أَوْ خَلْقًۭا مِّمَّا يَكْبُرُ فِى صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَا ۖ قُلِ ٱلَّذِى فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبًۭا
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
اور کہا انھوں نے، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اورچورا چورا تو کیا بے شک ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (49)کہہ دیجیے! ہو جاؤ تم پتھر یا لوہا (50) یا (کوئی اور) مخلوق اس میں سے جو بڑی معلوم ہو تمھارے سینوں (دلوں ) میں ، پھر عنقریب کہیں گے وہ، کون دوبارہ لوٹائے گا ہمیں ؟ آپ کہہ دیں ، وہی جس نے پیدا کیا تمھیں پہلی بار، پھر عنقریب وہ ہلائیں گے آپ کی طرف اپنے سر اور وہ کہیں گے کب ہو گا وہ؟ کہہ دیجیے! شاید کہ ہو وہ قریب ہی (51) جس دن وہ (اللہ) بلائے گا تمھیں تو تم تعمیل ارشاد کرو گے، حمد کرتے ہوئے اس کی اور تم گمان کرو گے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا (ساوقت)(52)
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ، اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ﴾ ’’کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘‘ یعنی جب ہم بوسیدہ ہو جائیں گے ﴿ ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر؟‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے، خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کر لیا۔پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے… اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ، حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح، سب سے نمایاں ، دلائل و براہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے… تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں ۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ﴾(آل عمران : 3؍8) ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر ہمیں اپنی رحمت سے نواز! بے شک تو بہت نوازنے والا ہے۔‘‘
[51,50] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں ﴿ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ ۰۰اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾’’تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں ‘‘ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہو جاؤ کہ تم قدرت الٰہی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مشیت تمھاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے‘‘ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيۡ فَطَرَؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کون لوٹا کر لائے گا ہم کو؟ کہہ دیجیے! وہ جس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔‘‘ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمھیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمھیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ ﴿ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾(الأنبیاء : 21؍104) ’’جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔‘‘ ﴿ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ۠ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ ﴾ ’’تو (تعجب سے) تمھارے آگے سر ہلائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ﴾ …