Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

سُبْحَٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

پاک ہے وہ (اللہ) جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک، وہ جو برکت رکھی تھی ہم نے اس کے اردگردتاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی کچھ نشانیاں بلاشبہ وہی ہے خوب سننے والا ، دیکھنے والا (1)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں ۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے ﴿اَسۡرٰؔى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا ﴾ ’’وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔‘‘ یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو راتوں رات لے گیا ﴿ مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾’’مسجد حرام سے‘‘ جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ ﴿ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا ﴾ ’’مسجد اقصیٰ تک‘‘ جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے۔جناب نبی مجتبیٰﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جایا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لیے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بنا پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’اسراء‘‘ کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانیr کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔(تفسیر طبری:9؍5) اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لیے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے، نیز یہ ’’اسراء‘‘ (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ’’آیت کبریٰ‘‘ کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب کان النبیﷺ تنام عینہ… الخ، حدیث:3570)معراج کے واقعہ میں نبی اکرمﷺ سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں ، پھر آپ موسیٰu کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہو گئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا كيے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر (سورۂ فرقان میں ) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا (سورۂ بقرہ میں ) ،ان تینوں مقامات میں نبیﷺ کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی)کو بیان فرمایا، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل كيے ہیں ۔﴿ الَّذِيۡ بٰرَؔكۡنَا حَوۡلَهٗ ﴾ ’’وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے‘‘ یعنی درختوں ، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لیے مختص فرمایا۔

2

وَءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَجَعَلْنَٰهُ هُدًۭى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِى وَكِيلًۭا

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

3

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبْدًۭا شَكُورًۭا

اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

4

وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

5

فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًۭا لَّنَآ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ فَجَاسُوا۟ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًۭا مَّفْعُولًۭا

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ ٱلْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَٰكُم بِأَمْوَٰلٍۢ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَٰكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا

پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

7

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ لِيَسُۥٓـُٔوا۟ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَلِيُتَبِّرُوا۟ مَا عَلَوْا۟ تَتْبِيرًا

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

8

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ حَصِيرًا

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ …

9

إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًۭا كَبِيرًۭا

یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لئے اجر عظیم ہے

بے شک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس (راہ) کی جو سب (راہوں ) سے زیادہ سیدھی ہےاورخوشخبری دیتا ہے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، کہ بے شک ان کے لیے ہے اجر بہت بڑا(9) اور (یہ کہ) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت درد ناک(10)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ ﴿ يَهۡدِيۡ لِلَّتِيۡ هِيَ اَقۡوَمُ﴾ ’’بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ یعنی عقائد، اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ ﴿وَيُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں ﴿اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا﴾ ’’کہ ان کے لیے ہے بڑا ثواب‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔

10

وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

بے شک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس (راہ) کی جو سب (راہوں ) سے زیادہ سیدھی ہےاورخوشخبری دیتا ہے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، کہ بے شک ان کے لیے ہے اجر بہت بڑا(9) اور (یہ کہ) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت درد ناک(10)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ ﴿ يَهۡدِيۡ لِلَّتِيۡ هِيَ اَقۡوَمُ﴾ ’’بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ یعنی عقائد، اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ ﴿وَيُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں ﴿اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا﴾ ’’کہ ان کے لیے ہے بڑا ثواب‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔

Al-Israa 17:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.