وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا
اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
Explained together with ayah 106
سُورَةُ النِّسَاءِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 111–120 of 176
وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا
اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
Explained together with ayah 106
وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا
اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا
Explained together with ayah 106
وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًۭا
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
Explained together with ayah 106
۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
قول باری ہے ( لاخیر فی کثیر من نجواھم الا من امربصد قۃ اذ معروف او اصلاح بین الناس۔ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طورپر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلا کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو البتہ بھلی بات ہے) ۔ اہل لغت کا قول ہے کہ نجویٰ اسرار یعنی خفیہ سرگوشی کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ البتہ صدقہ و خیرات کرنے کے لیے کوئی شخص کسی کو خفیہ طور پر تلقین کرے یا نیکی کرنے کا حکم دے یا لوگوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کے لیے خفیہ طور پر سلسلہ جذباتی کرے تو اس میں بھلائی ہوگی اور یہ خیر کی بات ہوگی۔ نیکی اور بھلائی کے کاموں کی تمام صورتیں معروف میں داخل ہیں کیونکہ عقل انسانی اسے تسلیم کرتی ہے۔ عقل انسانی اس حیثیت سے حق کا اعتراف کرلیتی ہے کہ وہ نہ صرف اسے تسلیم کرتی ہے بلکہ اس کا التزام بھی کرتی ہے۔- دوسری طرف عقل انسانی باطل کو اس حیثیت سے ناپسند کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اس سے روکتی ہے بلکہ اس سے اپنی برأت اور لاتعلقی کا بھی اظہار کرتی ہے۔ ایک اور جہت سے بھی بھلائی کے کاموں کو معرف کا نام دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل فضل اور اہل دین خیر اور بھلائی کی پوری شناخت رکھتے ہیں کیونکہ بھلائی ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے اور یہ اس سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ شر اور برائی سے واقف نہیں ہوتے جس طرح یہ بھلائی سے واقت ہوتے ہیں کیونکہ یہ برائی سے دامن کشاں ہوتے ہیں اور اس کا انہیں علم ہی نہیں ہوتا اسی لیے نیکی کے کاموں کو معروف اور برائی کے کاموں کو منکر کا نام دیا گیا۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں ابراہیم بن عبداللہ نے، انہیں سہیل بن بکار نے، انہیں ابوالخلیل عبدالسلام نے عبیدہ ہجیمی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوجری جابر بن سلیم (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ روانہ ہوگیا۔ مسجد کے دروازے پر اپنا اونٹ بٹھا کر اندر گیا تو وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے۔ آپ پر دو اونی چادریں تھیں جن میں سرخ لکیریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے جاتے ہی ” السلام علیک یا رسول اللہ “ کہا تو آپ نے جواب میں ” وعلیک السلام “ کہا پھر میں نے عرص کیا کہ ہم اہل بادیہ یعنی صحرا نشین ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں جفا یعنی سختی، اور طبیعت کی خشکی ہوتی ہے۔ اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات کی تلقین فرما دیجئے جو میرے لیے فائدہ مند ہو، اس پر آپ نے تین دفعہ ” قریب ہو جائو “ فرمایا : میں قریب ہوگیا، آپ نے فرمایا : ” اپنی بات دوبارہ بیان کرو “ میں نے اپنی وہی بات دوبارہ بیان کردی، اس پر آپ نے فرمایا : ” اللہ سے ڈرتے رہو، بھلائی اور نیکی کے کسی کام کو بھی معمولی اور حقیر نہ سمجھو۔- اگرچہ اس کی یہ صورت کیوں نہ ہو کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور یہ کہ تم اپنے ڈول کا باقی ماندہ پانی اس شخص کے برتن میں ڈال دو جو پانی کا طلبگار ہو، اگر کوی شخص تمہیں عار دلانے کے لیے تمہاری اس کمزوری کو گالی کے طور پر استعمال کرے جس سے وہ واقف ہو تو تم اس کے جواب میں اس کمزوری کو گالی کے طور پر استعمال نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم اس کی یہ بات برداشت کرلو گے تو اس کا تمہیں اجر ملے گا اور اس کے لیے گناہ کا بوجھ بنے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یعنی مویشی وغیرہ تمہیں عطا کی ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو “۔ ابوحبری کہتے ہیں :” قسم ہے اس ذات کی جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس بلا لیا میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی بکری کو اور نہ ہی کسی اونٹ کو “۔- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں احمد بن محمد بن مسلم الدقاق نے ، انہیں ہارون بن معروف نے ، انہیں سعید بن مسلمہ نے جعفر سے، …
وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا
اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے
قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والے کنارے کے علاوہ ہو اس سے اعتقاد اور دین میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی اور آپ کی مخالفت مراد ہے۔- قول باری ( من بعد ما تبین لہ الھدی) کے ذریعے ڈانٹ میں اور تیزی پیدا کی گئی ہے، متعلقہ شخص کے روپے کی قباحت کو اور واضح کیا گیا ہے اور آیت میں مذکورہ وعید کی وجہ بیان کی گئی ہے کیونکہ اس شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرنے والے معجزات اور آیات کے ظہر کے بعد ی معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اس وعید کے سلسلے میں اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلنے کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے ساتھ مقرون ذکر کیا ہے۔ یہ بات اجماع امت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وعید کا الحاق ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اہل ایمان کی روش کو چھوڑ کر کوئی اور روش اختیار کرلیں۔ قول باری ( نولہ ماتولی) کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بری الذمہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ ان بتوں کے حوالے کر دے گا جن کی طرف وہ پھر گیا تھا اور جن کا اس نے سہارا لیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی نصرت اور معونت سے سرفراز نہیں کرے گا۔
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا
خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا
Explained together with ayah 115
إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًۭا مَّرِيدًۭا
یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو
Explained together with ayah 115
لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا
جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔
Explained together with ayah 115
وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا
اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی ہے۔ قول باری ہے ( ولا منینھم میں انہیں آزئووں میں الجھائوں گا) یعنی۔ واللہ اعلم۔- شیطان ان لوگوں کو دینا میں طویل زندگی گزارنے، اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور اس کی لذتوں سے بہرہ ور ہونے کی امید دلائے گا تا کہ یہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ ان کے دلوں میں دنیاوی زندگی کی چاہت پیدا ہوجائے اور پھر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگ جائیں۔ شیطان انہیں جانوروں کے کان پھاڑ دینے کا حکم دے گا تا کہ اس کے ذریعے وہ ان جانوروں کا گوشت اپنے اوپر نیز دوسروں کے لیے حرام کردیں۔ ایسے جانور بحیرہ کہلاتے تھے اور عرب کے لوگ ان کا گوشت حرام سمجھتے تھے۔ قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیغبرن خلق اللہ، اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردو بدل کریں گے) آیت کے اس حصے کی تفسیر میں تین اقوال مروی ہیں، ابراہیم نخعی، مجاہد، حسن ، ضحاک اور سدی کی حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دین میں ردو بدل کریں گے اور حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیں گے۔ - اس تفسیر کے لیے شاہد کے طور پر یہ قول باری پیش کیا گیا ہے ( لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الذین القیم، اللہ کے خلق یعنی دین میں کوئی ردو بدل نہیں ہوسکتا یہ ہے سیدھا دین) شہر بن حوشب، عکرمہ اور ابوصالح نے حضرت انس (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد خصاء یعنی خصی کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد وشم یعنی ہاتھ میں گودنا ہے۔ قتادہ نے حسن سے روایت کی ہ کہ سواری کے جانوروں کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ طائوس اور عروہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ اس آیت میں خصی کرنے کی نہی ہے، آپ نے فرمایا کہ میں صرف نر جانوروں کو خصی کرنے سے روکتا ہوں۔ - حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کو چوپائے کو خصی کرنا مثلہ ہے۔ پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت کی ۔ عبداللہ بن نافع نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا
وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے
Explained together with ayah 119
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.