حاکم پر واجب ہے کہ وہ مقدمے کے فریقین کے درمیان انصاف کرے - قول باری ہے یایھا الذین امنواکونواقوامین باقسط شھداء للہ ولوعلی انفسکم والوالدین ولاقربین۔ اے ایمان لانے والو انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) تا آخر آیت۔ قابوس نے ابوظبیان سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قول باری یایھا الذین امنواکونواقرامین بالقسط شھداء للہ۔ کا یہ مفہومہ ہے کہ دو شخص جو کسی معاملہ میں فریقین ہوں اور قاضی کی عدالت میں موجود ہوں۔ قاضی ایک کے ساتھ نہ صرف بےرخی برتے بلکہ اسے اس کے مطالبے اور حق سے بھی روکے۔ ہمیں عبدالقاقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبداللہ بن مہران الدنیوری نے انہیں احمد بن یونس نے انہیں زبیر نے انہیں عباد بن کثیر بن ابی عبداللہ نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ام الومنین حضرت ام سلمہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من بتلی بالقضا بین المسلمین فلیعدل بینھم فی لخطہ واشارتہ و مقعدہ ولایرفع صوتہ علی احد الخصمین مالم یدفع علی الاخر۔ جو شخص مسلمانوں کے درمیان ان کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کی آزمائش میں پڑگیا (یعنی قاضی کے عہدے پر مامور ہوگیا) تو اسے چاہیے کہ اپنی نظر اپنے اشارے اور اپنی نشست کے لحاظ سے ان کے درمیان انصاف سے کام لے، اور ایک فریق کے مقالہ میں دوسرے فریق سے اونچی آواز میں گفتگو نہ کرے جب تک اتنی ہی اونچی آواز سے دوسرے فریق سے بھی گفتگو نہ کرلے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری کو نواقوامین بالقسط۔- سے حق و انصاف پر قائم رہنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کا اظہار ہو رہا ہے یہ حکم ہر شخص پر یہ امر واجب کرتا ہے کہ اس پر لوگوں کے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی میں وہ اپنی ذات سے پورا پورا نصاف کرے یعنی لوگوں کے حقوق کی پوری طرح ادائیگی کرے۔ نیز مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے اس کی داد رسی کرے اور ظالم کو ظلم کرنے سے روک دے کیونکہ یہ تمام باتیں انصاف قائم کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کے اندر داخل ہیں۔ پھر اپنے قول شھداء للہ سے اس کی اور تاکید کردی یعنی واللہ اعلم۔ اس صورت میں جبکہ انصاف تک رسائی گواہی کے راستے ہوتی ہو۔ اس لئے آیت کا یہ ٹکڑا ظالم کے خلاف گواہی قائم کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہے جس نے مظلوم کا حق دبا رکھا ہے اور اسے دینے سے انکاری ہے تاکہ گواہی کے ذریعے ظالم کے قبضے سے مظلوم کا حق نکال کر اس کے حوالے کردیا اجئے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ولاتکتموا الشھدۃ و من یکتمھا فانہ ثم قلبہ اور گواہی کو نہ چھپائو جو شخص گواہی چھپائے گا تو اس کی یہ حرکت اس بنا پر ہوگی کہ اس کا دل گہنگار ہے) آیت اس حکم کو بھی متضمن ہے کہ حق دار کا اقرار اور اعتراف کرلیا جائے۔ قول باری ہے ولوعلی انفسکم۔ کیونکہ اپنی ذات کے خلاف گواہی دینے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فریق مخالف کا کوئی حق اس پر عائد ہوتا ہو تو وہ اس کا اقرار و اعتراف کرلے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غیر کے حق کا اپنی ذات پر اقرار کرلے تو اس کا یہ اقرار جائز ہے بلکہ اگر حق دار اس اقرار کا اس سے مطالبہ کرے تو اس صورت میں اقرار کرنا اس پر واجب ہوگا۔ قول باری ہے اوالوالدین والاقربین۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔- یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے والدین اور اپنے تمام رشتہ داروں کے خلاف گواہی دے تو اس کی یہ گواہی درست ہوگی۔ کیونکہ اس کے والدین اس کے تمام رشتہ دار اور غیر رشتہ دار اس معاملے میں اس کے لئے یکساں ہیں۔ اگرچہ والدین کے خلاف اولاد کی گواہی کی بنا پر والدین قید میں بھی پڑ سکتے ہیں لیکن یہ بات حقوق الوالدین یعنی والدین کی نافرمانی کے ضمن …