Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 101–110 of 111

101

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍۢ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰمُوسَىٰ مَسْحُورًۭا

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے

اور البتہ تحقیق دیے تھے ہم نے موسیٰ کو نو معجزات واضح، پس پوچھ لیجیے آپ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ (موسیٰ) ان کے پاس تو کہا اس سے فرعون نے ، بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی! سحر زدہ (101) موسی نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں نازل کیا ان کو مگر رب نے آسمانوں اور زمین کے، واسطے دکھانے کےاور بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون! ہلاک کیا ہوا (102) پس ارادہ کیا فرعون نے، یہ کہ اکھاڑ دے ان کو اس زمین سے تو غرق کر دیا ہم نے اسےاور ان لوگوں کو جو ساتھ تھے اس کے، سب کو (103) اور کہا ہم نے بعد اس کے بنی اسرائیل سے، رہو تم اس زمین میں ، پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا تو لے آئیں گے ہم تم(سب) کو باہم اکٹھا (104)

[101] یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (u) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’نو معجزات‘‘ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾ ’’اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں ، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘

[102]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ ﴾ ’’تجھے علم ہے‘‘ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’نہیں نازل کیا ان معجزات کو‘‘ ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ﴾ ’’مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو‘‘ اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں ۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾ ’’اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔

[104,103]﴿ فَاَرَادَ ﴾ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ۠ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا‘‘ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ لِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا﴾ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں ، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے‘‘ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔

Al-Israa 17:101Listen in Qur'an →
102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًۭا

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے

اور البتہ تحقیق دیے تھے ہم نے موسیٰ کو نو معجزات واضح، پس پوچھ لیجیے آپ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ (موسیٰ) ان کے پاس تو کہا اس سے فرعون نے ، بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی! سحر زدہ (101) موسی نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں نازل کیا ان کو مگر رب نے آسمانوں اور زمین کے، واسطے دکھانے کےاور بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون! ہلاک کیا ہوا (102) پس ارادہ کیا فرعون نے، یہ کہ اکھاڑ دے ان کو اس زمین سے تو غرق کر دیا ہم نے اسےاور ان لوگوں کو جو ساتھ تھے اس کے، سب کو (103) اور کہا ہم نے بعد اس کے بنی اسرائیل سے، رہو تم اس زمین میں ، پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا تو لے آئیں گے ہم تم(سب) کو باہم اکٹھا (104)

[101] یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (u) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’نو معجزات‘‘ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾ ’’اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں ، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘

[102]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ ﴾ ’’تجھے علم ہے‘‘ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’نہیں نازل کیا ان معجزات کو‘‘ ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ﴾ ’’مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو‘‘ اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں ۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾ ’’اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔

[104,103]﴿ فَاَرَادَ ﴾ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ۠ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا‘‘ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ لِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا﴾ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں ، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے‘‘ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔

Al-Israa 17:102Listen in Qur'an →
103

فَأَرَادَ أَن يَسْتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعًۭا

تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

اور البتہ تحقیق دیے تھے ہم نے موسیٰ کو نو معجزات واضح، پس پوچھ لیجیے آپ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ (موسیٰ) ان کے پاس تو کہا اس سے فرعون نے ، بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی! سحر زدہ (101) موسی نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں نازل کیا ان کو مگر رب نے آسمانوں اور زمین کے، واسطے دکھانے کےاور بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون! ہلاک کیا ہوا (102) پس ارادہ کیا فرعون نے، یہ کہ اکھاڑ دے ان کو اس زمین سے تو غرق کر دیا ہم نے اسےاور ان لوگوں کو جو ساتھ تھے اس کے، سب کو (103) اور کہا ہم نے بعد اس کے بنی اسرائیل سے، رہو تم اس زمین میں ، پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا تو لے آئیں گے ہم تم(سب) کو باہم اکٹھا (104)

[101] یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (u) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’نو معجزات‘‘ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾ ’’اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں ، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘

[102]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ ﴾ ’’تجھے علم ہے‘‘ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’نہیں نازل کیا ان معجزات کو‘‘ ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ﴾ ’’مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو‘‘ اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں ۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾ ’’اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔

[104,103]﴿ فَاَرَادَ ﴾ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ۠ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا‘‘ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ لِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا﴾ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں ، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے‘‘ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔

Al-Israa 17:103Listen in Qur'an →
104

وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًۭا

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

اور البتہ تحقیق دیے تھے ہم نے موسیٰ کو نو معجزات واضح، پس پوچھ لیجیے آپ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ (موسیٰ) ان کے پاس تو کہا اس سے فرعون نے ، بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی! سحر زدہ (101) موسی نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں نازل کیا ان کو مگر رب نے آسمانوں اور زمین کے، واسطے دکھانے کےاور بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون! ہلاک کیا ہوا (102) پس ارادہ کیا فرعون نے، یہ کہ اکھاڑ دے ان کو اس زمین سے تو غرق کر دیا ہم نے اسےاور ان لوگوں کو جو ساتھ تھے اس کے، سب کو (103) اور کہا ہم نے بعد اس کے بنی اسرائیل سے، رہو تم اس زمین میں ، پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا تو لے آئیں گے ہم تم(سب) کو باہم اکٹھا (104)

[101] یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (u) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’نو معجزات‘‘ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾ ’’اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں ، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘

[102]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ ﴾ ’’تجھے علم ہے‘‘ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’نہیں نازل کیا ان معجزات کو‘‘ ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ﴾ ’’مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو‘‘ اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں ۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾ ’’اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔

[104,103]﴿ فَاَرَادَ ﴾ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ۠ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا‘‘ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ لِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا﴾ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں ، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے‘‘ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔

Al-Israa 17:104Listen in Qur'an →
105

وَبِٱلْحَقِّ أَنزَلْنَٰهُ وَبِٱلْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے

اور ساتھ حق کے نازل کیا ہے ہم نے اس کواور ساتھ حق کے و ہ نازل ہوااور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (105)

[105] یعنی ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ، اپنے بندوں کے لیے امرونہی اور ان کے عذاب و عقاب کی خاطر نازل کیا ہے ﴿ وَبِالۡحَقِّ نَزَلَ﴾ ’’اور حق کے ساتھ اترا‘‘ یعنی یہ قرآن صدق و عدل اور شیطان مردود کے ہر وسوسہ سے محفوظ نازل ہوا ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا ﴾ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والا بنا کر‘‘ یعنی ان لوگوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دینے کے لیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِيۡرًا ﴾ ’’اور ڈرانے والا‘‘ یعنی انھیں دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے کے لیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس سے ان امور کا بیان لازم آتا ہے جو تبشیر و انذار پر مبنی ہیں ۔

Al-Israa 17:105Listen in Qur'an →
106

وَقُرْءَانًۭا فَرَقْنَٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍۢ وَنَزَّلْنَٰهُ تَنزِيلًۭا

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے

اور قرآن، جدا جدا (نازل) کیا ہم نے اس کوتاکہ آپ پڑھیں اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کراور اتارا ہم نے اسے اتارنا (تھوڑ ا تھوڑا)(106) کہہ دیجیے! ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے یا نہ ایمان لاؤ، بے شک وہ لوگ جو دیے گئے علم پہلے اس سے، جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے (107) اور وہ کہتے ہیں ، پاک ہے ہمارا رب، بلاشبہ ہے وعدہ ہمارے رب کا (پورا) کیا ہوا (108) اور وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئےاور زیادہ کرتا ہے (قرآن) ان کو گڑگڑانے میں (109)

[106] یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے ﴿ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ‘‘ تا کہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں ۔ ﴿وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے، ٹکڑوں میں تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان : 25؍33) ’’اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پیچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔‘‘

[107] پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا﴾ ’’تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾ ’’جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں ۔

[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔

[109]﴿ وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ ﴾ ’’اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر‘‘ یعنی منہ کے بل ﴿ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ ﴾ ’’روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو‘‘ یعنی قرآن ﴿ خُشُوۡعًا﴾ ’’خشوع خضوع میں ۔‘‘ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔

Al-Israa 17:106Listen in Qur'an →
107

قُلْ ءَامِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوْ لَا تُؤْمِنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهِۦٓ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًۭا

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا ہے۔ جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں

اور قرآن، جدا جدا (نازل) کیا ہم نے اس کوتاکہ آپ پڑھیں اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کراور اتارا ہم نے اسے اتارنا (تھوڑ ا تھوڑا)(106) کہہ دیجیے! ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے یا نہ ایمان لاؤ، بے شک وہ لوگ جو دیے گئے علم پہلے اس سے، جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے (107) اور وہ کہتے ہیں ، پاک ہے ہمارا رب، بلاشبہ ہے وعدہ ہمارے رب کا (پورا) کیا ہوا (108) اور وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئےاور زیادہ کرتا ہے (قرآن) ان کو گڑگڑانے میں (109)

[106] یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے ﴿ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ‘‘ تا کہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں ۔ ﴿وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے، ٹکڑوں میں تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان : 25؍33) ’’اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پیچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔‘‘

[107] پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا﴾ ’’تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾ ’’جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں ۔

[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔

[109]﴿ وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ ﴾ ’’اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر‘‘ یعنی منہ کے بل ﴿ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ ﴾ ’’روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو‘‘ یعنی قرآن ﴿ خُشُوۡعًا﴾ ’’خشوع خضوع میں ۔‘‘ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔

Al-Israa 17:107Listen in Qur'an →
108

وَيَقُولُونَ سُبْحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا

اور قرآن، جدا جدا (نازل) کیا ہم نے اس کوتاکہ آپ پڑھیں اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کراور اتارا ہم نے اسے اتارنا (تھوڑ ا تھوڑا)(106) کہہ دیجیے! ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے یا نہ ایمان لاؤ، بے شک وہ لوگ جو دیے گئے علم پہلے اس سے، جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے (107) اور وہ کہتے ہیں ، پاک ہے ہمارا رب، بلاشبہ ہے وعدہ ہمارے رب کا (پورا) کیا ہوا (108) اور وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئےاور زیادہ کرتا ہے (قرآن) ان کو گڑگڑانے میں (109)

[106] یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے ﴿ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ‘‘ تا کہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں ۔ ﴿وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے، ٹکڑوں میں تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان : 25؍33) ’’اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پیچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔‘‘

[107] پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا﴾ ’’تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾ ’’جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں ۔

[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔

[109]﴿ وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ ﴾ ’’اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر‘‘ یعنی منہ کے بل ﴿ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ ﴾ ’’روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو‘‘ یعنی قرآن ﴿ خُشُوۡعًا﴾ ’’خشوع خضوع میں ۔‘‘ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔

Al-Israa 17:108Listen in Qur'an →
109

وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًۭا ۩

اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے

اور قرآن، جدا جدا (نازل) کیا ہم نے اس کوتاکہ آپ پڑھیں اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کراور اتارا ہم نے اسے اتارنا (تھوڑ ا تھوڑا)(106) کہہ دیجیے! ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے یا نہ ایمان لاؤ، بے شک وہ لوگ جو دیے گئے علم پہلے اس سے، جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے (107) اور وہ کہتے ہیں ، پاک ہے ہمارا رب، بلاشبہ ہے وعدہ ہمارے رب کا (پورا) کیا ہوا (108) اور وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئےاور زیادہ کرتا ہے (قرآن) ان کو گڑگڑانے میں (109)

[106] یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے ﴿ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ‘‘ تا کہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں ۔ ﴿وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے، ٹکڑوں میں تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان : 25؍33) ’’اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پیچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔‘‘

[107] پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا﴾ ’’تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾ ’’جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں ۔

[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔

[109]﴿ وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ ﴾ ’’اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر‘‘ یعنی منہ کے بل ﴿ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ ﴾ ’’روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو‘‘ یعنی قرآن ﴿ خُشُوۡعًا﴾ ’’خشوع خضوع میں ۔‘‘ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔

Al-Israa 17:109Listen in Qur'an →
110

قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّۭا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًۭا

کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو

کہہ دیجیے! پکارو تم اللہ یا پکارو تم رحمٰن (کہہ کر) جس (نام) کے ساتھ پکارو تم، سو اسی کے لیے ہیں (سب) نام بہت اچھے اورمت بلند آواز کریں ساتھ اپنی نماز کےاور نہ بہت آہستہ (کریں آواز) ساتھ اس کے اور تلاش کریں درمیان اس کے راستہ (110) اور کہہ دیجیے! حمد اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جس نے نہیں بنائی کوئی اولاداور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور نہیں ہے اس کا کوئی حمایتی بوجہ ذلت (کمزوری) کےاور بڑائی بیان کیجیے اس (اللہ) کی خوب بڑائی بیان کرنا (111)

[110] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے: ﴿ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ﴾ ’’تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمن کو‘‘ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو ﴿ اَ يًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾ ’’جو کہہ کر پکارو گے، پس اسی کے ہیں سب نام اچھے‘‘ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہو جائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی مناسبت سے، مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ ﴿ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ ﴾ ’’اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز‘‘ یعنی بہت بلند آواز سے قراء ت نہ کیجیے ﴿وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا ﴾ ’’اور نہ چپکے سے پڑھیں ‘‘ یعنی ان دونوں امور سے بچا جانا چاہیے۔ زیادہ بلند آواز میں قراء ت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجید سن کر برا بھلا کہیں گے اور قرآن لانے والے کو سب و شتم کا نشانہ بنائیں گے اور بہت نیچی آواز میں قرآن پڑھنے سے اس شخص کا مقصد پورا نہ ہو سکے گا جو دھیمی آواز میں قرآن سننا چاہتا ہے۔ ﴿ وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور ڈھونڈ لیں اس کے درمیان راستہ‘‘ یعنی بہت زیادہ بلند آواز اور بہت زیادہ پست آواز کے بین بین اور ان دونوں کے درمیان متوسط راہ اختیار کیجیے۔

[111]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ جو ہر لحاظ سے کمال، مدح و ثنا اور حمد و مجد کا مالک اور ہر آفت اور نقص سے پاک ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ لَمۡ يَتَّؔخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَؔكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِي الۡمُلۡكِ ﴾ ’’جو نہیں رکھتا اولاد اور نہیں اس کا کوئی شریک بادشاہی میں ‘‘ بلکہ تمام تر اقتدار کا مالک اللہ واحد و قہار ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں ﴿ وَلَمۡ يَؔكُنۡ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ﴾ ’’اور نہیں ہے اس کا کوئی مددگار عاجزی کے وقت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا سرپرست نہیں بناتا کہ وہ اس کے تعاون کے ذریعے سے عزت و غلبہ حاصل کرے۔ پس وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، وہ زمین اور آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں ۔ مگر وہ اپنے بندوں پر احسان کرتے اور ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپتے ہوئے ان کو اپنا دوست بناتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ : 2؍257) ’’جو لوگ ایمان لائے، اللہ ان کا دوست ہے جو انھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَبِّرۡهُ تَكۡبِيۡرًا﴾ ’’اور اس کی بڑائی بیان کر بڑا جان کر‘‘ یعنی اس کے عظیم اوصاف کے بارے میں خبر دے کر، اس کے اسماء حسنیٰ کے ذریعے سے حمدوثنا کے ساتھ، اس کے افعال مقدسہ کے ذریعے سے ستائش کے ساتھ، صرف اس کے لیے عبادت کے ذریعے سے اس کی عظمت و جلال بیان کرتے ہوئے اس کی تعظیم و جلال کا اعتراف کیجیے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اخلاص دین صرف اسی کے لیے ہے۔

Al-Israa 17:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.