Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 99

31

إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا

آیت نمبر 30 تا 31

فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے والا ہوتا ہے یا ان کے آنے والے کے فعل کے ساتھ۔ اس کا بھی کچھ تعلق ہوتا ہے اس لیے اسے استثنائیہ جملے میں یکجا کردیا جاتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو تھا ہی فرشتوں کو ، پھر ابلیس اس حکم کے مدلول میں کس طرح شامل ہوگیا۔ تو جواب یہ ہے کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ابلیس بھی اس حکم میں شامل تھا۔ سورة اعراف میں تو صراحت کے ساتھ ابلیس کو شامل کیا گیا۔

قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” اس نے کہا کس چیز نے تجھے منع کیا کہ تو سجدہ کرے جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ حالاتی مفہوم پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر قطعی الدلالت ہے کہ اللہ کی طرف ابلیس کو بھی حکم دے دیا گیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حکم وہی ہو جو فرشتوں کو دیا گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے احکام میں ہی ابلیس کو شامل کردیا گیا ہو کیونکہ وہ ان سے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابلیس کو علیحدہ حکم دیا گیا ہو ، لیکن یہاں اس کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہاں اسے نظر انداز کرنا مطلوب تھا اور فرشتوں کو نمایاں کرنا مطلوب تھا۔ لیکن جس طرح ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا اور ہم بھی یہی موقف اختیار کرتے ہیں۔

فرشتوں کی حقیقت کیا ہے ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ غیبی امور ہیں اور مسلمات ایمانیہ میں سے ہیں۔ ہم ان پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح نصوص میں ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے عقل کے لئے ان حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ نصوص کے سوا کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا دائرہ کار نہایت ہی محدود ہے۔

32

قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ

(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

آیت نمبر 32 تا 33

یہ غرور و استکبار کا مزاج بول رہا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ گرم آگ سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق کس قدر سرکش ہے۔ اسے خشک بجنے والا گارا نظر آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اس کی سڑی ہوئی حالت بھی نظر آتی ہے لیکن اسے وہ قدرتی روح نظر نہیں آتی جو عالم بالا سے اس جسد خاکی میں پھونکی گئی۔ یہ مغرور تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی عظمت ، شان اور مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کروں جسے گلی سڑی ہوئی مٹی کے ایسے گارے سے بنایا گیا ہے جو بج رہا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ اسے راندۂ درگاہ کردیا جائے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دے دیا جائے۔ ،

33

قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ

(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

آیت نمبر 32 تا 33

یہ غرور و استکبار کا مزاج بول رہا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ گرم آگ سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق کس قدر سرکش ہے۔ اسے خشک بجنے والا گارا نظر آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اس کی سڑی ہوئی حالت بھی نظر آتی ہے لیکن اسے وہ قدرتی روح نظر نہیں آتی جو عالم بالا سے اس جسد خاکی میں پھونکی گئی۔ یہ مغرور تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی عظمت ، شان اور مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کروں جسے گلی سڑی ہوئی مٹی کے ایسے گارے سے بنایا گیا ہے جو بج رہا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ اسے راندۂ درگاہ کردیا جائے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دے دیا جائے۔ ،

34

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌۭ

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے

آیت نمبر 34 تا 35

اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔

35

وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

آیت نمبر 34 تا 35

اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔

36

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے

آیت نمبر 36 تا 38

یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔

37

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

آیت نمبر 36 تا 38

یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔

38

إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

آیت نمبر 36 تا 38

یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔

39

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

آیت نمبر 39 تا 40

یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔

لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔

ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔

شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :

40

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

آیت نمبر 39 تا 40

یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔

لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔

ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔

شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.