Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 101–110 of 176

101

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

سفر میں نماز کا حکم - ارشاد باری ہے (واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصدوا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا۔ اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام میں اختصار کر دو ( خصوصاً ) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے) اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور قصر کو دو باتوں کی بنا پر مباح کردیا ہے۔ ایک تو سفر یعنی زمین میں قدم مارنے ( سفر کرنے ) کی بنا پر اور دوسری خوف کی بنا پر۔ آیت میں مذکور قصر کے مفہوم کے متعلق سلف میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر کی نماز چار رکعتیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے فرض کی ہے۔ - یزید الفقیر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ صلوۃ الخوف ایک ایک رکعت ہے مجاہد سے مروی ہے کہ چار کی تعداد قصر کر کے دو کردی گئی ہے۔ ابن جریج نے طائوس سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نماز میں قصر خوف اور قتال کی صورت میں ہوتی ہے نماز ہر حالت میں پڑھے گا خواہ سوار ہو پیدل۔ رہ گئی یہ بات کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں یعنی صحابہ کرام نے سفر میں جو دو رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ قصر نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کے مطابق جو اس روایت کے علاوہ ہے جس کا ذکر ہم نے قصر کے سلسلے میں کیا ہے، قصر صرف حدود یعنی صفت صلوۃ میں ہے نیز یہ کہ تم تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر ذرا جھکا لو گے اور اشارہ سے کام لو گے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کی رو سے سب سے اولیٰ اور مناسب تاویل وہ ہے جو حضرت ابن عباس (رض) اور طائوس سے مروی ہے کہ قصر نماز کی صفت یعنی ادائیگی کے طریقے کے اندر ہوتی ہے یعنی رکوع اور سجود ترک کر کے اشارے سے کام لیا جاتا ہے اور قیام ترک کر کے سواری پر سوار ہو کر نماز ادا کی جاتی ہے۔ نماز ک اندر پائوں سے چلنے کو بھی قصر کا نام دینا درست ہے۔ کیونکہ جب خوف کی حالت نہ ہو اس صورت میں نماز کے اندر پائوں سے چلنے کی بنا پر نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) عنہ اور حضرت جابر (رض) سے صلوٰۃ الخوف کے متعلق ایک رکعت کی جو روایت ہے وہ اس پر محمول ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ صرف ایک رکعت پڑھے گا کیونکہ امام لوگوں کے دو گروہ بنائے گا جو گروہ امام کے ساتھ ہوگا وہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا جائے گا پھر دوسرا گروہ آ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے گا۔ اور امام سلام پھیر دے گا اس طرح ہر گروہ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت پڑھے گا اور پھر ایک رکعت خود ادا کرے گا۔ - اس طرح حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت کہ نماز کی صفت میں قصر ہوتی ہے اس روایت کی مخالف نہیں ہوگی کہ صلوٰۃ الخوف ایک رکعت ہوتی ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ روایتیں ہیں جو صلوۃ الخوف میں آپ کے طریق کار کو بیان کرتی ہے اگرچہ ان روایات میں بیان کردہ صورتوں میں بڑا اختلاف ہے۔ تا ہم یہ تمام رواتیں دو رکعتوں کی موجب ضرور ہیں۔ ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں ہے جس میں یہ بیان ہو کہ آپ نے صلوۃ الخوف ایک رکعت پڑھی ہے۔ البتہ ان روایات میں یہ بات ضرور بیان کی گئی ہے کہ ہر گروہ کے لیے امام کے ساتھ ایک رکعت ہے اور صرف اس ایک رکعت پر انحصار کیے بغیر دوسری رکعت کو خود ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر صلوٰۃ الخوف صرف ایک رکعت ہوتی تو اس کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں کی نماز کی کیفیتوں میں اختلاف نہ ہوتا۔ - جب حضرت ابن عباس (رض) عنہ اور دیگر صحابہ نے یہ نقل کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعیتیں ادا کی ہیں تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ خائف کی نماز کا فرض بھی غیر خائف کی نماز کے فرض کی طرح ہے نیز یہ کہ لوگوں کے لیے ایک ایک رکعت کی روایت اس معنی پر محمول …

An-Nisaa 4:101Listen in Qur'an →
102

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًۭى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

صلوٰۃ الخوف کا بیان - قول باری ہے ( واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰۃ فلتقم طائفۃ منھم معک۔ اور اے نبی جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور ( حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو) تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتےیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلوٰۃ الخوف مختلف صورتوں میں منقول ہے۔ اس لیے فقہاء امصار کا اس بارے میں اختلاف رائے ہوگیا ہے۔ امام اوب حنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ ایک گروہ امام کے ساتھ کھڑا ہوگا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوگا۔ امام پہلے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائے گا اور اس کے بعد یہ لوگ اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ چلے جائیں گے پھر دشمن کے سامنے کھڑا ہونے والا دوسرا گروہ آئے گا۔ امام اسے ایک رکعت دو سجوں کے ساتھ پڑھائے گا، امام تو سلام پھیر دے گا اور مقتدی واپس اپنی جگہ چلے جائیں گے۔ پھر دشمن کے مقابلے پر کھڑا ہونے والا گروہ آئے گا اور آ کر ایک رکعت قرأت کے بغیر ادا کرے گا اور تشہد کے بعد سلام پھیر دے گا۔ یہ گروہ پھر دشمن کے سامنے چلا جائے گا اور دوسرا آ کر قرأت اور دو سجدوں کے ساتھ ادا کرے گا۔- قاضی ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ اگر دشمن مسلمانوں کی صفوں اور قبلہ کے درمیان صف آرا ہو تو امام تمام لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دے گا۔ تمام لوگ امام کے ساتھ تکبیر کہیں گے اور رکوع کریں گے لیکن سجدہ کرتے وقت پہلی صف امام کے ساتھ سجدے میں جائے گی اور دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہے گی جب یہ لوگ سجدہ کر کے اٹھ کھڑے ہوں گے تو دوسری صف والے سکدے میں جائیں گے۔ جب یہ لوگ سجدے سے فارغ ہوجائیں گے تو سیدھے کھڑے ہوجائیں گے پھر اگلی صف والے پیچھے آ جائیں گے اور پچھلی صف والے آگے چلے جائیں گے۔ اس کے بعد امام سب کو دوسری رکعت اس طرح پڑھائے گا جس طرح پہلی رکعت پڑھائی تھی۔ اگر دشمن قبلے کی پچھلی طرف ہو تو امام کے ساتھ ایک صف ہوگی جس کا منہ قبلے کی طرف ہوگا دوسری صف کا رخ دشمن کی طرف ہوگا۔- امام کے ساتھ سب تکبیر کہیں گے اور رکوع کریں گے۔ پھر امام کے ساتھ والی صف دو سجدے کرے گی اور اس کے بعد یہ لوگ واپس جا کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوجائیں گے پھر دوسری صف والے آ کر دو سجدے کریں گے اس کے بعد امام سب کو دوسری رکعت پڑھائے گا۔ سب کے سب امام کے ساتھ رکوع میں جائیں گے اور امام کے ساتھ والی صف کے لوگ سجدہ کریں گے پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے جا کھڑے ہوں گے اور دسورے لوگ آ کر امام کے ساتھ سجدہ کریں گے اور سجدے سے فارغ ہوجائیں گے پھر امام سب کے ساتھ سلام پھیر دے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف سے صلوۃ الخوف کے بارے تین روایتیں منقول ہیں ایک روایت تو امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول کی مطابقت میں ہے۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ کے قول کے مطابق ہے جب دشمن قبلے کی سمت موجود ہو۔ اگر دشمن غیر قبلہ کی سمت میں موجود ہو تو اس صورت میں روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ کے قول کے ساتھ ہے۔- امام ابو یوسف سے تیسری روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک امام صلوٰۃ الخوف نہیں پڑھائے گا بلکہ یہ نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھی جائے گی اور اسے دو امام پڑھائیں گے۔ سفیان ثوری سے امام ابوحنیفہ کے قول کی مطابقت میں روایت منقول ہے۔ ان سے ابن ابی لیلیٰ کے قول کی مطابقت میں بھی روایت منقول ہے، ثوری نے کہا ہے کہ اگر تم اس طرح بھی پڑھ لو تو جائز ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ امام ایک گروہ کی امامت کرے گا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا رہے گا۔- امام پہلے گروہ کو دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائے گا اس کے بعد امام کھڑا رہے گا اور اس کے ساتھ والا گروہ خود دوسری رکعت ادا کرے گا اور تشہد کے بعد سلام پھیر لے گا۔ پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے جائیں گے اور دوسرے گروہ کی جگہ کھڑے …

An-Nisaa 4:102Listen in Qur'an →
103

فَإِذَا قَضَيْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ قِيَٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا ٱطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا

پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

قول باری ہے ( فاذا اطماننتم الصلوٰۃ ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتا۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو۔ نماز در حقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ حسن اور مجاہد نیز قتادہ سے مروی ہے کہ جب تم واپس اپنے پانے وطن اور ٹھکانوں پر پہنچ جائو تو پوری نماز پڑھو اور قصر نہ کرو۔- سدی اور کچھ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ تم پر نماز کے رکوع و سجود کو پوری طرح ادا کرنا لازم ہے جبکہ تم چل نہ رہے ہو اور نہی سواریوں پر سور ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے قول باری ( واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان نقصروا من الصلوٰۃ) میں قصر سے تعداد رکعات میں کمی مراد لی ہے۔ انہوں نے قول باری ( فاذا اطماننتم فاقیمو الصلوٰۃ) سے یہ مفہوم لیا ہے کہ خوف اور سفر ختم ہوجانے پر نماز کی رکعتوں کی تعداد پوری کرو۔ اور جن حضرات نے قصر سے نماز کی ادائیگی کی کیفیت میں کمی مراد لی ہے۔ مثلاً اشارے سے نماز کی ادائیگی یا نماز میں چلن کی اباحت انہوں نے قول باری ( فاقیمو الصلوٰۃ) کو معہود یعنی معلوم نماز کو اس طریقے پر ادا کرن کے لیے حکم قرار دیا ہے جس طریقے پر خوف کی حالت طاری ہونے سے پہلے ادا کی جاتی تھی ( واللہ اعلم) - اوقات نماز کا بیان - ارشاد ربانی ہے ( ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا) حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نماز کے بھی اسی طح اوقات ہیں جس طرح حج کے اوقات ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور عطیقہ کا قول ہے کہ ( موقوتا) کے معنی مفروضات کے ہیں یعنی فرض شدہ، حضرت ابن مسعود (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ نماز کے قسط وار اوقات میں کہ جب ایک قسط گزر جاتی ہے تو دوسری قسط آ جاتی ہے۔ زید بن اسلم سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ قول باری فرض اور اس کے اوقات کے ایجاب پر مشتمل ہے۔ اس لیے کہ قول باری ( کتاباً ) کے معنی فرض کے ہیں اور ( موقوتاً ) کا مفہوم یہ ہے کہ نماز معلوم و معین اوقات میں فرض کی گئی ہے۔ اس آیت میں اوقات نماز کا ذکر اجمالاً ہوا ہے لیکن دوسرے مواقع پر ان اوقات کو واضح طور پر بیان کردیا ہے البتہ ان اوقات کے اوائل و اواخر کی تحدید نہیں کی ہے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے ان کے حدود اور مقادیر بیان کر دئیے گئے ہیں۔ کتاب اللہ میں جن اوقات کا ذکر ہوا ہے ان میں ایک یہ آیت ہے ( اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل۔ سوج کے ڈھل جانے سے لے کر ات کی ابتدا تک نماز قائم کرو) مجاہد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ( لدلوک الشمس) کے معنی ہیں جب سورج وسط آسمان سے ڈھل جائے یہ ظہر کی نماز کے لیے وقت ہے۔ (الی غسق الیل) کے معنی ہیں رات ظاہر ہوجائے یہ مغرب کی نماز کے لیے وقت ہے اسی طرح حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ سورج ڈھل جانے کو دلوک کہتے ہیں۔ ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ غروب آفتاب کو دلوک کہتے ہیں۔ - ابوعبدالرحمن سلمی سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب ان حضرات نے دلوں کے دو معنی لیے ہیں۔ ایک زوال آفتاب اور دوسرے غروب آفتال تو یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ لفظ میں دونوں معنوں کا احتمال موجود ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرات سلف اس سے کبھی یہ معانی مراد نہ لیتے۔ لغت میں دلوک کے معنی میل یعنی جھکائو کے ہیں، اسی لیے دلوک شمس کے معنی سورج کا میلان یا جھکائو ہے۔ سورج کبھی ڈھلنے کی صورت میں جمک جاتا ہے اور کبھی غروب کی صورت میں ہمیں یہ معلوم ہے کہ سورج کا جھکائو یا ڈھل جانا وقت کی ابتداء ہے اور رات کا ظاہر ہوجانا وقت کی انتہا اور اس کی غایت ہے اس لیے کہ قول باری ہے ( الی غسق اللیل) حرف الی غایت کے معنی ادا کرتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ظہر کا وقت رات کے ظہور کے ساتھ متصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان عصر کا …

An-Nisaa 4:103Listen in Qur'an →
104

وَلَا تَهِنُوا۟ فِى ٱبْتِغَآءِ ٱلْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا۟ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے

قول باری ہے ( ولا تھنوا فی اتبغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون۔ - اس گروہ کے تعاقت میں کمزوری نہ دکھائو اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں ( تا آخری آیت۔ اس قول باری میں جہاد پر ابھارا گی ہے۔ اس میں جہاد کرنے کا حکم ہے اور مشرکین کا تعاقب کرنے اور ان کے ساتھ پنجہ آزمائی میں کمزوری اور سستی دکھانے سے منع کیا گیا ہے اس لیے کہ ابتغاء کے معنی طلب اور تعاقب کے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کی طلب میں اس کا پیچھا کریں تو اس وقت آپ ” بغیت و ابتغیت کا فقرہ استعمال کریں گے۔ وہن دل کی اس کمزوری اور بزدلی کو کہتے ہیں جو انسان دشمن کا مقابلہ کرتے وقت محسوس کرتا ہے۔ - اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ( ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون) کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے دلوں سے کمزوری اور بزدلی دور کرنے ، جرأت پیدا کرنے اور دشمن کے خلاف پیش قدمی کرنے کی دعوت و ترغیب دی۔ اور انہیں یہ بتایا کہ جہاں تک قتال کے سلسلے میں تکلیفین برداشت کرنے کا تعلق ہے اس میں تم اکیلے نہیں ہو بلکہ انہیں بھی یہی تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں لیکن تمہیں ان پر اییک بات میں فضیلت حاصل ہے وہ یہ کہ تمہیں اللہ کی ذات سے جس ثواب و اجر کی امید ہے مشرکین اس کی امید نہیں کرسکتے۔ اس لیے تمہیں ان کی بہ نسبت زخموں کی تکلیفوں پر زیادہ صبر کرنا چاہیے اور زیادہ جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ انہیں یہ فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں کسی اجرو ثواب کی توقع ہے۔ قول باری ہے ( وترجون من اللہ مالا یرجون اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں) اس کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ جب تم اللہ کے دین کی نصرت کرو گے اور اللہ کی طرف سے بھی تمہاری مدد اور نصرت کا وعدہ ہے۔ اور دوسری یہ کہ تمہیں آخرت کے ثواب اور جنت کی نعمتوں کے حصول کی امید ہے۔- اس لیے قتال کی تکالیف پر صبر کرنے اور زخموں کی اذیتیں برداشت کرنے کے لیے مسلمانوں کے اسباب و دواعی کافروں کے اسباب و دواعی سے بڑھ کر ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے جس ثواب کی تمہیں آرزو اور تمنا ہے اس کی انہیں آرزو اور تمنا نہیں ہے۔ حسن، قتادہ اور ابن جریج سے یہ تفسیر منقول ہے۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ تمہیں اللہ کا جو خوف ہے وہ انہیں نہیں ہے۔ جس طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے ( مالکم لا ترجون للہ وقارا ۔ تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو) یعنی تمہیں اللہ کی عظمت کا خوف نہیں ہے۔ بعض اہل لغت کا قول ہے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ البتہ نفی کے ساتھ اس کا یہ استعمال درست ہے۔ لیکن یہ ایسی بات ہے جو کسی دلالت کے بغیر قابل قبول نہیں ہوسکتی۔

An-Nisaa 4:104Listen in Qur'an →
105

إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًۭا

(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا

قول باری ہے ( انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ اس کی طرف سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن احکامات و عبادات سے آگاہ کیا جائے آپ ان کی روشنی میں لوگوں کے درمیان فیصلے کریں۔ قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو) روایت ہے کہ آیت ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے ایک زدہ چرالی تھی۔ جب اسے چوری ظاہر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اس نے یہ زرہ ایک یہودی کے گھر یمں پھینک دی، جب یہ زرہ برآمد ہوگئی تو یہودی نے اس کی چوری سے انکار کیا لیکن اصل چور نے یہ ظاہر کیا کہ یہودی اس کا چور ہے۔- مسلمانوں کے ایک گرہ نے یہودی کے مقابلہ میں مسلمان کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میلان بھی ان کی بات کی طرف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل چور کے بارے میں مطلع کردیا اور یہودی کی برأت واضح کر کے آپ کو اس مخاصمت سے منع فرما دیا اور چور کا ساتھ دینے والوں کی طرف میلان کی بنا پر آپ کو استغفار کا حکم دیا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک شخص کو جب تک کسی معاملے کی حقیقت کا علم نہ ہوجائے اس وقت تک حق کے اثبات یا نفی کے سلسلے میں کسی کی طرف سے اس کے لیے جھگڑنا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی صورت حال پر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گرفت کی اور انہیں استغفار کا حکم دیا۔ یہ آیت اور اس کے مابعد کی آیت جس میں بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے کی نہی ہے اور اس سلسلے میں آخر تک جو کچھ ارشاد ہوا ہے، یہ سب اس شخص کی حمایت کی نہی کی تاکید مزید ہے جس کے حق پر ہونے کا کوئی علم نہ ہو۔- قول باری ( لتحکم بین الناس بما اراک اللہ) سے ان لوگوں نے بعض دفعہ استدلال کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنے اجتہاد سے نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ کے تمام اقوال و اقعال کا صدور نصوص کی بنا پر ہوتا تھا۔ نیز یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ( وما ینطق عن الھویٰان ھو الا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔ ان کا کام تو تمام تروحی ہی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنے اجتہاد کی بنا پر نہیں فرماتے تھے۔ اس لیے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو باتیں اجتہاد کی بنا پر آپ سے صادر ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے آگاہ کردیا تھا، ان کی رہنمائی کردی تھی اور ان کے کرلینے کا بذریعہ وحی حکم بھیج دیا تھا اس لیے آیت میں احکام کے اندر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجتہاد کی نفی پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ قول باری ( ولا تکن للخائنین خصیما) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی طرف سے مدافعت کی تھی اور یہ بھی گنجائش ہے کہ آپ نے مدافعت کا ارادہ کیا تھا اس لیے کہ آپ کا میلان مسلمانوں کی طرف تھا، یہودی کی طرف نہیں تھا۔ کیونکہ آپ کو یہ گمان نہیں تھا کہ مسلمان حق پر نہیں ہوں گے، اور جبکہ ظاہری طور پر زرہ بھی یہودی کے گھر سے برآمد ہوئی تھی تو یہودی پر چوری کی تہمت زیادہ مناسب تھی اور مسلمان کی اس سے برأت اولیٰ تھی۔- اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دونوں فریق میں سے کسی ایک طرف میلان کا اظہار کرنے سے منع فرما دیا اگرچہ ایک فریق یہودی تھا اور دسورا فریق مسلمان تھا۔ عدالتی فیصلوں کے سلسلے میں یہ بات ایک بنیاد اور اصل بن گئی کہ قاضی یا …

An-Nisaa 4:105Listen in Qur'an →
106

وَٱسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔ - کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لے گا ۔ کیونکہ کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر ایسی بات کا الزام عائد کرے جس کا اسے علم نہ ہو۔

An-Nisaa 4:106Listen in Qur'an →
107

وَلَا تُجَٰدِلْ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًۭا

اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

Explained together with ayah 106

An-Nisaa 4:107Listen in Qur'an →
108

يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

Explained together with ayah 106

An-Nisaa 4:108Listen in Qur'an →
109

هَٰٓأَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ جَٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَمَن يُجَٰدِلُ ٱللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًۭا

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟

Explained together with ayah 106

An-Nisaa 4:109Listen in Qur'an →
110

وَمَن يَعْمَلْ سُوٓءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُۥ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا

Explained together with ayah 106

An-Nisaa 4:110Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.