Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 131–140 of 176

131

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًۭا

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے

Explained together with ayah 129

An-Nisaa 4:131Listen in Qur'an →
132

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور (پھر سن رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا کارساز کافی ہے

Explained together with ayah 129

An-Nisaa 4:132Listen in Qur'an →
133

إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأْتِ بِـَٔاخَرِينَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًۭا

لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے

Explained together with ayah 129

An-Nisaa 4:133Listen in Qur'an →
134

مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہیں۔ اور خدا سنتا دیکھتا ہے

Explained together with ayah 129

An-Nisaa 4:134Listen in Qur'an →
135

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَوِ ٱلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًۭا فَٱللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلْهَوَىٰٓ أَن تَعْدِلُوا۟ ۚ وَإِن تَلْوُۥٓا۟ أَوْ تُعْرِضُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

حاکم پر واجب ہے کہ وہ مقدمے کے فریقین کے درمیان انصاف کرے - قول باری ہے یایھا الذین امنواکونواقوامین باقسط شھداء للہ ولوعلی انفسکم والوالدین ولاقربین۔ اے ایمان لانے والو انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) تا آخر آیت۔ قابوس نے ابوظبیان سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قول باری یایھا الذین امنواکونواقرامین بالقسط شھداء للہ۔ کا یہ مفہومہ ہے کہ دو شخص جو کسی معاملہ میں فریقین ہوں اور قاضی کی عدالت میں موجود ہوں۔ قاضی ایک کے ساتھ نہ صرف بےرخی برتے بلکہ اسے اس کے مطالبے اور حق سے بھی روکے۔ ہمیں عبدالقاقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبداللہ بن مہران الدنیوری نے انہیں احمد بن یونس نے انہیں زبیر نے انہیں عباد بن کثیر بن ابی عبداللہ نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ام الومنین حضرت ام سلمہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من بتلی بالقضا بین المسلمین فلیعدل بینھم فی لخطہ واشارتہ و مقعدہ ولایرفع صوتہ علی احد الخصمین مالم یدفع علی الاخر۔ جو شخص مسلمانوں کے درمیان ان کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کی آزمائش میں پڑگیا (یعنی قاضی کے عہدے پر مامور ہوگیا) تو اسے چاہیے کہ اپنی نظر اپنے اشارے اور اپنی نشست کے لحاظ سے ان کے درمیان انصاف سے کام لے، اور ایک فریق کے مقالہ میں دوسرے فریق سے اونچی آواز میں گفتگو نہ کرے جب تک اتنی ہی اونچی آواز سے دوسرے فریق سے بھی گفتگو نہ کرلے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری کو نواقوامین بالقسط۔- سے حق و انصاف پر قائم رہنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کا اظہار ہو رہا ہے یہ حکم ہر شخص پر یہ امر واجب کرتا ہے کہ اس پر لوگوں کے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی میں وہ اپنی ذات سے پورا پورا نصاف کرے یعنی لوگوں کے حقوق کی پوری طرح ادائیگی کرے۔ نیز مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے اس کی داد رسی کرے اور ظالم کو ظلم کرنے سے روک دے کیونکہ یہ تمام باتیں انصاف قائم کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کے اندر داخل ہیں۔ پھر اپنے قول شھداء للہ سے اس کی اور تاکید کردی یعنی واللہ اعلم۔ اس صورت میں جبکہ انصاف تک رسائی گواہی کے راستے ہوتی ہو۔ اس لئے آیت کا یہ ٹکڑا ظالم کے خلاف گواہی قائم کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہے جس نے مظلوم کا حق دبا رکھا ہے اور اسے دینے سے انکاری ہے تاکہ گواہی کے ذریعے ظالم کے قبضے سے مظلوم کا حق نکال کر اس کے حوالے کردیا اجئے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ولاتکتموا الشھدۃ و من یکتمھا فانہ ثم قلبہ اور گواہی کو نہ چھپائو جو شخص گواہی چھپائے گا تو اس کی یہ حرکت اس بنا پر ہوگی کہ اس کا دل گہنگار ہے) آیت اس حکم کو بھی متضمن ہے کہ حق دار کا اقرار اور اعتراف کرلیا جائے۔ قول باری ہے ولوعلی انفسکم۔ کیونکہ اپنی ذات کے خلاف گواہی دینے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فریق مخالف کا کوئی حق اس پر عائد ہوتا ہو تو وہ اس کا اقرار و اعتراف کرلے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غیر کے حق کا اپنی ذات پر اقرار کرلے تو اس کا یہ اقرار جائز ہے بلکہ اگر حق دار اس اقرار کا اس سے مطالبہ کرے تو اس صورت میں اقرار کرنا اس پر واجب ہوگا۔ قول باری ہے اوالوالدین والاقربین۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔- یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے والدین اور اپنے تمام رشتہ داروں کے خلاف گواہی دے تو اس کی یہ گواہی درست ہوگی۔ کیونکہ اس کے والدین اس کے تمام رشتہ دار اور غیر رشتہ دار اس معاملے میں اس کے لئے یکساں ہیں۔ اگرچہ والدین کے خلاف اولاد کی گواہی کی بنا پر والدین قید میں بھی پڑ سکتے ہیں لیکن یہ بات حقوق الوالدین یعنی والدین کی نافرمانی کے ضمن …

An-Nisaa 4:135Listen in Qur'an →
136

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِى نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنی پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ۔ اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روزقیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

مومنوں کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا - قول باری ہے یایھا الذین امنوا امنوباللہ و رسولہ۔ اے ایمان لانے والو ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے ” اے وہ لوگو جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے رسولوں پر ایمان لائے ہو اللہ پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لائو اور اس شریعت پر بھی جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں “۔ اس لئے کہ جب یہ لوگ انبیاء سابقین پر ان نشانیوں کی بنا پر ایمان لائے تھے جو ان انبیاء کے ساتھ آئی تھیں تو اسی علت کی بنا پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لانا ان پر لازم ہوگیا ہے۔ ایک اور جہت سے بھی ان کے لئے یہ لازم ہے کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت موجود ہے اب جبکہ یہ لوگ ان انبیاء پر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان انبیاء نے جو خبریں دیں ان کی بھی انہوں نے تصدیق کی تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لائیں کیونکہ ان انبیائے کرام نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی خبریں دی تھیں۔ اس طرح آیت کے ذریعے ان لوگوں پر حجت قائم کردی گئی اور ان پر تمام حجت ہوگیا آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہیں انہیں اس ایمان پر مداومت کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ واللہ اعلم۔- مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا - ارشاد باری ہے ان الذین امنواثم کفرواثم امنو ثم کفرواثم ازدادوکفراً ۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کیا کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے) ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں، یہود تو رات پر ایمان لے آئے پھر اس کی مخالفت کر کے کفر کا ارتکاب کرلیا اسی طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور ان کی مخالفت کر کے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ یہی حالت نصاریٰ کی تھی کہ وہ انجیل پر ایمان لے آئے اور پھر اس کی مخالفت کر کے کفر کا ارتکاب کرلیا۔ سی طرح یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد ان کی مخالفت کر کے کفر میں پھنس گئے پھر ان دونوں گروہوں نے قرآن مجید اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کر کے اپنے کفر میں اور اضافہ کرلیا۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، پہلے یہ لوگ ایمان لے آئے پھر مرتد ہوگئے پھر ایمان لے آئے اور پھر مرتد ہوگئے اور اسی ارتداد کی حالت میں دنیا سے چل بسے بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے اہل کتاب کا ایک گروہ مراد ہے اس گروہ نے اہل اسلام کو شک میں مبتلا کرنے کی غرض سے یہ طریق کار اختیار کیا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کا اظہار بھی کرتا اور انکار و کفر کا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس طریق کار کی اپنے اس قول میں وضاحت کردی ہے۔ وقالتہ الطالفۃ من اھل الکتاب امنوابالذی انزل علی الذین امنو وجہ النفاراکفروا اخرہ لعلھم یرجعون۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لائو اور شام کو اس سے انکار کر دو شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں) ۔ ابوبکرحبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرتد جب تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے اسی طرح زندیق کی توبہ بھی قابل قبول ہے کیونکہ آیت میں زندیق یعنی بےدین اور باطنی طور سے کافر اور دوسرے کافروں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح بار بار کفر کے بعد توبہ قبول کرلینے اور ایمان کے اظہار پر اس کے مومن ہونے کے حکم میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔- مرتد اور زندیق سے توبہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں فقہاء …

An-Nisaa 4:136Listen in Qur'an →
137

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا

Explained together with ayah 136

An-Nisaa 4:137Listen in Qur'an →
138

بَشِّرِ ٱلْمُنَٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

(اے پیغمبر) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو بشارت سناد دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

قول باری ہے بشر المنافقین بان لھم عذاباً الیماً الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ منافقین کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب تیار ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے کافروں کو اپنا مددگار اور پشت پناہ بنا لیا تھا کیونکہ اس بات کا وہم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی نیز ان کے ساتھ صف آراء ہونے کی بنا پر کافروں میں زبردست یکجہتی قوت و طاقت پیدا ہوگئی ہے اور ان کا اب بڑا دبدبہ ہے لیکن ان منافقین کو اللہ کے دین کا کچھ علم نہیں تھا اور اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ مسلمانوں کو اپنا دوست بناتے۔ آیت میں جن منافقین کا ذکر کیا گیا ان کی یہ خصوصیت تھی۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کافروں کے مقابلے کے لئے دوسرے کافروں سے مدد حاصل کریں کیونکہ انہیں غلبہ حاصل ہونے کی صورت میں کفر غالب آجائے گا۔ ہمارے اصحاب کا یہی مسلک ہے۔- عزت کفار کے پاس نہیں ہے - قول باری ایبتغون عندھما لغزۃ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ) ہمارے اصحاب کے درج بالا قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ کافروں سے مدد لینا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ جب انہیں غلبہ حاصل ہوگا تو اس صورت میں مدد کرنے والے کافروں کو بھی غلبہ حاصل ہوگا اور انہیں ابھرنے کا بھی موقع ملے گا جس کے نتیجے میں کفر کو پروان چڑھنے کے لئے زمین ہموار ہوجائے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں منافقین کا ذکر ہے جو کافر تھے اس سے مسلمانوں کے متعلق یہ استدلال کیسے ہوسکتا ہے کہ کافروں سے ان کی استعانت جائز نہیں ہے۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ کافروں سے استعانت ممنوع ہے تو اس کے بعد اس حکم میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ مدد حاصل کرنے والے کون لوگ ہیں مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی فعل پر کسی قوم کی مذمت کرے دے تو اس فعل کی قباحت مسلم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد کسی بھی شخص کو اس کا ارتکاب جائز نہیں رہتا۔ البتہ اگر کوئی ایسی دلالت وجود میں آجائے جو اس کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو تو یہ الگ بات ہوگی ایک قول یہ ہے کہ عزت کے اصل معنی شدت اور سختی کے ہیں۔ اسی بنا پر سخت اور ٹھوس زمین کو عزاز کا نام دیا جاتا ہے۔- ایک محاورہ ہے ” قداسعزالمرض علی المریض “ جو اس وقت بولا جاتا ہے جب مریض کا مرض شدت اختیار کرلے۔ اس سے یہ محاورہ بھی ہے عزعلی کذا میرے لئے یہ کام مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی کامیابی پر یہ فقرہ کہاجاتا ہے ” عزاشئی “ کیونکہ اس صورت میں اس چیز کا حصول بڑی دقت اور جان جوکھوں کا کام ہوجاتا ہے جب کوئی شخص کی معاملہ میں دوسرے شخص کے ساتھ سختی سے پیش آئے تو کہا جاتا ہے ” عازہ فی الامر “ اس نے اس معاملے میں اس کے ساتھ بڑی سختی کی ہے) اس طرح اگر بکری کے تھن کی تنگی کی بنا پر اس کا دوہنا بڑا کٹھن ہوجائے تو ایسی بکری کو ” شاۃ عزور “ کہتے ہیں۔ عزت بمعنی قوت دراصل شدت کے اس معنی سے ماخوذ ہے عزیز اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑا قوی اور اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہو کہ اس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہ ہو۔ آیت اس حکم کو متضمن ہے کہ کفار کو اپنا دوست اور مددگار بنانا لیکن ان کے سہارے قوت و طاقت حاصل کرنا اور اس مقصد کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا سب ممنوع ہے۔- ہمیں ایک شخص نے روایت کی ہے کہ جس پر روایت کے سلسلے میں کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکتا۔ انہیں عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم الدوری نے، انہیں یعقوب بن حمید بن کا سب نے انہیں عبداللہ بن عبداللہ اموی نے حسن بن الحر سے انہوں نے یعقوب بن عتبہ سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت عمر (رض) سے، انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا، من اعتزبالعید ذلہ اللہ، جس شخص نے غلاموں …

An-Nisaa 4:138Listen in Qur'an →
139

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلْعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًۭا

جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے

Explained together with ayah 138

An-Nisaa 4:139Listen in Qur'an →
140

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا۟ مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦٓ ۚ إِنَّكُمْ إِذًۭا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْكَٰفِرِينَ فِى جَهَنَّمَ جَمِيعًا

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے

قول باری ہے وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذاسمعتم ایات اللہ یکفربھا و یستھمزا بھافلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ۔ اللہ اس کتاب میں تمہیں پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ دوسری بات میں نہ لگ جائیں) ۔ آیت میں ان لوگوں کی مجالست اور ہم نشینی کی ممانعت ہے جو کھلم کھلا کفر بکتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے ہوں۔- آیت میں لفظ حتی کے اندر دو معنوں کا احتمال ہے۔ اول یہ کہ یہ کفر بکنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کی ممنانعت کی غایت اور انتہا کے معنی دے رہا ہے یعنی جب یہ لوگ کفر بکنا اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے تو ممانعت کا حکم بھی ختم ہوجائے گا اور ان کی ہم نشینی جائز ہوجائے گی۔ دوم یہ کہ کفر بکنے والے جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کفر بکنا اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ بیٹھا نہ کرو تاکہ وہ اپنے کفر کا اظہار نہ کریں اور کفر میں اور آگے نہ بڑھ جائیں نیز انہیں اللہ کی آیات کے مذاق اڑانے کا موقع بھی ہاتھ نہ آسکے اس لئے کہ یہ سب کچھ ان کے ساتھ تمہاری مجالست کی بنا پر ہوتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے حسن سے مروی ہے کہ آیت اس صورت میں مجالست کی اباحت کی مقتضی تھی جب ایسے لوگ دوسری باتوں میں لگ جائیں یہ اباحت بھی اب قول باری فلاتقعدبعدالذکری مع القوم الظالمین، یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد مشرکین عرب ہیں ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد منافقین ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد تمام ظالمین ہیں۔- اسلام کا تمسخر اڑانے والوں میں بیٹھے رہو تو تم بھی انہی کی طرح ٹھہرائے جائو گے - قول باری ہے انکم اذا مثلھم، اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ عصیان میں تم انہی ہی کی طرح ہو جائو گے اگرچہ تمہارا یہ عصیان کفر کے درجے تک نہیں پہنچے گا دوم یہ کہ اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم ظاہری طور پر گویا ان کے اس حال پر اپنی رضامندی اور پسندیدگی کا اظہا ر کرتے ہو۔ جبکہ کفر اور اللہ کی آیات کے استہزاء پر اپنی رضا مندی اور پسندیدگی کا خاموش اظہار بھی کفر ہے لیکن جو شخص اس حالت سے نفرت کرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھے گا وہ کفر میں مبتلا نہیں ہوگا اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھے بغیر اس کا گزارہ نہ ہوتا ہو۔ آیت میں اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ منکر کے ارتکاب کی صورت میں اس کے مرتکب پر تنقید کرنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا واجب ہے۔ اگر کسی شخص کے لئے ایسے شخص کی مجالست ترک کرنا یا اس فکر کو دور کرنا یا اس جگہ سے اٹھ کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو اس کے انکار اور ناپسندیدگی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب تک وہ شخص اس حالت میں رہے اس وقت تک اس سے کراہت کا اظہار کرتا رہے حتی کہ اس کی اس حالت کا خاتمہ ہوجائے اور وہ کسی اور کام میں مصروف ہوجائے۔- ولیمہ، جنازہ وغیرہ میں منکرات سے بیزاری کا اظہار کیا جائے - اگر یہ پوچھا جائے کہ جس شخص کے سامنے کسی منکر کا ارتکاب ہو رہا ہو تو آیا اس پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اس جگہ سے اتنی دور چلا جائے جہاں سے وہ نظر نہ آسکے اور نہ ہی اس کی آواز سنائی دے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس رویے کو اپنانے کے حق میں بھی ایک قول ہے بشرطیکہ اس طرح کرنے کی وجہ سے اس پر عائد ہونے والا کوئی حق ترک نہ ہوجائے مثلا کوئی شخص گانے اور عیش و طرب کی باتوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے باجماعت نماز کی ادائیگی کا تارک بن جائے یا جنازے کے ساتھ بین اور ماتم کی بنا پر اس کے ساتھ نہ جائے یا ولیمہ میں لہو و لعب کی بنا پر وہاں جانے سے پرہیز کرے وغیر ہ …

An-Nisaa 4:140Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.