Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

آیت نمبر 41 تا 42

یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

آیت نمبر 41 تا 42

یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

آیت نمبر 43 تا 44

سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔

یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

آیت نمبر 43 تا 44

سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔

یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

آیت نمبر 45 تا 48

متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔

درس نمبر 117 ایک نظر میں

اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔

یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :

نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔

وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

آیت نمبر 45 تا 48

متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔

درس نمبر 117 ایک نظر میں

اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔

یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :

نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔

وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

آیت نمبر 45 تا 48

متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔

درس نمبر 117 ایک نظر میں

اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔

یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :

نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔

وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

آیت نمبر 45 تا 48

متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔

درس نمبر 117 ایک نظر میں

اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔

یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں :

نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا :

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔

وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

درس نمبر 117 تشریح آیات

49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84

آیت نمبر 49 تا 50

گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے آجاتا ہے۔ اس کی تشریح ایسے مقامات پر بھی کی گئی ہے

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان فرشتوں کا قصہ آتا ہے جو قوم لوط کی بیخ کنی کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قصہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ اسے مختلف انداز میں لایا گیا ہے۔ ہر مقام کی مناسبت سے اس قصے کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بعض مقامات پر علیحدہ بھی آیا ہے۔

سورة اعراف میں قصہ لوط کا ایک حصہ گذر گیا ہے۔ پھر سورة ہود میں بھی قصہ ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ہے۔ سورة اعراف میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب سے اپنی قوم کی فحاشی پر نکیر اور سرزنش کا ذکر تھا اور قوم کی طرف سے ان کی نکیر کا یہ جواب دیا گیا تھا :

اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون ” نکالو ان کو اپنے گاؤں سے ، یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں “۔ لیکن جب عذاب الٰہی آیا تو اللہ نے انہیں اور ان کے اہل و عیال کو نجات دے دی ، ماسوائے ان کی ایک بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہاں فرشتون کی آمد اور ان کے بارے میں قوم کی سرگوشیوں کا ذکر نہ تھا۔

سورة ہود میں یہ قصہ ذکر ملائکہ پر مشتمل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات کی گئی ہے لیکن انداز گفتگو ہر جگہ مختلف ہے۔ وہاں بعض تفصیلات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آپ کی بیوی کھڑی تھی اور فرشتوں کی جانب سے بشارت سن رہی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے تکرار شروع کردی۔ ان کڑیوں کا تذکرہ یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں واقعات کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ سورة ہود میں جو واقعات بیان ہوئے ، ان میں فرشتوں کی حقیقت کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کی حقیقت ان پر اس وقت کھلی جب لوگ لوط (علیہ السلام) کے خوبصورت مہمانوں کا سن کر دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بےعزتی سے بچانے کی خاطر ان کی منت سماجت کر رہے تھے اور وہ آپ کی ایک بھی نہ مان رہے تھے یہاں تک کہ ان کو دل بھر آیا اور وہ یہ اندوہناک بات کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔

لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید ” اے کاش کہ میں تمہارے مقابلے میں قوت رکھتا یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لیتا “۔ یہاں قصے میں ابتداء ہی سے فرشتوں کی حقیقت بتا دی گئی ہے اور لوگوں کے مشورے اور برے ارادوں کی بات کو بعد میں لایا گیا ہے ، کیونکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ قصہ کے واقعات کی ترتیب کیا ہے بلکہ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کا عذاب کس طرح آتا ہے اور یہ کہ جب فرشتے آتے ہیں تو پھر مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

درس نمبر 117 تشریح آیات

49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84

آیت نمبر 49 تا 50

گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے آجاتا ہے۔ اس کی تشریح ایسے مقامات پر بھی کی گئی ہے

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان فرشتوں کا قصہ آتا ہے جو قوم لوط کی بیخ کنی کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قصہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ اسے مختلف انداز میں لایا گیا ہے۔ ہر مقام کی مناسبت سے اس قصے کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بعض مقامات پر علیحدہ بھی آیا ہے۔

سورة اعراف میں قصہ لوط کا ایک حصہ گذر گیا ہے۔ پھر سورة ہود میں بھی قصہ ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ہے۔ سورة اعراف میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب سے اپنی قوم کی فحاشی پر نکیر اور سرزنش کا ذکر تھا اور قوم کی طرف سے ان کی نکیر کا یہ جواب دیا گیا تھا :

اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون ” نکالو ان کو اپنے گاؤں سے ، یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں “۔ لیکن جب عذاب الٰہی آیا تو اللہ نے انہیں اور ان کے اہل و عیال کو نجات دے دی ، ماسوائے ان کی ایک بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہاں فرشتون کی آمد اور ان کے بارے میں قوم کی سرگوشیوں کا ذکر نہ تھا۔

سورة ہود میں یہ قصہ ذکر ملائکہ پر مشتمل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات کی گئی ہے لیکن انداز گفتگو ہر جگہ مختلف ہے۔ وہاں بعض تفصیلات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آپ کی بیوی کھڑی تھی اور فرشتوں کی جانب سے بشارت سن رہی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے تکرار شروع کردی۔ ان کڑیوں کا تذکرہ یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں واقعات کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ سورة ہود میں جو واقعات بیان ہوئے ، ان میں فرشتوں کی حقیقت کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کی حقیقت ان پر اس وقت کھلی جب لوگ لوط (علیہ السلام) کے خوبصورت مہمانوں کا سن کر دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بےعزتی سے بچانے کی خاطر ان کی منت سماجت کر رہے تھے اور وہ آپ کی ایک بھی نہ مان رہے تھے یہاں تک کہ ان کو دل بھر آیا اور وہ یہ اندوہناک بات کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔

لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید ” اے کاش کہ میں تمہارے مقابلے میں قوت رکھتا یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لیتا “۔ یہاں قصے میں ابتداء ہی سے فرشتوں کی حقیقت بتا دی گئی ہے اور لوگوں کے مشورے اور برے ارادوں کی بات کو بعد میں لایا گیا ہے ، کیونکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ قصہ کے واقعات کی ترتیب کیا ہے بلکہ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کا عذاب کس طرح آتا ہے اور یہ کہ جب فرشتے آتے ہیں تو پھر مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.