أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے
آیت نمبر 1 تا 2
مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر رہا تھا اس میں گہری حکمت اور رحمت تھی اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ مزید یہ قرآن کریم جو آیات کونیہ پیش کر رہا تھا اور خود قرآن جو عقلی دلائل پیش کر رہا تھا وہ اس پر غوروفکر نہ کرتے تھے ، حالانکہ یہ دلائل قلب و نظر پر جو اثرات چھوڑتے تھے ، وہ تخویف بذریعہ عذاب سے زیادہ کارگر ہو سکتے تھے۔ انسان کو اللہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے ، اس کے شایان شان تو یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر غور کرے ، محض ڈراوے سے تسلیم کرنا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و خرد کے پہلو سے کمزور ہوں۔ ذراوے سے حریت ارادہ پر بھی زد پڑتی ہے۔
ایسے حالات میں فرمایا :
اتی امر اللہ (16 : 1) “ اللہ کا فیصلہ آگیا ”۔ یعنی اللہ فیصلہ کرچکے ہیں ، ان کا ارادہ متوجہ ہوگیا ہے جو وقت صدور اللہ نے مقرر کیا ہے اس میں ان اوامرو احکام اور فیصلوں کا صدور ہوجائے گا۔ لہٰذا :
فلا تستعجلوہ (16 : 1) “ جلدی نہ مچاؤ ”۔ اللہ کے فیصلے اس کی مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ تمہاری طرف سے شتابی کرنا اللہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرف سے درازی مہلت کی امیدیں بھی ان کو موخر نہیں کرسکتیں۔ عذاب آتا ہے یا قیامت برپا ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا وقوع اور نفاذ اپنے مقررہ وقت پر بہرحال ہوگا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔
ایک شخص اپنی حالت پر جس قدر جمنے کی کوشش بھی کرے یہ فیصلہ کن انداز گفتگو اسے بہرحال متاثر کرتا ہے ، چاہے وہ استکبار کی وجہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرے۔ جس قدر انداز فیصلہ کن ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اللہ کا حکم جب آتا ہے تو وہ اٹل ہوتا ہے ۔ بس صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کا ارادہ کسی امر سے متعلق ہوجائے بس وہ امر واقع ہوجاتا ہے۔ چشم زدن میں وہ وجود میں آجاتا ہے۔ لہٰذا یہ زور دار انداز کلام کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ جس طرح انداز کلام شعور کو متاثر کرتا اسی طرح اللہ کے فیصلے واقعی صورت حالات میں انقلاب برپا کردیتے ہیں۔
رہے مشرکین مکہ کے اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ اور ان کے وہ تمام تصورات جو اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ پر مبنی ہیں تو اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون (16 : 1) “ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ”۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے تمام ان مشرکوں سے جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یادر ہے کہ شرک میں کوئی انسان تب ہی مبتلا ہوتا ہے جب وہ فکر اعتبار سے گرا پڑا ہو اور اس کے تصورات کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔
اللہ کے احکام واوامر آگئے ، جو شرک سے پاک ہیں اور امر دینے والے باری تعالیٰ بھی شرک سے پاک ہیں اور اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جو مقام دیتے ہیں وہ اس سے بہت بلند ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گمراہانہ خیالات میں ڈوبا ہوا نہیں چھوڑتے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے فرشتے بھیجتے ہیں اور یہ فرشتے ایسے پیغام کے حامل ہوتے ہیں جو انسانوں کی حیات نو اور نجات اخروی کے پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے۔
ینزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔ من عبادہ (16 : 2) “ وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے ” اور …