جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ
(وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے
آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟قَالُوْا خَیْرًا یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔