أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا
ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے
Explained together with ayah 119
سُورَةُ النِّسَاءِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 121–130 of 176
أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا
ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے
Explained together with ayah 119
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے
Explained together with ayah 119
لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَآ أَمَانِىِّ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوٓءًۭا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا
(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار
Explained together with ayah 119
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًۭا
اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی
Explained together with ayah 119
وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًۭا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَٰهِيمَ خَلِيلًۭا
اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا
قول باری ہے ( واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا و اتحذ اللہ ابراہیم خلیل اور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی۔ اس ابراہیم کے طریقہ کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا) یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے ( ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا پھر ہم نے تمہیں وحی کی یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو) یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدت کی جو باتیں ثابت شدہ ہوں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوتی جاتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت وہی ہوجائے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت تھی۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابراہہیم علیہ لسلام کی شریعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں داخل ہے۔- ہمارے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی شریعت دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر اضافے کی صورت ہے۔ اسی بنا پر شریعت ابراہیمی کا اتباع واجب ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں داخل ہے اس لیے جو شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا متبع ہوگا وہ ملت ابراہیمی کا بھی متبع کہلائے گا۔ حنیف کے مفہوم کے بارے مییں ایک قول ہے اس کے معنی مستقیم کے ہیں۔ اس لیے جو شخص استقامت کے راستے پر چلے گا وہ حنیفیت پر گامزن متصور ہوگا۔ ٹیڑھے پائوں والے کو تفائول یعنی اچھا شگون لینے کے طور پر احنف کہا جاتا ہے جس طرح ہلاک حیزی کو مفارۃ ( کامیابی) اور سانپ کے ڈسے ہوئے انسان کو سلیم ( محفوظ، بچ جانے والا) کہا جاتا ہے۔ قول باری ( واتحذ اللہ ابراہیم خلیلا) کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔- اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چن لیا تھا اور اپنی سرگوشی کے لیے انہیں مخصوص کرلیا تھا یہ مرتبہ کسی اور کو عطا نہیں ہوا تھا۔ دوم یہ کہ خلیل کا لفظ خلۃ معنی حاجت سے بنا ہے ۔ اللہ کا خلیل وہ ہے جو صرف اس کا محتاج ہے اور اپنی حاجتوں کے لیے صرف اس کی طرف ہی رجوع کرتا ہے۔ اگر لفظ خلیل سے پہلا مفہوم مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہوگا حضرت ابراہیم اللہ کے خلیل تھے اور اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خلیل تھا لیکن اگر دوسرا مفہوم مراد ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خلیل قرار دینا جائز نہیں ہوگا البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ کے خلیل تھے۔
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍۢ مُّحِيطًۭا
اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے
Explained together with ayah 125
وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ فِى يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًۭا
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
قول باری ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن۔ لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں، کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ روایت کے مطابق آیت کا نزول اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہوا ہے جو اپنے ولی کے زیر پرورش ہوتی ہے۔ ولی کو اس کے مال اور جمال میں رغبت ہوتی ہے۔ وہ اس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن مہر کے تعین میں انصاف سے کام نہیں لیتا۔ آپ کے ذریعے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کردیا گیا یا پھر نکاح کی صورت میں مہر کی وہ رقم ادا کریں جو ان لڑکیوں کے مرتبے اور حیثیت کے مطابق ہو۔ قول باری ہے ومایتلیٰ علیکم فی الکتاب فی یت می النساء اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں) اس سے مراد وہ احکام ہیں جو اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں یعنی یہ قول باری وان خفتم الاتفسطوا فی الیثا می فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع۔ اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کرلو) ہم نے اس کے مقام پر اس کی پوری وضاحت کردی ہے۔ واللہ الموفق۔
وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًۭا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًۭا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌۭ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
بیوی اور اس کے شوہر کے درمیان مصالحت - قول باری ہے وان امراۃ حافت من بعلھا نشوراً اوامراضا فلاجناح علیھا ان یصلحا بینھما صلحا۔ جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) نشوز کے معنی میں ایک قول مروی ہے کہ اس سے مراد بیوی سے نفرت اور بغض کی بنا پر شوہر کا ہر دم اس پر سوار رہنا ہے یعنی شوہر ہر گھڑی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے کام لے یہ لفظ نشز الارض، سے ماخوذ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی اور بلند زمین کے ہیں۔ قول باری اواعراضاً کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کسی ناراضگی کی بنا پر کسی اور بیوی کو اس پر ترجیح دے کر اس سے بےرخی کرے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے صلح کے عمل کو مباح کردیا۔ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اپنے بغض حقوق میں کمی بیشی کے ذریعے صلح کرلینے کی اجازت دے دی ہے مثلا بیوی اپنے مہر کے کچھ حصے سے دست بردار ہوجائے یا اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے دے۔ حضرت عمر (رض) کا قول ہے کہ میاں بیوی جس بات پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح درست ہوگی۔ سماک نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ (رض) کو خدشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں طلاق نہ دے دیں) چناچہ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے طلاق نہ دیں مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دیں اور میری باری عائشہ (رض) کو دے دیں، چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی کیا۔ اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی۔ اس لئے میاں بیوی جس چیز پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح جائز ہوگی۔ ہشام نے عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی کے عقد میں ہو۔ وہ شخص اسے طلاق دے کر کسی اور عورت سے نکاح کرنے کا خواہش مند ہو۔ بیوی اس سے یہ کہے کہ مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دو اور طلاق نہ دو ۔ تمہیں میرے نان و نفقہ اور باری کے سلسلے میں پوری آزادی ہے۔ قول باری فلا جناح علیھما تا قول باری واصلح خیر کا یہ مفہوم ہے۔- حضرت عائشہ (رض) سے متعدد طرق سے مروی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ (رض) نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کو دے دی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باری میں حضرت عائشہ (رض) کے گھر میں شب باشی کرتے تھے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت متعدد بیویوں کی صورت میں ان کے مابین باریاں مقرر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور ایک بیوی کی صورت میں اس کے پاس رہنے کے وجوب پر بھی دال ہے۔ حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک شخص کعب بن سور نے اپنی بیوی کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا کہ ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کا ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے نہ صرف کعب کی یہ بات پسند کی بلکہ اسے بصرہ کا قاضی مقرر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی جائز کردی ہے کہ ایک عورت اپنی باری سے دست بردار ہو کر اسے اپنی سوکن کو دے دے۔ آیت کا عموم اس بات کا مقتضی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اس شرط پر بھی صلح ہوسکتی ہے کہ بیوی اپنا مہر، نان و نفقہ اور باری نیز زوجیت کی بنا پر ملنے والے تمام حقوق سے دستبردار ہوجائے۔ اس میں اتنی بات ضرور ہے کہ بیوی کے لئے ماضی میں واجب ہونے والے نان و نفقہ سے دست برداری جائز ہوتی ہے۔ مستقبل کے نان و نفقہ سے شوہر کو بری الذمہ قرار دینا درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر کو ہمبستری سے بری الذمہ قرار دے دے تو اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ شوہر سے اپنے حصے کی ہمبستری کا مطالبہ کرے۔- اگر بیوی خوشدلی کے ساتھ نان و نفقہ اور شب باشی کے مطالبے سے دست بردار ہوجائے تو اس کا یہ اقدام جائز ہوگا لیکن اگر مستقبل میں بھی وہ شوہر کو ان …
وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا
اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
بیویوں میں پورا پورا عدل کرو - قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا کالمعلقۃ) دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سعید بن جبیر، حسن ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس بیوی کی کیفیت یہ ہوجائے کہ وہ نہ تو شوہر والی شمار ہو اور نہ ہی بن بیاہی۔- قتادہ نے نضہ بن انس ہے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من کانت لہ امراتان یمیل مع احدھما علی الاخری جاء یوم القیامۃ واحد شقیہ ساقط۔ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلہ میں دوسری کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک کنارہ جھک کر گرا ہوا ہوگا) ۔ یہ روایت بھی دو بیویوں کے درمیان انصاف کے ساتھ باریاں مقرر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ کہ اگر شوہر انصاف نہیں کرسکتا تو علیحدگی بہتر ہے کیونکہ قول باری ہے فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اسے رخصت کردیا جائے) ۔- باری مقرر کرنے میں انصاف سے کام لینے کے وجوب اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میلان کو ترک کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا وان یتفرقایغن اللہ کلا من سعتہ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا) اس میں ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے تسلی دی گئی ہے اور دل کا بوجھ ہلکا کیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا اگر دونوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب کردہ حقوق کی پامالی کے خوف سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجانے کا قصد کیا ہو۔ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ تمام بندوں کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بندے اگر رزق کا ذریعہ بنتے بھی ہیں تو اس صورت میں بھی سبب پیدا کرنے والا اللہ ہی ہوتا ہے اور اس پر تمام تعریفوں اور حمد و ثناء کا وہی مستحق ہوتا ہے۔
وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ ٱللَّهُ كُلًّۭا مِّن سَعَتِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمًۭا
اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے
Explained together with ayah 129
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.