وَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِىٓ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ
اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
Explained together with ayah 130
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 131–140 of 200
وَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِىٓ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ
اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
Explained together with ayah 130
وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
Explained together with ayah 130
۞ وَسَارِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے
Explained together with ayah 130
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلْكَٰظِمِينَ ٱلْغَيْظَ وَٱلْعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
Explained together with ayah 130
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
Explained together with ayah 130
أُو۟لَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
Explained together with ayah 130
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌۭ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ
تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
Explained together with ayah 130
هَٰذَا بَيَانٌۭ لِّلنَّاسِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةٌۭ لِّلْمُتَّقِينَ
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
Explained together with ayah 130
وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے
45: جنگ احد کا واقعہ مختصرا یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا۔ آنحضرتﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدانِ جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دُشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے۔ جب دُشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا توصحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز وسامان مالِ غنیمت کے طور پر اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دُشمن بھاگ چکا ہے توانہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں بھی مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہئے۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے ٹیلہ چھوڑنے کی مخالفت کی اور اپنے ساتھیوں کو یاد دِلایا کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں ہر حال میں یہاں جمے رہنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر ان میں سے اکثر نے وہاں ٹھہرنے کو بے مقصد سمجھ کر ٹیلہ چھوڑدیا۔ دُشمن نے جب دُور سے دیکھا کہ ٹیلہ خالی ہوگیا ہے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے ہیں توانہوں نے موقع پاکر ٹیلے پر حملہ کردیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓاور ان کے چند ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر سب شہید ہوگئے۔ اور دُشمن اس ٹیلے سے اُتر کر ان بے خبر مسلمانوں پر حملہ آور ہوگیا جو مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے۔ یہ حملہ اس قدر غیر متوقع اور ناگہانی تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ اسی دوران کسی نے یہ افواہ اڑادی کہ آنحضرتﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ اس افواہ سے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔ ان میں سے بعض میدان چھوڑ گئے، بعض جنگ سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف کھڑے رہ گئے۔ البتہ آنحضرتﷺ کے جاں نثار صحابہ کی ایک جماعت آپ کے اِرد گرد مقابلہ کرتی رہی، کفار کا نرغہ اتنا سخت تھا کہ اس کشمکش میں آنحضرتﷺ کا مبارک دانت شہید ہوگیا۔ اور چہرہ مبارک لہو لہان ہوگیا۔ بعد میں جب صحابہ کو پتہ چلا کہ آپ کی شہادت کی خبر غلط تھی اور ان کے حواس بجا ہوئے توان میں سے بیشتر میدان میں لوٹ آئے، اور پھر کفار کو بھاگنا پڑا، لیکن اس درمیانی عرصے میں ستر صحابہ کرام شہید ہوچکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس واقعے سے تمام مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا۔ قرآنِ کریم ان آیتوں میں انہیں تسلی بھی دے رہا ہے کہ یہ زمانے کے نشیب وفراز ہیں جن سے مایوس اور دِل شکستہ نہ ہونا چاہئے، اور اس طرف بھی متوجہ کررہا ہے کہ یہ شکست کچھ غلطیوں کا نتیجہ تھی جس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌۭ فَقَدْ مَسَّ ٱلْقَوْمَ قَرْحٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ
اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
46: جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں کفار مکہ کے سترسردار مارے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے۔
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.