وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔
یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔
ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔
اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔
یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …