Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

سُبْحَٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

آیت 1 سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَایہ رسول اللہ کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ بیت المقدس تک کے زمینی سفر پر مشتمل تھا۔ ”سُبْحٰن“ تنزیہہ کا کلمہ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے بات کا آغاز کرنا خود دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارق عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا ‘ بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو کرایا۔الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ اس علاقے کی برکت دنیوی اعتبار سے بھی ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔ دنیوی اعتبار سے یہ علاقہ بہت زرخیز ہے اور یہاں کی آب و ہوا خصوصی طور پر بہت اچھی ہے۔ روحانی اعتبار سے دیکھیں تو یہ علاقہ بہت سے جلیل القدر انبیاء کا مسکن رہا ہے اور حضرت ابراہیم سمیت بہت سے انبیاء یہاں مدفون ہیں۔ ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ تھی۔ اس لحاظ سے نہ معلوم اللہ کے کیسے کیسے نیک بندے کس کس انداز میں یہاں عبادت کرتے رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ چناچہ مادی و روحانی دونوں اعتبار سے اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکتوں سے نوازا ہے۔سفر معراج کے پہلے مرحلے میں رسول اللہ کو مکہ مکرمہ سے یروشلم لے جایا گیا وہاں بیت المقدس میں تمام انبیاء کی ارواح کو جمع کیا گیا انہیں جسد عطا کیے گئے ہمارے حواس اس کیفیت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں اور وہاں حضور نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ حضور کے سفر معراج کے اس حصے کا ذکر جس انداز میں یہاں ہوا ہے اس کی ایک خصوصی اہمیت ہے۔ یہ گویا اعلان ہے کہ نبی آخر الزماں اور آپ کی امت کو توحید کے ان دونوں مراکز بیت اللہ اور بیت المقدس کا متولی بنایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے آپ کو پہلے بیت المقدس لے جایا گیا اور پھر وہاں سے آپ کے آسمانی سفر کا مرحلہ شروع ہوا۔ سفر معراج کے اس دوسرے مرحلے کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ سورة النجم میں کیا گیا ہے۔لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ بنی اسرائیل کے اہم ترین تاریخی مقام کا ذکر کرنے کے بعد اب آئندہ آیات میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی تاریخ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

2

وَءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَجَعَلْنَٰهُ هُدًۭى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِى وَكِيلًۭا

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

آیت 2 وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ یہاں تخصیص کردی گئی کہ تورات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت نہیں تھی ‘ بلکہ درحقیقت وہ صرف بنی اسرائیل کے لیے ایک ہدایت نامہ تھی۔ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًایعنی تورات توحید کا درس دیتی تھی۔ اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ تھا کہ اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی یا ذات کو اپنا کارساز مت سمجھو اسے چھوڑ کر کسی دوسرے پر بھروسہ یا توکل نہ کرو۔

3

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبْدًۭا شَكُورًۭا

اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے

آیت 3 ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًاحضرت نوح کے تین بیٹے سام حام اور یافث تھے جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ ان میں سے حضرت سام کی نسل میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جن کی اولاد کو یہاں بنی اسرائیل کے طور پر مخاطب کیا جارہا ہے۔ انہیں یاد دلایاجا رہا ہے کہ حضرت نوح کے ساتھ جن لوگوں کو ہم نے بچایا تھا انہی میں سے ایک کی اولاد تم ہو اور نوح ہمارا بہت ہی شکر گزار بندہ تھا۔

4

وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

آیت 4 وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًایعنی تم پر دو ادوار ایسے آئیں گے کہ تم زمین میں سرکشی کرو گے فساد برپا کرو گے دین سے دور ہوجاؤ گے لہو و لعب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے تم پر عذاب کے کوڑے برسیں گے۔ یہاں پر بین السطور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل پر ایک بہتر دور بھی آیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا تھا۔ سورة البقرۃ میں ان کے اس اچھے دور کی کچھ تفصیلات ہم پڑھ آئے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر اہم واقعات اختصار کے ساتھ یہاں پھر تازہ کرلیں۔ حضرت موسیٰ 1400 قبل مسیح میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکلے تھے۔ صحرائے سینا میں جبل طور کے پاس پڑاؤ کے زمانے میں آپ کو تورات عطا کی گئی۔ وہاں سے پھر شمال مشرق کی طرف کوچ کرنے اور فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا گیا۔ جہاد کے اس حکم سے انکار کی پاداش میں بنی اسرائیل کو صحرا نوردی کی سزا ملی۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ صحرا نوردی کے دوران پروان چڑھنے والی نسل بہادر اور جفاکش تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد کیا جس کے نتیجے میں فلسطین فتح ہوگیا۔ فلسطین کا جو شہر سب سے پہلے فتح ہوا وہ اریحا Jericho تھا۔ فلسطین کی فتح کے بعد ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ایک مضبوط مرکزی حکومت بنانے کے بجائے یہ علاقہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے آپس میں بانٹ لیا اور ہر قبیلے نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں نہ صرف بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں بہت کمزور تھیں بلکہ بہت جلد انہوں نے آپس میں بھی لڑنا جھگڑنا شروع کردیا ‘ جس کے نتیجے میں ان کے زیر تسلط علاقے بہت جلد انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگئے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شام اور اردن کے ہمسایہ علاقوں میں بسنے والی مشرک اقوام نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کی بیشتر آبادی کو اس علاقے سے نکال باہر کیا۔اس حالت کو پہنچنے پر انہوں نے اپنے نبی حضرت سموئیل سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے ایک بادشاہ یا سپہ سالار مقرر کردیں تاکہ اس کی قیادت میں تمام قبیلے اکٹھے ہو کر جہاد کریں۔ اس مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ حضرت طالوت نے دشمن افواج کے خلاف لشکر کشی کی ‘ جن کا سپہ سالار جالوت تھا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد بھی شامل تھے۔ آپ نے جالوت کو قتل کردیا ‘ جس کے نتیجے میں دشمن لشکر پر بنی اسرائیل کو فتح نصیب ہوئی اور وہ علاقے میں ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حضرت طالوت کے بعد حضرت داؤد ان کے جانشین ہوئے اور حضرت داؤد کے بعد آپ کے بیٹے حضرت سلیمان بادشاہ بنے۔حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کے فتح ہونے سے لے کر طالوت اور جالوت کی جنگ تک تین سو سال کا وقفہ ہے۔ حضرت سلیمان کا عہد حکومت اس تین سو سالہ دور کا نقطہ عروج تھا۔ حضرت طالوت حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا دور اقتدار تقریباً ایک سو سال کے عرصے پر محیط تھا۔ سولہ برس تک حضرت طالوت نے حکومت کی ‘ اس کے بعد چالیس برس تک حضرت داؤد اور پھر چالیس برس تک ہی حضرت سلیمان برسر اقتدار رہے۔ یہ دور گویا بنی اسرائیل کی خلافت راشدہ کا دور تھا جو ہمارے دور خلافت راشدہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ ان کی پہلی تین خلافتیں ایک سو برس کے عرصے پر محیط تھیں اور ہماری امت کی پہلی تین خلافتوں کا عرصہ چوبیس برس تھا لیکن جس طرح ان کے پہلے خلیفہ کا دور اقتدار مختصر اور بعد کے دونوں خلفاء کا دور نسبتاً طویل تھا اسی طرح ہمارے ہاں بھی حضرت ابوبکر کا دور خلافت مختصر جبکہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کا دور نسبتاً طویل تھا۔ اس کے بعد حضرت علی کی خلافت کو امیر …

5

فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًۭا لَّنَآ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ فَجَاسُوا۟ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًۭا مَّفْعُولًۭا

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

آیت 5 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًایعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر واضح کیا گیا تھا کہ جب تم لوگ دین سے برگشتہ ہوجاؤ گے ‘ جب تم اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو ہنسی مذاق بنا لو گے تو تم ضرور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنو گے۔ چناچہ ان کے دین سے برگشتہ ہوجانے کے بعد آشوریوں اور عراق کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ان پر عذاب کا کوڑا برسا جس کے نتیجے میں دونوں اسرائیلی سلطنتیں ختم ہوگئیں یروشلم مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہیکل سلیمانی مسمار کردیا گیا ‘ چھ لاکھ یہودی قتل ہوگئے جبکہ چھ لاکھ کو غلام بنا لیا گیا۔

6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ ٱلْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَٰكُم بِأَمْوَٰلٍۢ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَٰكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا

پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا

آیت 6 ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر تمہیں سہارا دیا اور ان پر غلبے کا موقع عطا کردیا۔ اس سہارے کا باعث ایرانی بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین بنا۔ اس نے عراق بابل پر تسلط حاصل کرلینے کے بعد تمہیں آزاد کر کے واپس یروشلم جانے اور اس شہر کو ایک دفعہ پھر سے آباد کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر جب تم نے واپس آکر یروشلم کو آباد کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر تمہاری مدد کی :وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًاہم نے تمہیں مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ تم لوگ خوب پھلے پھولے اور جلد ہی ایک مضبوط قوم بن کر ابھرے۔

7

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ لِيَسُۥٓـُٔوا۟ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَلِيُتَبِّرُوا۟ مَا عَلَوْا۟ تَتْبِيرًا

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں

آیت 7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ اس سلسلے میں آیت 5 میں یہ الفاظ آئے تھے : بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چناچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بار دگر بےحرمتی کی طرف۔ جیسے 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا۔وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًاان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دور زوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق وسباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ :

8

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ حَصِيرًا

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

آیت 8 عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَااگر تم نے پہلے کی طرح ہماری نا فرمانیوں اور احکام شریعت سے اعراض کی روش اختیار کی تو ہم بھی اسی طرح پھر تمہیں سزا دیں گے۔ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًانافرمانیوں کی سزا دنیا میں تو ملے گی ہی جبکہ جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح جانوروں کو گھیر کر باڑے میں بند کردیا جاتا ہے اسی طرح آخرت میں اللہ کے نافرمانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے قید خانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ !

9

إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًۭا كَبِيرًۭا

یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لئے اجر عظیم ہے

آیت 9 اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ یاد رکھو ! اب راہ ہدایت وہی ہوگی جس کی نشان دہی یہ کتاب کرے گی جسے ہم اپنے آخری رسول پر نازل کر رہے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے قصر رحمت میں داخل ہونے کا ”شاہدرہ“ ایک ہی ہے اور وہ ہے یہ قرآن۔ اب اگر تم اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہو تو اس قرآن کے راستے سے ہو کر آؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے ایک بار پھر تمہارے لیے کھل جائیں گے اور جو رفعتیں اور برکتیں اس آخری نبی کی امت کے لیے لکھی گئی ہیں تم بھی ان میں حصہ دار بن جاؤ گے۔

10

وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

آیت 10 وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًایہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جہاں کہیں بھی اعمال کی خرابی کی بات ہوتی ہے وہاں ایمان بالآخرت کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔ اس رکوع کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کے عروج وزوال کے آئینے میں جو تصویر دکھائی گئی ہے اس میں ہمارے لیے ایک دعوت فکر ہے۔ الحمد للہ ! آج ہم امت محمد امت مسلمہ ہیں ‘ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک زمانے میں بنی اسرائیل بھی امت مسلمہ ہی تھے۔ وہ بحیثیت نسل آج بھی ایک قوم کے طور پر موجود ہیں مگر انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کی حیثیت سابقہ امت مسلمہ کی ہے اور پچھلے دو ہزار برس سے یہ لوگ بہت زیادہ سختیوں کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں ان کی قومی تاریخ کے نشیب و فراز کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کون سے عوامل تھے اور ان کے عقائد و اعمال کی وہ کون سی خرابیاں تھیں جن کے باعث وہ لوگ اللہ کے ہاں مغضوب و معتوب ٹھہرے۔ یہاں دوسرا نکتہ یہ ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ سابقہ اور موجودہ امتوں کے درمیان مقابلے کے لیے میدان تیزی سے تیار ہو رہا ہے اور یوں سمجھئے کہ دو پتنگیں اوپر چڑھ رہی ہیں ‘ جن کے درمیان پیچ پڑنے والا ہے۔ بنی اسرائیل اپنے انتہائی زوال کو پہنچنے کے بعد بحیثیت ایک قوم کے پچھلے ایک سو سال سے مادی لحاظ سے رو بہ ترقی ہیں۔ ان کی پتنگ 1917 ء میں بالفور Balfor ڈیکلریشن کی منظوری سے اوپر چڑھنا شروع ہوئی اور 1948 ء میں اسرائیل کی ریاست معرض وجود میں آگئی۔ 1966 ء میں اس کی مزید توسیع عمل میں آئی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ عرب دنیا کا واحد ملک عراق تھا جس سے اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا تھا ‘ اسے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس پورے خطے میں اب کوئی ایسا ملک نہیں جو اسرائیل کی طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو مسلم دنیا بھی اپنے زوال کی آخری حدوں کو چھونے کے بعد اب بیداری کی طرف مائل ہے اور اس امت کے اندر نئی زندگی پیدا ہونے کا وقت قریب نظر آتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1924 ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ گویا ہمارے زوال کی انتہا تھی۔ اس کے بعد عالم اسلام میں آزادی کی تحریکیں چلیں اور متعدد مسلم ممالک یورپی اقوام کے تسلط سے آزاد ہوگئے۔ مزید برآں امت مسلمہ میں بہت سی احیائی تحریکیں اٹھیں مثلاً پاک و ہند میں جماعت اسلامی ‘ مصر میں الاخوان المسلمون ایران میں فدائی تحریک اور انڈونیشیا میں مسجومی پارٹی وغیرہ ‘ اور اس طرح اس کی نشأۃِ ثانیہ کے عمل کا آغاز ہوگیا۔ چناچہ پچھلی صدی سے امت مسلمہ کی صفوں میں زوال اور احیائی عمل پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔ جیسے سورة الرحمن میں متوازی چلنے والے دو دریاؤں کی مثال دی گئی ہے : مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِ ”اس نے دو دریا رواں کیے جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے“۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سابقہ اور موجودہ امت مسلمہ کی صورت میں دو پتنگیں فضا میں تیر رہی ہیں اور ان کا آپس میں کسی وقت بھی پیچ پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام تفصیلات ان لوگوں کے علم میں ہونی چاہئیں جو دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہیں زمان و مکان کے اعتبار سے درست ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ان کے دائیں بائیں کیا حالات ہیں ؟ ماضی میں کیا ہوتا رہا ہے ابھی سامنے کیا کچھ ہے اور مستقبل میں کیا امکانات ہیں ؟

Al-Israa 17:10Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.