Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 99

51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

52

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

53

قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٍۢ

(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

54

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِى عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِىَ ٱلْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

55

قَالُوا۟ بَشَّرْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْقَٰنِطِينَ

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

56

قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ

(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے

آیت نمبر 51 تا 56

جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے :

فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔

قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا :

قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔

قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

آیت نمبر 57 تا 60

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔

58

قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)

آیت نمبر 57 تا 60

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔

59

إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

آیت نمبر 57 تا 60

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔

60

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَآ ۙ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی

آیت نمبر 57 تا 60

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.