Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 1–10 of 286

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓ

الم

١) مختلف سورتوں کے شروع میں یہ حروف اسی طرح الگ الگ نازل ہوئے تھے، ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک راز ہے جس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور عقیدے یا عمل کا کوئی مسئلہ ان کے سمجھنے پر موقوف نہیں۔

2

ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًۭى لِّلْمُتَّقِينَ

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

(۲) یعنی اس کتاب کی ہر بات کسی شک وشبہ کے بغیر درست ہے، انسان کی لکھی ہوئی کسی کتاب کو سوفیصد شک سے بالاتر نہیں سمجھاجاسکتا، کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا عالم ہواس کا علم محدود ہوتا ہے، اور اکثر اس کی کتاب اس کے ذاتی گمان پر مبنی ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ کتاب اﷲ تعالیٰ کی ہے، جس کا علم لامحدود بھی ہے اور سوفیصد یقینی بھی، اس لئے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، کسی کو شک ہو تو یہ اس کی ناسمجھی کی وجہ سے ہوگا، کتاب کی کوئی بات شبہ والی نہیں۔

(۳) اگرچہ قرآنِ کریم نے صحیح راستہ ہر ایک کو دکھایا ہے، خواہ وہ مؤمن ہویاکافر، اس لئے اس معنیٰ کے لحاظ سے اس کی ہدایت سب کے لئے ہے، لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھاجائے تو اس ہدایت کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے جو اس کی بات کو مان کر اس کے تمام اَحکام اور تعلیمات پر عمل کریں۔ اس لئے یہ فرمایا گیا کہ ’’یہ ہدایت ہے ڈر رکھنے والوں کے لئے جو ’’بے دیکھی چیزوں‘‘ پر ایمان لاتے ہیں الخ‘‘ ڈر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھے کہ اسے ایک دن اللہ کے حضور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے، لہٰذا مجھے کوئی کام ایسا نہ کرنا چاہئے جو اس کی ناراضی کا باعث ہو۔اسی خوف اور دھیان کا نام تقویٰ ہے۔ ’’بے دیکھی چیزوں‘‘ کے لئے قرآنِ کریم نے ’’غیب‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دِکھائی نہیں دیتیں، نہ ہاتھ سے چھوکر یا ناک سے سونگھ کر انہیں محسوس کیا جاسکتا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی یا تو قرآنِ کریم میں ان کا ذکر ہے، یا آنحضرتﷺ نے وحی کے ذریعے وہ باتیں معلوم کرکے ہمیں بتائی ہیں، مثلا اﷲ تعالیٰ کی صفات، جنت ودوزخ کے حالات، فرشتے وغیرہ۔ یہاں اللہ کے نیک بندوں کی یہ تعریف کی جارہی ہے کہ یہ لوگ صرف اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات پر یقین کرکے ان چیزوں کو دل سے مانتے ہیں جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھیں۔ یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لئے اگر یہ چیزیں آنکھوں سے نظر آجاتیں اور پھر کوئی شخص اُن پر ایمان لاتا تو کوئی امتحان نہ ہوتا۔ اﷲ تعالیٰ نے ان چیزوں کو انسان کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا ہے، لیکن اُن کے وجود کے بیشمار دلائل مہیا فرمادئے ہیں کہ جب کوئی شخص ذرا انصاف سے غور کرے گا توان باتوں پر ایمان لے آئے گا اور امتحان میں کامیاب ہوگا۔ قرآنِ کریم نے بھی وہ دلائل بیان فرمائے ہیں جو ان شا اللہ آگے آتے رہیں گے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قرآنِ کریم کو حق طلبی کے جذبے سے غیرجانبدار ہو کر پڑھا جائے اور یہ خیال دل میں رکھا جائے کہ یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اس میں لاپروائی برتی جائے۔ یہ انسان کی ہمیشہ کی زندگی کی بہتری اور تباہی کا معاملہ ہے۔ لہٰذا یہ ڈر دل میں ہونا چاہئے کہ کہیں میری نفسانی خواہشات قرآنِ کریم کے دلائل ٹھیک ٹھیک سمجھنے میں رکاوٹ نہ بن جائیں، اس لئے مجھے اس کی دی ہوئی ہدایت کو تلاشِ حق کے جذبے سے پڑھنا چاہئے، اور پہلے سے دل میں جمے ہوئے خیالات سے ذہن کو خالی کرکے پڑھنا چاہئے تاکہ مجھے واقعی ہدایت نصیب ہو۔ یہ ہدایت ہے ڈررکھنے والوں کے لئے کا ایک مطلب یہ بھی ہے۔

3

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(٤) جو لوگ قرآن کریم کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہاں ان کی صفات بیان فرمائی گئ ہیں ان میں سے سب سے پہلی صفت تو یہ ہے کہ وہ ’’ غیب‘‘ یا ان دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی۔ اس میں تمام ایمانیات داخل ہوگئے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا، یا جو کچھ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اس سب پر ایمان لاتے ہیں۔ دوسری چیز نماز قائم کرنا بیان کی گئی ہے جو بدنی عبادتوں میں سب سے اہم ہے اور تیسری چیز اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا جس میں زکوٰۃ و صدقات آجاتے ہیں جو مالی عبادت ہے۔

4

وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

(٥) یعنی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کے جو وحی حضور اکرمﷺ پر اتاری گئی وہ بھی بالکل سچی ہے اور جو آپ سے پہلے انبیائے کرام (علیہم السلام) مثلاً حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہما السلام وغیرہ پرنازل کی گئی تھی وہ بھی بالکل سچی تھی اگرچہ بعد میں لوگوں نے اسے ٹھیک ٹھیک محفوظ نہ رکھا بلکہ اس میں تحریف کردی۔

اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ وحی کا سلسلہ حضور اکرمﷺپر ختم ہوگیا، آپﷺکے بعد کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جس پر وحی آئے یا اسے پیغمبر بنایاجائے، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی وحی اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر فرمایا ہے آپ کے بعد کی کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر آپ کے بعد بھی کوئی نیا پیغمبر آنے والا ہوتا یا اس کی وحی پر ایمان لانا ضروری ہوتا تو اس کو بھی یہاں بیان فرمایا جاتا جیساکہ پچھلے پیغمبروں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ آپ حضرات کے بعد حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں آپ کو ان پر بھی ایمان رکھنا ہوگا۔ (دیکھئے قرآن کریم سورۃ آل عمران آیت 81)

(٦) آخرت سے مرادوہ زندگی ہے جو مرنے کے بعد حاصل ہوگی اور جو ہمیشہ کے لئے ہوگی اور اس میں ہر بندے کو دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اسی کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں، اگرچہ یہ آخرت بھی غیب یعنی ان دیکھی چیزوں میں شامل ہے جس پر ایمان لانے کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا تھا، لیکن آخر میں اسے علیحدہ کرکے خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ ہی درحقیقت انسان کی سوچ اور اس کی عملی زندگی کو صحیح راستے پر رکھتا ہے جو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے پیش ہو کر اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے وہ کسی گناہ یاجرم کا ارتکاب پر کبھی ڈھٹائی کے ساتھ آمادہ نہیں ہوگا۔

5

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًۭى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

Explained together with ayah 4

6

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے

۷) یہاں اُن کافروں کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آجائیں، وہ کبھی آنحضرتﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اﷲ عنہما) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ’’’کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑگئے ہیں۔ ’’ترجمے میں‘‘ کفر اپنا لیا ہے‘‘ کے الفاظ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔

(۸) ’’ڈرانا‘‘ انذار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کو بکثرت ’’ڈرانے‘‘ سے تعبیرفرمایا ہے۔ کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے بُرے انجام سے ڈراتے ہیں۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ چاہے ان کو دعوت دیں یا نہ دیں، ان کے سامنے دلائل پیش کریں، یا نہ کریں، چونکہ انہوںنے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات ماننی نہیں ہے، اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

7

خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے

(٩) اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یاغفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے ؛ لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کرلے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تو اس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر مہر لگادی تو معذور ہوگئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ حق بات نہیں ماننی۔

8

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

(١٠) سورت کے شروع میں مومنوں کے اوصاف اور ان کا انجام خیر بیان فرمایا گیا، پھر ان لوگوں کا ذکر ہوا جو کھلے کافر ہیں، اب یہاں سے ایک تیسرے گروہ کا بیان ہورہا ہے جسے منافق کہا جاتا ہے یہ لوگ ظاہر میں تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

9

يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں

(١١) یعنی بظاہر تو وہ اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ؛ کیونکہ اس دھوکے کا انجام خود ان کے حق میں برا ہوگا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے وہ کفر کے دنیوی انجام سے بچ گئے، حالانکہ آخرت میں ان کو جو عذاب ہوگا وہ دنیا کے عذاب سے زیادہ سنگین ہے۔

10

فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًۭا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(١٢) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر ٧ میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔

Al-Baqara 2:10Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.