں ان کے جزم واحتیاط کی آزمائش کی جائے۔ اس لفظ کا مفہوم ان تمام وجوہ کے لیے عام ہے اور جب لفظ میں عموم کا احتمال ہو تو اس کے خلاف چلتے ہوئے کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس آزمائش کو کسی کے لیے مخصوص کردے۔ بیع وشراء میں اس کی سوجھ بوجھ، نیز اپنے معاملات کو قابوں میں رکھنے کی صلاحیت اور اپنے مال کی حفاظت کے سلسلے میں اس کے احوال کی پرکھ۔ صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ اسے تجارت کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ اب جس شخص نے ابتلاء کے مفہوم کو صرف گفتگو کے ذریعے عقلی پرکھ تک محدودرکھا ہے اور تجارت میں اس کی کارکردگی اور مال کی حفاظت وغیرہ کا لحاظ نہیں کیا اس نے گویا دلیل کے بغیر لفظ کے عموم کو خاص کردیا۔- اگریہ کہاجائے کہ ترتیب تلاوت میں قول باری (فان …

7

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حقوق - قول باری ہے (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مماترک الوالدان والاقربون مماقل منہ اوکثرنصیبا مفروضا۔ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو اورعورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو، خواہ تھوڑاہویابہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے) ۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ جملہ عموم اور اجمال دونوں پر مشتمل ہے۔ عموم اس لیے کہ اس میں مردوں اور عورتوں دونوں کا ذک رہے۔ نیز قول باری ہے (مماترک الوالدان والاقربون) والدین اور رشتہ داروں سے مردوں اور عورتوں کی میراث کے ایجاب پر یہ عموم ہے اس لحاظ سے یہ جملہ ذوی الارحام کی میراث کے اثبات پر بھی دلالت کررہا ہے۔ اس لیے کہ پھوپھیوں خالاؤں ماموؤں اور نواسے نواسیوں کو رشتہ داروں میں شمارکرناکسی کے لیے ممتنع نہیں ہے۔ اس لیے ظاہر آیت کی بناپران کی میراث کا اثبات واجب ہوگیا۔ لیکن چو کہ قول باری (نصیبا) مجمل ہے اور آیت میں اس کی مقدارکاذکر نہیں ہے۔ اس لیے وقت تک اس کے حکم پر عمل ممتنع ہوگیا۔ جب تک کسی اور آیت کے ذریعے اس کے اجمال کی تفصیل اور بیان کا دردو نہیں ہوجاتا تاہم ظاہر آیت سے ذوی الارحام کی میراث کے اثبات کے لیے استدلال کی گنجائش ہے۔ اس کی مثال یہ قول یہ باری ہے (خذمن اموالھم صدقۃ، ان کے اموال سے صدقہ وصول کریں نیز (انفقوامن طیبات ماکسبتم، ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کروجوتم نے کمائے ہیں) نیز (واتواحقہ یوم حصادہ، اور فصل کی کٹائی کے دن اللہ کا حق اداکرو) اس فقرے کو ماقبل پر عطف کیا گیا ہے جس میں کھیتوں کی پیدادار اورپھولں کا ذکر ہے یہ الفاظ عموم اور مجمل دونوں پر مشتمل ہیں۔ عموم کے لفظ کے تحت واقع اصناف اموال کے متعلق جن میں اللہ کا حق واجب ہے جب ہمارے درمیان آراء کا اختلاف ہوجائے گا تو اس صورت میں اس کے عموم سے استدلال کرنے کی راہ میں لفظ کا اجمال کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا اگرچہ واجب مقدار کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف آراء کی صورت میں مجمل لفظ سے استدلال درست نہیں ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح آیت زیربحث میں بھی جب میراث کے مستحق وارثین کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوجائے تو اس صورت میں قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدن والاقربون) کے عموم سے استزلال کی گنجائش ہوگی، لیکن جب ان میں سے ہر ایک کے حصے کے متعلق اختلاف ہوگاتو پھر اس صورت میں ہم کسی اور آیت سے اس اجمال کے بیان کے ذریعے استدلال کریں گے۔- اگریہ کہاجائے کہ قول باری ہے (نصیبامفروضا) اور چونکہ ذوی الارحام کے لیے حصے مقرر نہیں ہیں۔ تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہی نہیں ہیں اور نہ ہی مراد ہیں۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ آپ کی مذکورہ بالادلیل انہیں آیت کے حکم سے اور آیت میں مراد ہونے سے خارج نہیں کرسکتی ، اس لیے کہ ان کی میراث کو واجب کرنے والوں کے نزدیک ان کے لیے آیت سے جو چیزواجب ہوتی ہے وہ ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقررحصہ ہے اور یہ حصہ اس طرح معلوم ہے جیسا کہ ذوی الفروض کے حصص معلوم ہیں اس لحاظ سے ذوی الفروض اور ذوی الارحام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو صرف یہ بیان فرمادیا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقررحصہ ہے۔ لیکن آیت میں اس کی مقداربیان نہیں ہوئی ہے۔ اس بناپر آیت اس بات کا ارشارہ دے رہی ہے کہ آئندہ آیتوں میں اس کا بیان اور اس کی مقدار کا ذکرآنے والا ہے۔ پھر جس طرح والدین اولاد اور دیگر ذوالفروض کے حصوں کے سلسلے بیان اور تفصیل کا دردوہوگیا، جس کی صورت یہ ہے کہ ان میں سے بعض کا ذکر نص قرآنی میں ہے، بعض کا احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں، اور بعض کا اثبات اجماع امت کی بناپر اوربعض کا قیاس کی بناپ رہے، ٹھیک اسی طرح ذوالارحام کے حصوں کا بیان بھی واردہوا ہے۔ جس کی صورت یہ …

8

وَإِذَا حَضَرَ ٱلْقِسْمَةَ أُو۟لُوا۟ ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينُ فَٱرْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

تقسیم میراث کے موقع پر رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جائے۔- قول باری ہے (واذاحضرالقسمۃ اولوالقربی والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ، اور جب ترکہ کی تقسیم کی موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مساکین بھی آجائیں توا نہیں بھی اس میں سے کوئی حصہ دو ) سعیدبن المسیب، ابومالک اور ابوصالح کا قول ہے کہ یہ حکم آیت میراث کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، عطاء حسن، شعبی، ابراہیم ، مجاہد، اور زھری کا قول ہے کہ یہ محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت، یہ بات آیت میراث کے نزول سے پہلے کی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے آیت میراث میں فرائض نازل فرماکرہرحق دارکواس کا حق دے دیا اور مرنے والا اگر کسی کو کچھ دینے کے لیے کہ جائے توا سے صدقہ قراردیاگیا ہے۔- حضرت ابن عباس سے منقول یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ میراث تقسیم کرتے وقت زیر بحث آیت میں مذکورہ حکم واجب تھا پھر آیت میراث کی بناپر منسوخ ہوگیا، البتہ میت کی وصیت کی صورت میں آیت میں درج شدہ افراد کیلئے ترکہ، میں حصہ بحال رکھاگیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے عکرمہ کی روایت کے مطابق آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ میراث کی تقسیم کے متعلق ہے کہ تقسیم کے وقت مذکورہ بالا افراد کو بھی کچھ حصہ دے دیاجائے۔ اگر ترکہ میں اتنی گنجائش نہ ہوتوان سے معذرت کرلی جائے۔ قول باری (وقولوالھم قولا معروفا، اور ان سے بھلی بات کہوکایہی مفہوم ہے۔ حجاج نے ابواسحق سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) اور عبدالرحمن بن ابی بکر تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں میں سے جو موجود ہوتا، اسے ضرور کچھ دیتے۔ قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا کہ یہ آیت محکم ہے۔ اشعث نے ابن سیرین سے انہوں نے حمیدبن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ میرے والد کو کسی میراث کا سرپرست مقرر کیا گیا۔ انہوں نے بکری ذبح کرکے کھاناتیار کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب اس میراث کی تقسیم عمل میں آئی تو سب کو وہ کھاناکھلایاپھرمذکورہ بالاآیت کی تلاوت فرمائی۔ احمد بن سیرین نے عبیدہ سے بھی اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں ان کا یہ قول بھی درج ہے کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو اس موقع پر ذبح کی جانے والی بکری میرے مال سے خرید ی جاتی، وہ بکری اس یتیم کے مال میں سے تھی جس کے یہ سرپرست اور ولی مقرر ہوئے تھے۔- ہشیم نے ابوبشر سے اور انہوں نے سعید بن جبیر سے اس آیت کے متعلق روایت کی ہے کہ لوگ اس آیت کے بارے میں میں کوتاہ فہمی کا ثبوت دیتے ہیں۔ دراصل اس کے دوحصے ہیں۔ ایک حصے کی زبان تو یہ کہتی ہے کہ وارث ہے اور دوسرے کی زبان کہتی ہے کہ وارث نہیں ہے پہلے حصے انہیں حصہ دینے اور کچھ عطاء کرنے کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں انہیں بھلی بات کہہ کرمعذر ت کرلینے کا حکم دیاگیا ہے۔ وہ ان سے یوں کہے کہ ایسے لوگوں کا مال ہے جو یہاں موجود نہیں ہیں یا یہ یتیموں کا مال ہے جو ابھی نابالغ ہیں، تمہارا اگرچہ اس میں حق ہے۔ لیکن ہمیں اس میں سے تمہیں کچھ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ قول معروف کا یہی مفہوم ہے۔ سعید نے مزید کہا کہ یہ آیت محکم ہے۔ منسوخ نہیں ہے ۔ اس طرح سعید بن جبیرنے قول باری (فارزقوھم) کو اس پر محمول کیا کہ میراث میں ان کے حصے انہیں دے دیئے جائیں گے اور دوسروں کو، قول معروف، کے ذریعے رخصت کردیاجائے گا، اس طرح سعید بن جبیر کے نزدیک اس آیت سے معلوم ہونے والی بات یہ ہے۔ کہ اگر تقسیم میراث کے وقت بعض ورثاء آجائیں اور بعض غائب ہوں یا ابھی نابالغ ہوں تو اس صورت میں موجود ورثاء کو ان کے حصے دے دیئے جائیں اور غیرموجودیانابالغ وارث کا حصہ روک لیا جائے۔- اگریہ تاویل درست ہے تو پھر یہ ان لوگوں کے لیئے حجت ہے جو ودیعت کے متعلق اس کے قائل ہیں۔ اگر ودیعت دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک غائب ہوجائے تو موجودشخص …

9

وَلْيَخْشَ ٱلَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا۟ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةًۭ ضِعَٰفًا خَافُوا۟ عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْيَقُولُوا۟ قَوْلًۭا سَدِيدًا

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں

معاشرتی معاملات کی بنیاد وسیع ترقومی مفاد کے اصولوں پر ہونی چاہیئے - قول باری ہے (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافاخافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولواقولا سدیدا، لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر خوداپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تومرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں) اس آیت کی تاویل میں سلف کے اندراختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت کی بناپرنیز سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت قریب آجائے، اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اس سے کہے، انہیں یعنی رشتہ داروں کو بھی کچھ دے جاؤ، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی کرو، اگر یہ لوگ خودوصیت کرنے والے ہوتے تو اپنی اولاد کے لیے سب کچھ بچالینا زیادہ پسند کرتے۔ حبیب بن اوس کہتے ہیں میں نے مقسم سے اس تفسیر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تفسیر اس طرح نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت آجائے۔ اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اسے یہ مشورہ دے کہ، اللہ کا خوف کرو اوراپنامال اپنے پاس رہنے دور کسی اور کونہ دو ، اگر مشورہ دینے والے خود اس کے رشتہ دارہوتے توا نہیں یہ بات زیادہ پسند ہوتی۔ کہ وہ ان کے متعلق وصیت کرجائے پہلے گروہ نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس قریب المرگ انسان کے پاس موجودلوگوں کوا سے وصیت پر ابھارنے سے روک دیاگیا ہے جبکہ مقسم نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ آیت میں ترک وصیت کا مشورہ دینے والے کو اس قسم کے مشورے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت میں حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قریب الموت شخص - اپنے مال کی تہائی سے زائد وصیت کا مشورہ دیتا ہے۔- حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کے مطابق یتیم کے مال کی سرپرستی اور حفاظت کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے مال میں وہی کچھ کریں اور اس کے متعلق وہی کچھ کہیں جو وہ اپنی موت کے بعد پیچھے رہ جانے والے یتیموں اور بے بس اولاد کے مال میں کرنا اور کہنا پسند کرتے ہوں۔ یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ آیت کی سلف سے جتنی تاویلات مروی ہیں وہ سب مراد ہیں۔ البتہ ایک تاویل جس کی رو سے وصیت کا مشورہ اپنے سے روکا گیا ہے اس وقت درست ہوگی جب مشورہ دینے والے کا ارادہ ورثاء کو نقصان پہنچانے یا ان لوگوں کو محروم رکھنے کا ہو جن کے بارے میں مرنے والاوصیت کرنا چاہتا تھا یعنی مشورہ دینے والے کی یہ حرکت ایسی ہو کہ اگر وہ خود ان کی جگہ ہوتاتو اسے پسندنہ کرتا۔ وہ اس طرح کہ مرض موت میں مبتلا شخص کا مال بہت کم مقدار میں ہو اور اس کے ورثاء اس کے ورثاء اس کے بےبس اور کمزوراولاد ہو۔ اب یہ مشیر اسے مال کی پوری ایک تہائی کی وصیت کا مشورہ دے، حالانکہ اگر وہ خود اس کی جگہ ہوتاتو اپنے بےبس ، ورثاء کے خیال سے کبھی ایسا کرنے پر رضامند نہ ہوتا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کے کمزور اوربے بس ورثاء ہوں اور اس کا مال بھی کوئی زیادہ نہ ہو تو اس کے لیے یہی مستحب ہے کہ کسی قسم کی وصیت نہ کرے اور سارامال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑجائے اور اگر اسے وصیت کرنا ہی ہوتوتہائی سے کم کی وصیت کرجائے۔ حضرت سعد (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب یہ عرض کیا تھا کہ میں اپنا مال وصیت میں دے دینا چاہتاہوں تو آپ انہیں روکتے رہے۔ حتی کہ وہ تہال مال پر آگئے اس پر آپ نے فرمایا (الثلث والثلث کثیر، انک ان تدع ورثتک اغنیاء خیرمن ان تدعھم عالۃ یتکفقون الناس، تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی بہت بھی بہت زیادہ ہے تم اگر اپنے ورثاء کو مالدارچھوڑجاؤتویہ اس سے بہت رہے کہ انہیں تنگدستی میں مبتلا کر جاؤ کہ پھر وہ اپنے گذارے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھلاتے پھریں۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ …

10

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلْيَتَٰمَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ نَارًۭا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًۭا

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

اسلام یتیم کی اصلاح اور خیرکاطالب ہے - قول باری ہے (ان الذین یاکلون اموالیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونھم ناراوسیصلون سعیرا، جو لوگ ازراہ ظلم یتیموں کا مال ہضم کرجاتے ہیں۔ وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔ ایسے لوگ جلدہی دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے) حضرت ابن عباس (رض) سعیدبن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جن لوگوں کے زیرسایہ یتیم پرورش پا رہے تھے، انہوں نے ان یتیموں کا کھاناپینا الگ کردیاجس کے نتیجے میں کھانا خراب ہوجاتا لیکن وہ اسے ہاتھ نہیں لگاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (وان تخالطوھمفاخوانکم واللہ یعلم المفسدمن المصلح، اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملالوتویہ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کس کی نیت میں فساد ہے اور اصلاح کا خواستگارکون ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اصلاح اور خیرطلبی کی بنیادپرا نہیں اپنے ساتھ ملالینے کی اجازت دے دی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص کر اکل یعنی خوروفی اشیاء کا ذکر کیا ہے جبکہ یتیموں کے تمام اموال کا جن میں غیر اشیائے خوردنی بھی شامل ہیں۔ اتلاف اسی طرح ممنوع ہے جس طرح خوردنی اشیاء کا یہاں خصوصیت کے ساتھ اکل کا ذکر اس لیے ہوا کہ کھانے پینے کا عمل ہی وہ سب سے بڑامقصد ہے۔ جس کی خاطر لوگ مال ودولت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔- ہم نے اس نکتے کی وضاحت سابقہ سطور میں کردی ہے۔ قول باری (انمایاکلون فی بطونھم نارا) کے متعلق مفسرسدی سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کے منہ کان، ناک اورآ نکھوں سے آگ کے شعلے نکلیں گے جو شخص بھی دیکھے گا وہ فورا پہچان لے گا کہ یہ یتیم کا مال ہضم کرنے والا شخص ہے۔ ایک قول ہے کہ یہ بار بطورمثل بیان کی گئی ہے اس لیے کہ ایسے لوگ اس گناہ کی وجہ سے جہنم میں پہنچ جائیں گے اور پھر ان کے پیٹ آگ سے بھرجائیں گے۔- بعض برخود، غلط، جاہل قسم کے، اہل حدیث، اس کے قائل ہیں کہ قول باری (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما، منسوخ ہوگیا ہے اور اس کاناسخ یہ قول باری ہے (وان تخالطوھم فاخوانکم، ان میں ایک نے، التاسخ والمنسوخ، کے بیان کے سلسلے میں یہ بات اس روایت کی بنیادپرثابت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے یتیموں کا کھاناپیناالگ کرویاحتی کہ قول باری (وان تخالطوھم فاخوانکم) نازل ہوا۔ قائل کا یہ قول، نسخ کے معنی، اس کے جواز اور عدم جواز کے متعلق اس کی جہالت پر دلالت کرتا ہے۔ اہل اسلام کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ازراہ ظلم یتیم کا مال کھانا ممنوع ہے اور آیت میں مذکورہ وعید ایسے شخص کے لیے ثابت ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ آیایہ وعیدآخرت میں اسے ضروربالضرورلاحق ہوگی یابخشش کی گنجائش ہوگی۔ اس جیسی صورت میں کوئی عقلمندانسان نسخ کے جو ازکاقائل نہیں ہوسکتا ۔ اس شخص کو اس بات کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ظلم کی اباحت کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہوتی، اس لیے اس کی ممانعت کا منسوخ ہوجانا بھی درست نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام میں سے جن حضرات نے اپنے اپنے زیرکفالت یتیموں کا کھانا پینا الگ کردیاتھاتو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں یہ خوف پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں بیخبر ی میں ان کا مال استحقاق کے بغیر کھانہ لیں اور پھر ان پر ظالم ہونے کا دھبہ لگ جائے اور آیت میں مذکورہ وعیدکانشانہ بن جائیں۔ اس لیے انہوں نے احتیاطی تدبیر کے طورپریہ قدم اٹھایا تھا۔ پھر جب آیت (فان تخالطوھم فاخوالکم) نازل ہوئی تواصلاح اور خیرخواہی کے ارادے کی شرط کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کے متعلق ان کا خوف زائل ہوگیا۔ اس طرزعمل میں ازراہ ظلم یتیم کا مال ہضم کرنے کی کوئی اباحت موجود نہیں کہ اس کی بناپریہ آیت قول باری (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما، کے لیے ناسخ بن جائے۔ واللہ اعلم۔- باب الفرائض - اسلام میں ہر فرد کے حقوق متعین ہیں - ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اہل جاہلیت دو باتوں کی بنیادپر ایک دوسرے …

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.