وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُوا۟ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًۭا
اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں
اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نہیں زیادہ کرتا یہ ان کو مگر نفرت ہی میں (41) کہہ دیجیے، اگر ہوتے اللہ کے ساتھ اور معبود جیسا کہ کہتے ہیں وہ (مشرک) تو اس وقت البتہ تلاش کرتے وہ (معبود) طرف عرش والے (اللہ) کے کوئی راستہ (42) پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ (مشرک) کہتے ہیں ، برتر بہت زیادہ (43) پاکیزگی بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین بھی اور جو (مخلوق) ان میں ہے،اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ تسبیح بیان کرتی ہے ساتھ اس کی حمد کے لیکن نہیں سمجھتے تم تسبیح ان کی، بلاشبہ وہ ہے نہایت حوصلے والا، بہت بخشنے والا (44)
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں ۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔
[42] جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں ۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ‘‘ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾(بنی اسرائیل : 17؍57) ’’جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَؕ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾(الفرقان:25؍17۔18) ’’اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں ، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں ۔‘‘اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ …