Muslim99Muslim99
← Tafsir library

18. Al-Kahf

The Cave · Meccan · 110 ayahs

سُورَةُ الكَهۡفِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 110

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ ٱلْكِتَٰبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُۥ عِوَجَا ۜ

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

2

قَيِّمًۭا لِّيُنذِرَ بَأْسًۭا شَدِيدًۭا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًۭا

سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ اُن کے لئے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی) بہشت ہے

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

3

مَّٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدًۭا

جس میں وہ ابدا لاآباد رہیں گے

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

4

وَيُنذِرَ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭا

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

5

مَّا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍۢ وَلَا لِءَابَآئِهِمْ ۚ كَبُرَتْ كَلِمَةًۭ تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ ۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًۭا

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتے ہیں محض جھوٹ ہے

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

6

فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٌۭ نَّفْسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَسَفًا

(اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔

[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ …

7

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى ٱلْأَرْضِ زِينَةًۭ لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے

بے شک ہم نے بنایا اس کو جو کچھ اوپر زمین کے ہے زینت اس کے لیےتاکہ ہم آزمائیں انھیں کہ کون ان میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں (7) اور بلاشبہ ہم البتہ بنا ڈالنے والے ہیں اس کو جو کچھ اوپر اس (زمین) کے ہے صاف چٹیل میدان (8)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو، لذت بھرے ماکولات و مشروبات، خوبصورت ملبوسات، اشجار و انہار، کھیتیوں ، باغات، دلفریب مناظر، خوش منظر باغیچوں ، سحر انگیز آوازوں ، خوبصورت چہروں ، سونے چاندی، اونٹوں اور گھروں ، ان سب کو دنیا کی زینت، فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ ﴿ لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے ۔

[8] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضمحل ہونے والی، فانی اور زائل ہو جانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بے آب و گیاہ اور بنجر ہو جائے گی، اس کی تمام لذتیں ناپید ہو جائیں گی، اس کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے تمام آثار مٹ جائیں گے اور اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ یہ ہے اس دنیا کی حقیقت، اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے سامنے اس طرح بیان کر دیا ہے گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا سے دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے کہا ہے اور ہمیں اس گھر کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کی نعمتیں دائمی اور جہاں کے رہنے والے بہت خوش بخت ہیں ۔ یہ سب کچھ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جن لوگوں کا باطن گناہوں کے میل کچیل سے آلودہ ہے اور وہ دنیا کی ظاہری شکل کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دنیا کی زیب و زینت سے فریب کھا جاتے ہیں تب وہ دنیا میں بہائم کی طرح رہتے ہیں ، مویشیوں کی طرح اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنے رب کے حق میں غور کرتے ہیں نہ اس کی معرفت کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے ارادے صرف شہوات کے حصول پر مرتکز ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی حالت میں حاصل ہوں ۔ جب ان لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو انھیں اپنی ذات کے ویران ہونے اور لذتوں کے چھوٹ جانے پر بہت قلق ہوتا ہے۔ اس قلق کا سبب یہ نہیں کہ وہ کوتاہی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جو اس دنیا کے باطن پر نظر ڈالتا ہے اور اسے دنیا اور خود اپنے مقاصد کا علم ہوتا ہے وہ اس دنیا سے صرف اتنا سا استفادہ کرتا ہے جس سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مدد لے سکے جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے اور اپنی عمر میں فرصت کو غنیمت جانتا ہے وہ دنیا کو راہ گزر سمجھتا ہے، آرام کی منزل نہیں ۔ وہ اسے انتہائی دشوار اور تکلیف دہ سفر سمجھتا ہے، عیش و آرام کا گھر نہیں ۔ پس وہ اپنے رب کی معرفت کے حصول اس کے احکام کے نفاذ اور اپنے اعمال کو مقام احسان پر پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین منازل میں قیام کرے گا وہ ہر قسم کے اکرام و تکریم، نعمتوں اور مسرتوں کا مستحق ہو گا۔ جب فریب خوردہ لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے تھے تو اس شخص کی نظر دنیا کے باطن پر تھی، جب لوگ حصول دنیا کے لیے کام کرتے تھے تو یہ اپنی آخرت کے لیے کام کرتا تھا۔ دونوں فریقوں میں بہت بڑا فرق اور دونوں گروہوں کے درمیان بہت بڑا تفاوت ہے۔

8

وَإِنَّا لَجَٰعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًۭا جُرُزًا

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے

بے شک ہم نے بنایا اس کو جو کچھ اوپر زمین کے ہے زینت اس کے لیےتاکہ ہم آزمائیں انھیں کہ کون ان میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں (7) اور بلاشبہ ہم البتہ بنا ڈالنے والے ہیں اس کو جو کچھ اوپر اس (زمین) کے ہے صاف چٹیل میدان (8)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو، لذت بھرے ماکولات و مشروبات، خوبصورت ملبوسات، اشجار و انہار، کھیتیوں ، باغات، دلفریب مناظر، خوش منظر باغیچوں ، سحر انگیز آوازوں ، خوبصورت چہروں ، سونے چاندی، اونٹوں اور گھروں ، ان سب کو دنیا کی زینت، فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ ﴿ لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے ۔

[8] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضمحل ہونے والی، فانی اور زائل ہو جانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بے آب و گیاہ اور بنجر ہو جائے گی، اس کی تمام لذتیں ناپید ہو جائیں گی، اس کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے تمام آثار مٹ جائیں گے اور اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ یہ ہے اس دنیا کی حقیقت، اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے سامنے اس طرح بیان کر دیا ہے گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا سے دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے کہا ہے اور ہمیں اس گھر کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کی نعمتیں دائمی اور جہاں کے رہنے والے بہت خوش بخت ہیں ۔ یہ سب کچھ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جن لوگوں کا باطن گناہوں کے میل کچیل سے آلودہ ہے اور وہ دنیا کی ظاہری شکل کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دنیا کی زیب و زینت سے فریب کھا جاتے ہیں تب وہ دنیا میں بہائم کی طرح رہتے ہیں ، مویشیوں کی طرح اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنے رب کے حق میں غور کرتے ہیں نہ اس کی معرفت کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے ارادے صرف شہوات کے حصول پر مرتکز ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی حالت میں حاصل ہوں ۔ جب ان لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو انھیں اپنی ذات کے ویران ہونے اور لذتوں کے چھوٹ جانے پر بہت قلق ہوتا ہے۔ اس قلق کا سبب یہ نہیں کہ وہ کوتاہی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جو اس دنیا کے باطن پر نظر ڈالتا ہے اور اسے دنیا اور خود اپنے مقاصد کا علم ہوتا ہے وہ اس دنیا سے صرف اتنا سا استفادہ کرتا ہے جس سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مدد لے سکے جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے اور اپنی عمر میں فرصت کو غنیمت جانتا ہے وہ دنیا کو راہ گزر سمجھتا ہے، آرام کی منزل نہیں ۔ وہ اسے انتہائی دشوار اور تکلیف دہ سفر سمجھتا ہے، عیش و آرام کا گھر نہیں ۔ پس وہ اپنے رب کی معرفت کے حصول اس کے احکام کے نفاذ اور اپنے اعمال کو مقام احسان پر پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین منازل میں قیام کرے گا وہ ہر قسم کے اکرام و تکریم، نعمتوں اور مسرتوں کا مستحق ہو گا۔ جب فریب خوردہ لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے تھے تو اس شخص کی نظر دنیا کے باطن پر تھی، جب لوگ حصول دنیا کے لیے کام کرتے تھے تو یہ اپنی آخرت کے لیے کام کرتا تھا۔ دونوں فریقوں میں بہت بڑا فرق اور دونوں گروہوں کے درمیان بہت بڑا تفاوت ہے۔

9

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَٰبَ ٱلْكَهْفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُوا۟ مِنْ ءَايَٰتِنَا عَجَبًا

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے

کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)

[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔

[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔

[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔

[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، …

10

إِذْ أَوَى ٱلْفِتْيَةُ إِلَى ٱلْكَهْفِ فَقَالُوا۟ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةًۭ وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًۭا

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر

کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)

[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔

[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔

[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔

[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.