Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 11–20 of 176

11

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءًۭ فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةًۭ فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌۭ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌۭ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًۭا ۚ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

اسلام میں کسی حقیقی وارث کو نظرانداز نہیں کیا جاتا - قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں اس مقررومتعین حصے کا بیان ہے جو قول باری (للرجال نصیب) تاقول باری (نصیبامفروضا) میں مذکور ہے۔ نصیب مفروض، وہ حصہ ہے جس کی مقدارقول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں بیان ہوئی۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ آپ نے آیت (کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت ان ترک خیرن الوصیۃ للوالدین والاقربین، تم پر والدین اوراقرباء کے لیے وصیت کرنا فرض کردیا گیا جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے اگر وہ مال چھوڑکرجارہاہو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس حکم کو قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون) مجاہد کا قول ہے کہ میراث ولد کو ملتی تھی اور والدین اوراقرباء کے لیے وصیت ہوتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں جو چاہا منسوخ کردیا اور بیٹے کے لیے دو بیٹیوں کے حصوں کے برابر حصہ مقرر کردیا۔ اور بیٹا بیٹی کی موجودگی میں والدین میں سے ہر ایک کا چھٹاحصہ مقرر کردیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ دستوریہ تھا کہ جب کوئی شخص وفات پاجاتا تو اس کی بیوہ اسی گھر میں پورے ایک سال مدت گذارتی اس دوران اسے مرحوم شوہر کے ترکے میں سے نان ونفقہ دیاجاتا۔ قول باری (والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم عا الی الحول غیراخراج، تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور ان کے پیچھے ان کی بیویاں رہ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک فائدہ اٹھانے کی وصیت کرجائیں اور انہیں وہاں سے نکالانہ جائے) کا یہی مفہوم ہے۔ پھر بیویوں کے لیے ترکہ میں چوتھا یا آٹھواں حصہ مقررکرکے یہ حکم منسوخ کردیا گیا اوقول باری (واولوالارحام بعضھم اولی ببعض) کے ذریعے دوستی کے معاہدے، منہ بولا بیٹا بنانے اور ہجرت کرنے کی بناپر ایک دوسرے لے وارث ہونے کا حکم منسوخ ہوگیا جس کا ہم پہلے ذکرکر آئے ہیں۔ اس طرح قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) غیہ منسوخ محکم آیت ہے۔ یہ آیت میراث کے درج بالا اسباب کے حکم کے نسخ کی موجب ہے۔ اس لیے کہ اس نے میراث کا حق داران اقرباء کو قراردیا۔ جن کا ذکر اس میں آیا ہے۔ اس کے بعدان اسباب کی وجہ سے وارث قرارپانے والوں کے لیے کچھ نہیں بچا اور یہی بات ان کے حقوق کو ساقط کرنے کی موجب ہے۔- محمد بن عبداللہ بن عقیل نے حضرت جابربن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری عورت اپنی دوبیٹیاں لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئی اور عرض کیا یہ ثابت بن قیس کی بیٹیاں ہیں جو آپ کی ہمراہی میں معرکہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ ان کے چچانے ان کے لیے کوئی مال رہنے نہیں دیا اور سب کچھ اپنے قبضے میں کرلیا۔ حضور، اب آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ ان دونوں کے ہاتھ پیلے اس وقت ہوسکیں گے جب کہ ان کے پاس مال ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا، اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نساء نازل فرمائی جس کا ایک جز (یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظا الانثیین) کی آیت ہے۔ آپ نے اس عورت اور اس کے ویورکوبلانے کا حکم دیا۔ آپ نے بچیوں کے چچاکوحکم دیا کہ اپنے مرحوم بھائی کے نز کہ میں سے دوتہائی بچیوں کو اورآٹھواں حصہ ان کی ماں کودے دے اور باقی ماندہ مال خودرکھ لے۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ روایت کئی معانی پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق چچا میراث کا مستحق ہوگیا تھا اور بیٹیاں محروم رہ گئی تھیں، کیونکہ اہل جاہلیت جنگ کرنے کے قابل، مردوں کو وراثت کا مستحق سمجھتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو اس کا اہل قرار نہیں دیتے تھے۔ عورت نے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے اس طریق کارپرنکیر نہیں کی بلکہ اسے بحالہ باقی رکھتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ پھر جب آیت کا نزول ہوگیا تو آپ نے چچاکوحکم دیا کہ وہ بچیوں اور ان کی ماں …

12

۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌۭ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌۭ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌۭ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمْرَأَةٌۭ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌۭ فَلِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوٓا۟ أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصَىٰ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّۢ ۚ وَصِيَّةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌۭ

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

قول باری ہے (ولھن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولدفان کان لکم ولدفلھن الثمن مماترکتم، اگر تم صاحب اولاد نہیں ہوتوتمھاری بیویوں کو تمھارے ترکے کا چوتھائی ملے گا۔ اور اگر تم صاحب اولاد ہوتوا نہیں تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ ) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ایک شخص کی چارہویاں ہوگی تو وہ آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی۔ اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر ماں باپ ہوں توشوہر اور بیوی کے ہوتے ہوئے انہیں کتنا حصہ ملے گا۔- حضرت علی (رض) حضرت عمر (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان (رض) اور حضرت زیدبن ثابت (رض) کا قول ہے کہ بیوی کو چوتھائی حصہ ماں کو باقی ماندہ کا تہائی اور باقی ترکہ باپ کو مل جائے گا۔ شوہر کی صورت میں اسے نصف، ماں کو باقی ماندہ کا تہائی اور بقیہ ترکہ باپ کو مل جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے کہ ان صورتوں میں بیوی اور شوہرکوان کا مقررہ حصہ ملے گا۔ ماں کو مکمل ایک تہائی حصہ ملے گا اور باقی ماندہ ترکہ باپ کو جائے گا۔ آپ کا قول ہے کہ مجھے کتاب اللہ میں باقی ماندہ کا ثلث یعنی تہائی کہیں نظر نہیں آتا۔ ابن سیرین سے بھی حضرت ابن عباس (رض) کے قول کی طرحروایت منقول ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ابن سیرین کے ساتھ والدین کی صورت میں حضرت ابن عباس (رض) کے ہم مسلک ہیں۔ لیکن شوہر کے ساتھ والدین کی صورت میں ان کے ہم مسلک نہیں ہیں۔ اس لیے کہ وہ ماں کو باپ پر فضیلت دیتے ہیں۔ تاہم صحابہ کرام ان کے بعد آنے والے تابعین عظام اور فقہائے امصارپہلے قول کے قائل ہیں۔ ان سے اختلاف رکھنے والے حضرت ابن عباس اور ابن سیرین کا قول ہم نے نقل کردیا ہے۔- ظاہر قرآن کی دلالت بھی اسی پر ہورہی ہے۔ اس لیے کہ ارشادباری ہے (فان لم یکن لہ ولدو ورثہ ابواہ فلامہ الثلث) اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں ماں اور باپ کے درمیان میراث کے تین حصے کردیئے، ایک حصہ ماں کا اور دوحصے باپ کے جس طرح کہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان اس کے تین حصے کردیئے چناچہ ارشاد باری ہے (للذذکرمثل حظ الانثیین) یہی صورت بھائی اور بہن کے درمیان میراث کی تقسیم کی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا (وان کانوا اخوۃ رجالاونساء فللذکرمثل حظ الانثیین) جب شوہر اوربیوی کے حصوں کا تعین ہوگیا اور انہوں نے اپنے اپنے حصے لے لیئے اور پھر باقی ماندہ کہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان اسی نسبت سے تقسیم ہوگیا جس نسبت سے شوہر اوربیوی کے دخول سے پہلے ہوتا نیز اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہوتی تو بھی ان کے درمیان ترکے کی تقسیم اسی نسبت سے عمل میں آتی تو ان تمام باتوں سے یہ ضروری ہوگیا، کہ شوہر اور بیوی کا اپنا اپنا مقررہ حصہ حاصل کرلیناباقی ماندہ ترکے کو ماں باپ کے درمیان اسی نسبت سے تقسیم کرنے کا موجب بن گیا، جس کے یہ دونوں شوہر اوربیوی کے دخول سے پہلے مستحق تھے۔ یعنی باقی ماندہ ترکے کے تین حصے کرکے ایک حصہ ماں کو اوردوحصے باپ کو دیئے جائیں، ایک اور پہلو سے دیکھیں تو ماں باپ دونوں کی حیثیت ان دو شخصوں کی طرح ہے۔ جو کسی مال میں شراکت رکھتے ہوں۔ اگر اس مال کا کوئی استحقاق کی بناپر کسی تیسیرے کو مل جائے گا تو باقی ماندہ مال ان دونوں شریکوں کے درمیان اسی نسبت سے تقسیم ہوجائے گا جس کا وہ شروع سے استحقاق رکھتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔- بیٹے کی اولاد کی میراث - شریعت اسلامی ذاتی ملکیت کے انکار کی نفی کرتی ہے - ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) سے صلبی اولاد مراد ہے اور اگر صلبی اولادنہ ہوتوپھربیٹے کی اولاد مراد ہوگی۔ اس لیے کہ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص پوتے پوتیاں چھوڑکروفات پاجائے گا تو اس کا ترکہ آیت کے حکم مطابق ان میں ہر پوتے کو دو اورہرپوتی کو ایک کی نسبت سے تقسیم کردیاجائے گا۔ اسی طرح اگر میت کی ایک پوتی ہوگی توا سے نصف …

13

تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) - اے ابن آدم دوچیزیں ایسی ہیں جن میں سے کسی ایک پر بھی تجھے اختیار حاصل نہیں۔ ایک تو یہ کہ میں نے اس وقت تیرے مال تیرے لیے ایک حصہ رہنے دیا۔ جب میں نے تجھے پاک صاف کرنے کے لیے حلق میں تیری سانس کی آمدورفت کی جگہ کو اپنی گرفت میں کرلیا یعنی تیری روح قبض کرلی اور دوسری یہ کہ تیری وفات کے بعد میروں بندوں کی تیرے لیے دعائیں تجھ تک پہنچتی رہتی ہیں۔ )- اس روایت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ انسان کی وفات کے وقت اس کے مال کا ایک حصہ اس کا ہوتا ہے۔ سارامال اس کا نہیں ہوتا۔ یعنی وہ مال کے ایک حصے (تہائی) کا مالک ہوتا ہے جس میں وہ صدقہ یاوصیت کرسکتا ہے۔ سارے مال کا نہیں کرسکتا۔- ہمیں محمد بن احمد بن شیبہ نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن صالح بن النطاح نے، انہیں عثمان نے کہ میں نے طلحہ بن عمرو سے سنا کہ انہیں عطاء نے حضرت ابوہر (رض) پرہ سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ان اللہ اعطاکم ثلث اموالکم فی اخواعمارکم زیادۃ فی اعمالم، اللہ تعالیٰ نے آخری عمر میں تمہیں تمہارے تہائی مال کا مالک بنادیا ہے۔ اور یہ تمہارے اعمال میں ایک زائد چیزکا اضافہ ہے۔ )- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ وہ روایات جو وصیت کو تہائی مال تک محدودرکھنے کی موجب ہیں ہمارے تردیک تواترکادرجہ رکھتی ہیں اور یہ تواترموجب علم ہے کیونکہاہل اسلام نے ان روایات کو قبول کیا ہے۔ اور یہ آیت وصیت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مراد کو بیان کریت ہیں کہ وصیت تہائی مال تک محدود ہے۔- قول باری (من بعد وصیۃ یوصی بھا اؤدین) کی اس بات پر دلالت ہورہی ہے۔ کہ جس شخص کے ذمے کسی کا قرض نہ ہو اور اس نے وصیت بھی نہ کی ہوتوا س کا سارامال اس کے ورثاء کو مل جائے گا نیز یہ کہ اگر اس پر زندگی میں حج فرض ہوچکاہویاز کو اۃ عائد ہوچکی ہو تو ورثاء پر ان کی ادائیگی واجب نہیں ہوگی ہاں اگر وہ ان کی ادائیگی کی وصیت کرجائے تو ورثاء کے لیے تہائی مال کے اندرایساکرناضروری ہوگا۔ کفارات اور نذورکا بھی یہی حکم ہے۔- اگریہ کہاجائے کہ حج ایک دین ہے۔ اسی طرح مال میں عائدہونے والاہرفرض دین ہوتا ہے اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ خثعم کی اس خاتون کو جس نے آپ سے اپنے باپ پر فرض ہونے والے حج کو اس کی طرف سے ادا کرنے کے متعلق پوچھا تھا۔ فرمایا تھا (أرأیتلوکان علی ابیک دین فقضیۃ اکان یجزئی، تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تمھارے باپ پر قرض ہوتا اور تم اسے اداکردیتیں۔- توآیا اس کی طرف سے ادانہ ہوجاتا) ۔- اس پر خاتون نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا ندین اللہ احق بالقضاء ، تو پھر اللہ کا دین اداکرنازیادہ ضروری ہے) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حج کو دین اللہ، کا نام دیا اور اس اسم یعنی دین کو ایک قید یعنی اللہ کے ساتھ مقید کرکے بیان فرمایا اس لیے اس مقید اسم میں اطلاق یعنی مطلق دین شامل نہیں ہوگا۔- جبکہ قول باری (من بعدوصیۃ یوصیبھا اؤدین) کا تقاضایہ ہے کہ ترکے کی تقسیم کی ابتداء اس چیز سے کی جائے جو علی الاطلاقدین کہلاتی ہے اس لیے اس کے تحت وہ دین نہیں آئے جسے صرف مقیدصورت میں دین کا نام دیاجاتا ہے۔- اس کی وجہ یہ ہے کہ لغت اور شرع میں بہت سے اسماء مطلق ہوتے ہیں اور بہت سے مقیدجس کی بناپر مطلق کو ان ہی چیزوں پر محمول کیا جاتا ہے جن پر ایک اسم علی الاطلاق واقع ہوتا ہے ہماری اس وضاحت کی بناپرجب آیت ان قرضوں کو شامل نہیں جو حق اللہ ہیں تو قول باری (من بعد وصیۃ یوصی بھا آؤدین) کا اقتضاء یہ ہے کہ جب مرنے والے نے کوئی وصیت نہیں کی اور اس کے ذمے کسی کا قرض بھی نہیں ہے۔ تو اس صورت میں اس کے ورثاء اس کے تمام ترکے کے مستحق ہوں گے۔- حضرت سعد (رض) کی گذشتہ روایت بھی اس پر دلالت کررہی ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے پوچھا تھا کہ آیامیں اپنے سارے مال کا صدقہ کرسکتا ہوں ؟ ایک …

14

وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَٰلِدًۭا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا

Explained together with ayah 13

15

وَٱلَّٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةًۭ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًۭا

مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے

زناکاروں کی حدکابیان - قول باری ہے (واللاتی یاتین الفاحشۃ من نساء کم فاشتشھدواعلیھن اربعۃ منکم ، تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو) تاآخر آیت۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ سلف میں اس بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں زناکار عورت کی جو سزابیان کی گئی ہے یعنی تاحکم ثانی اسے قید میں رکھاجائے یہ ابتدائی حکم تھا جو آغاز اسلام کے وقت دیا گیا تھا۔ اور اب یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔- ہمیں جعفربن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان لے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء الخراسانی سے ان دونوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ قول باری (واللاتی یاتین الفاحشۃ من نساء کم) تاقول باری (سبیلا) نیز مطلقہ عورتوں کے متعلق قول باری) (ولاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الاان یاتین بفاحشۃ مبینۃ، دونوں سورة نور کے نزول سے پہلے کوڑے لگانے کے حکم پر مشتمل تھے۔- لیکن انہیں آیت (الزانیۃ والزانی فاجلدواکل واحد منھما مائۃ، جلدۃ، زناکار عورت اور زناکارمردان میں سے ہر ایک کو سوکوڑے لگاؤ) نے منسوخ کردیا اور آیت میں جس سبیل کا ذک رہے وہ زناکارعورتوں کے لیے کوڑوں اور سنگساری کی سزائیں ہیں۔- اب آئندہ کوئی عورت بدکاری کی مرتکب پائی جائے گی توحدزنا کی شرائط پوری ہوجانے پرا سے باہرلے جاکرسنگسار کردیاجائے گا۔- جعفربن محمد بن الیمان کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبید نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت اور قول باری (والذان یاتیانھا منکم فاذوھما، اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو ) کے متعلق نقل کیا کہ عورت اگر زنا کا ارتکاب کرتی توا سے گھر میں بند کردیاجاتاحتی کہ وہیں پڑے پڑے وہ مرجاتی اور اگر مرد اس فعل قبیح کا ارتکاب کرتاتو اس کی جوتوں سے مرمت کی جاتی، سخت سست کہاجاتا اور تذلیل کی جاتی اور اس طرح اسے ایذاپہنچائی جاتی پھر یہ آیت (الزانیۃ والزانی فاجلدواکل واحد منھما مائۃ جلدۃ۔- حضرت ابن عباس (رض) نے مزید فرمایا کہ اگر یہ دونوں محصن ہوں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی بناپر اس سنگساری کی حدجاری کی جائے گی۔ یہی وہ سبیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت (حتی یتوفاھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلا، یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے) میں عورتوں کے لیے مقررکیا ہے۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ آغاز اسلام میں زناکار عورت کا حکم یہی تھا جو اس مذکورہ بالاقول باری نے واجب کردیاتھا یعنی اسے قید کی سزادی جاتی یہاں تک کہ وہ مرجاتی یا اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نکال دیتا۔ اس وقت عورت کو اس کے سوا اور کوئی سزانہ دی جاتی۔ آیت میں باکرہ اور ثیبہ کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم باکرہ اور ثیبہ دونوں قسموں کی عورتوں کے لیے عام تھا۔- قول باری (واللذان یاتیانھامنکم فاذوھما) کے متعلق حسن اور عطاء سے مروی ہے کہ اس سے مراد مرد اور عورت ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ کنوارامرد اورکنواری عورت یعنی بن بیاہاجوڑامراد ہے۔- مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراددوزانی مرد ہیں۔ اس آخری تاویل کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ درست نہیں ہے اس لیے کہ پھر یہاں لفظ کو تثنیہ کی صورت میں لانے کے کوئی معنی نہیں ہوں گے وجہ یہ ہے کہ وعدہ اور وعید کا بیان ہمیشہ جمع کے صیغے سے ہوتا ہے یا پھر ان کا ذکرواحد کے لفظ سے ہوتا ہے کیونکہ واحد کا لفظ جنس ک معنی پر دلالت کرتا ہے جو سب کو شامل ہوتا ہے۔- حسن کا قول درست معلوم ہوتا ہے۔ سدی کی تاویل میں بھی احتمال موجود ہے دونوں آیتوں کا مجموعی طورپراقتضاء یہ ہے کہ عورت کے لیے زنا کی حد میں ایذادینا اور قید میں ڈال دینا دونوں …

16

وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًا

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

قول باری (فاللذان یاتیانھامنکم فاذوھما) کنوارے جوڑے کے متعلق تھا۔ اب مذکورہ بالاآیت کے ذریعے یہ حکم منسوخ کرکے ان کے لیے کوڑوں کی سزامقررکردی گئی۔ تاہم ثیبہ عورتوں کے لیے حبس کا حکم رہاجورجم کے حکم کی بناپر منسوخ ہوگیا۔- بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان دونوں حکموں کی ناسخ حضرت عبادہ بن الصامت کی وہ حدیث ہے جس کی ہمیں جعفربن محمد نے روایت کی ہے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبیدنے، انہیں ابوالنصرنے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ الرقاشی سے انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (خذواعنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکربالیکروالثیب بالبکروالثیب بالثیب البکرتجلدوتتقی فالثیب تجلدوترجم۔- لوگو مجھ سے یہ معلوم کرلو کہ اللہ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیداکردی ہے ، کنوارا کسی کنواری کے ساتھ منہ کالاکرے اور بیاہا کسی بیاہی کے ساتھ فعل قبیح کا مرتکب ہوتوکنواری عورت کو کوڑے لگاکر جلاوطن کردیا جائے گا اور بیاہی عورت کو کوڑے لگاکرسنگسار کردیاجائے گا۔

17

إِنَّمَا ٱلتَّوْبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍۢ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

یہی بات درست ہے اس لیے حدیث کے ابتدائی الفاظ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ اسے آیت میں مذکورسبیل کا بیان تسلیم کرلیاجائے۔- اوریہ بات تو معلوم ہی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد اور حبس واذیت کے مابین کسی اور حکم کا واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ سورة نور میں کوڑوں کی سزا کے حکم پر مشتمل آیت اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اگر اس وقت تک اس کا نزول ہوچکا ہوتا ہے تو آیت زیربحث میں مذکورسبیل کے بیان کے سلسلے میں مذکورہ بالاحدیث پرا سے مقدم تسلیم کرلیاجاتا۔- نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد (خذواعنی ، قدجعل اللہ لھن سبیلا، کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حبس اور اذیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی وہ حدیث ہے جس کے راوی حضرت عبادہ بن الصامت (رض) ہیں اور یہ کہ کوڑوں کے حکم پر مشتمل آیت اس کے بعد نازل ہوئی۔- اس میں سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کے جواز کی دلیل بھی موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نص سے حبس اور اذیت کی جو سزاواجب کردی تھی وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مذکورہ بالاقول ہے منسوخ ہوگئی ۔- اگریہ کہاجائے کہ قول باری (واللذانیاتیانھامنکم) نیززیربحث دونوں آیتوں میں مذکورحبس اور اذیت کا تعلق بن بیا ہے جوڑے کے ساتھ تھا بیا ہے جوڑے کے ساتھ نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختاف رائے نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ گھر میں تاموت بندرکھنے کا حکم بیاہی عورت کے لیے تھا۔ صرف سدی کا یہ قول تھا کہ اذیت پہنچانے کی سزابن بیا ہے جوڑے کے ساتھ مخصوص ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت حبس میں مذکورہ سبیل کے متعلق جو فرمایا ہے۔ وہ لامحالہ ثیبہ یعنی بیاہی عورت کے بارے میں ہے۔- اس لیے یہ ضروری ہوگیا کہ یہ حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (الثیب بالثیب الجلد والرجم ) کی پر منسوخ قراردیاجائے۔ اس طرح حبس کی سزاکاحکم بہرصورت غیر قران یعنی احادیث کی بناء منسوخ ہونے سے بچ نہ سکا۔ ان احادیث میں محصن کوسنگسار کردینے کا وجوب ہے۔- ان میں سے ایک حضرت عباد (رض) ہ کی روایت کردہ حدیث ہے جس کا سابقہ سطور میں ذکر کیا ہے اسی طرح حضرت عبداللہ اور حضرت عائشہ کی روایت کردہ حدیثیں ہیں۔- اس سلسلے کی ایک اور حدیث ہے جس کی روایت حضرت عثمان (رض) نے کی ہے۔ جب آپ باغیوں کے گھیرے میں تھے تو آپ نے صحابہ کرام کو اس پر گواہ بنایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے (لایحل دام امرئی مسلم الاباحدی ثلاث، کفر بعد ایمان ، وزنا بعد احصان وقتل نفس بغیرنفس ، کسی مسلمان کا خون بہانا اس وقت تک حلال نہیں جب تک اس میں ان تین باتوں میں سے ایک بات نہ پائی جائے، مسلمان ہوجانے کے بعد کفر اختیار کرلیاہو صفت احصان کے حصول کے بعد ارتکاب زناکرلیاہو، کسی کی ناحق جان لی ہو۔ )- اسی سلسلے میں ماغر اورغامدی عورت کا واقعہ بھی قابل بیان ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کوسنگسار کرنے کا حکم دیا تھا امت نے ان آثارو واقعات کو اس کثرت سے نقل کیا ہے کہ اب اس کے متعلق کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔- اگریہ کہا جائے کہ خوارج کا پوراٹولہ رجم کا انکاری ہے۔ اگر رجم کا حکم کثرت سے مروی ہوکر موجب علم ہوتاتو خوارج کا گروہ اس سے بیخبر نہ رہتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان آثار کے تحت دی گئی خبر کے علم کا ذریعہ ان کسے ناقلین سے سماع اور ان کے ذریعے اس کی معرفت ہے جبکہ خوارج کو فقہاء اسلام اور راویان آثار کی مجالست کی توفیق ہی نہیں ہوئی بلکہ یہ گروہ ان حضرات سے الگ تھلگ رہ کر ان کی روایت کردہ احادیث وآثارکوقبول کرنے سے انکار کرتارہاجس کی بناپررجم کے حکم کے متعلق انہیں شک پیدا ہوگیا اور وہ اس کے اثبات کے قائل نہ …

18

وَلَيْسَتِ ٱلتَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ إِنِّى تُبْتُ ٱلْـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

Explained together with ayah 17

19

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَآءَ كَرْهًۭا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا۟ بِبَعْضِ مَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

قول باری ہے (یایھا الذین امنوالایحل لکم انترثوالنساء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض مااتیتموھن الاان یاتین بفاحشۃ مبینۃ، اے ایمان والو تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کو زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہرکا کچھ حصہ اڑالینے کی کوشش کروجوتم انہیں دے چکوہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (توضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ۔- شیبانی نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتاتو اس کے اولیاء اس کی بیوہ کے زیادہ حق دارس مجھے جاتے۔ بیوہ کے ولی کو ان کے مقابلے میں کم حق حاصل ہوتا۔ پھر اگر ان اولیاء میں سے کوئی اس سے چاہتے تو نہ کرتے اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔- حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا اور اس کی بیوہ رہ جاتی تومیت کا ولی یہ کہتا کہ میں اس کے مال کی طرح اس کی بیوہ کا بھی وارث ہوگیاہوں۔ پھر اگر وہ چاہتا تو پہلے مہر کی رقم پر اس سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا تو اس کا کسی اور سے نکاح کرادیتا اور مہر کی رقم خودرکھ لیتا۔- مجاہد کے قول کے مطابق یہ بات اس وقت ہوتی جب بیوہ کا کوئی بیٹانہ ہوتا۔ ابومجلز کا قول ہے کہ میت کا ولی بیوہ کے ولی کے مقابلے میں میراث کا زیادہ حق دارہوتا۔ جو یبرنے ضحاک سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ آغاز اسلام میں لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کا سب سے بڑھ کر قریبی اس کی بیوہ پر کپڑاڈال دیتا اور اس طرح وہ اس سے نکاح کا حق داربن جاتا۔- کبشہ بنت معن کے شوہر ابوعامرکا انتقال ہوگیا، ابوعامر کا بیٹا جو کسی اور بیوی کے بطن سے تھا آیا اور دستور کے مطابق اپنی سوتیلی ماں پر کپڑاڈال دیا لیکن بعد میں اس نے نہ اسے نفقہ دیا اور نہ ہی اس کے قریب گیا کبشہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر درج بالا آیت نازل فرمائی یعنی، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ تم انہیں تنگ کرکے مہر کی رقم دو ۔- زہری کا قول ہے کہ میت کا ولی بیوہ کو اپنی ازدواجی ضرورت کے بغیر محبوس رکھتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی اور وہ اس کا وارث بن جاتا۔ آیت میں لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا۔- قول باری (ولاتعضلوھن لتذھبواببعض مااتیتموھن) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) قتادہ، سدی اور ضحاک کا قول ہے کہ آیت میں شوہروں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب انہیں اپنی بیویوں کی ضرورت اور ان کی طرف رغبت نہ ہو تو وہ ان کے راستے سے ہٹ جائیں اور انہیں ضررپہنچانے کی نیت سے روک نہ رکھیں کہ وہ اپنے مال کا ایک حصہ دے کر اپنی جان چھڑانے پر مجبورہوجائیں۔- حسن کا قول ہے کہ اس میں مرنے والے شوہر کے ولی کو اس کی ممانعت کردی گئی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق نکاح کرلینے کی راہ میں وہ بیوہ کے لیے رکاوٹ بنے۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت میں بیوہ کے ولی کوا سے تنگ کرنے سے روکاگیا ہے۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں آیت کی تاویل میں حضرت ابن عباس (رض) کا قول سب سے زیادہ واضح ہے اس لیے کہ قول باری (لتذھبواببعض مااتیتموھن) اور مابعد کا سلسلہ کلام اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ درج بالا آیت میں مہرمراد ہے۔ جس سے دست بردارہوکروہ اپنی جان چھڑاسکتی ہے۔ گویا کہ شوہر اسے تنگ یا مجبور کرتایا اس کے ساتھ بدسلوکی پر اترآتاتا کہ وہ مہر کے ایک حصے سے دست بردار ہو کر اپنی جان چھڑالے۔- قول باری (الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ) کی تفسیر میں حسن، ابوقلابہ اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد زنا ہے اور یہ کہ شوہر کے لیے فدیہ لینا اس وقت حلال ہوگا جب اسے بیوی کی بدچلنی اور مشوک کردار کی اطلاع ہو۔- حضرت ابن عباس (رض) قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد عورت کی سرکشی اور نافرمانی ہے۔ اگر عورت یہ رویہ اختیار کرلے تو اس …

20

وَإِنْ أَرَدتُّمُ ٱسْتِبْدَالَ زَوْجٍۢ مَّكَانَ زَوْجٍۢ وَءَاتَيْتُمْ إِحْدَىٰهُنَّ قِنطَارًۭا فَلَا تَأْخُذُوا۟ مِنْهُ شَيْـًٔا ۚ أَتَأْخُذُونَهُۥ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟

قول باری ہے (فان کرھتموھن فعسی ان تکرھواشیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیر، اگر تمہیں وہ بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں بری لگے اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔- اس میں یہ دلالت ہے کہ شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ بیوی کو ناپسند کرنے کے باوجودا سے عقدزوجیت میں باقی رکھے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس معنی میں روایت ہے جسے ہمیں محمد بن ب کرنے بیان کیا، انہیں ابوداؤدنے، انہیں کثیر بن عبدنے انہیں محمد بن خالد نے معروف بن واصل سے، انہوں نے محارب بن وثار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ (البغض الحلال الی اللہ تعالیٰ الطلاق، اللہ کے نزدیک تمام حلال اور جائز باتوں میں طلاق سب سے زیادہ مبغوض اور ناپسند دید ہ ہے۔ )- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں محمد بن خالدبن یزید النیلی نے، انہیں مہلب بن علاء نے انہیں شعیب بن بیان نے عمران القطان سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابوتمیمہ الھجیمی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (تزوجواولاتطلقوافان اللہ لایحب الذواقین والزواقات، شادیاں کرو لیکن طلاقیں نہ دوکیون کہ اللہ تعالیٰ ذواقین اور ذواقات کو پسند نہیں کرتا) ۔ ایسے مرد اور ایسی عورتیں جو گھربسانے کی خاطررشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوتے بلکہ صرف چسکالینے کی خاطرنئی شادیاں کرنے اور طلاقیں دینے کو اپناوطیرہ بنالیتے ہیں۔ حدیث میں ان کا ذک رہے۔ ذواق، اس شخص کو کہا جاتا ہے جسے مختلف چیزیں چکھنے کی بڑی عادت ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد آیت زیربحث کے مدلول کے عین مطابق ہے۔ یعنی طلاق ناپسندیدہ چیز ہے اور بیوی کو ناپسند کرنے کے باوجود اسے عقدزوجیت میں معروف طریقے سے باقی رکھناپسندیدہ ام رہے اور اس کی نزغیب دی گئی ہے۔- اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیاہی کہ بعض دفعہ ایک ناپسندیدہ اور ناگوارچیز کے اندر بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا (وعسیٰ ان تکرھو اشیئاوھوخیرلکم وعسیٰ ان تحبواشیئا وھوشرلکم ، عین ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور اس میں تمہارے لیے بھلائی پوشیدہ ہو اور عین ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور اس میں تمہارے لیے برائی پوشیدہ ہو۔ قول باری ہے (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احداھن قنطارافلاخذوامنہ شیئا، اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لاناچاہو اور تم نے ان میں سے ایک کو ڈھیرسامال دے رکھا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو) ۔- اس آیت کا مقتضیٰ ہے کہ مہر میں عورت کو جو کچھ دیاجائے اسے پوری طرح اس کی ملکیت میں دے دیاجاناواجب ہے اور شوہر کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز اس سے واپس لے لے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ چیزیں اب اسکی ملکیت ہیں خواہ وہ اسے عقدزوجیت میں باقی رکھے یا اس کی جگہ کوئی اور کرلے۔ اور اب اس کے لیے اس میں سے کوئی چیز لینا ممنوع ہے۔- اب یہ غیر کا مال ہے اور اللہ تعالیٰ نے غیر کا مال حاصل کرنے کا جو طریقہ جائز کردیا ہے اس کے ذریعے ہی وہ اس مال میں سے کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ جائز طریقے کے متعلق ارشاد باری ہے (الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم، بجز اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو) ظاہر آیت اس بات کا مقتضی ہے کہ بیوی کے ساتھ خلوت میسر آجانے کے بعد مہر میں سے کوئی حصہ واپس لینا ممنوع ہے۔ اس لیے آیت سے اس مسئلے پر استدلال ہوسکتا ہے کہ خلوت میسرآجانے کے بعد اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اسے مہر کی پوری رقم اداکرنا ہوگی۔ اس لیے کہ لفظ کا عموم ہر صورت میں مہر میں سے کسی حصے کو واپس لینے کی ممانعت میں دلالت کرتا ہے صرف وہ صورت اس سے مستثنیٰ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے تخصیص کردی ہے (وان طلقتموھن من …

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.