Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 99

11

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

آیت نمبر 1 تا 15

الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔

لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔

یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔

اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔

یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …

12

كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

آیت نمبر 1 تا 15

الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔

لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔

یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔

اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔

یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …

13

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

آیت نمبر 1 تا 15

الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔

لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔

یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔

اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔

یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …

14

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

آیت نمبر 1 تا 15

الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔

لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔

یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔

اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔

یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …

15

لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

آیت نمبر 1 تا 15

الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔

لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (15 : 2) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔

یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔

ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (15 : 3) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ ﷺ ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔

اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔

یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور …

16

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا

آیت نمبر 16 تا 18

اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔

بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔

ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔

اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔

وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔

الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ …

17

وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

آیت نمبر 16 تا 18

اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔

بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔

ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔

اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔

وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔

الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ …

18

إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

آیت نمبر 16 تا 18

اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔

بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔

ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔

اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟

وزینھا للنظرین (15 : 16) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔

وحفظنھا من کل شیطن رجیم (15 : 17) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔

الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (15 : 18) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ …

19

وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی

آیت نمبر 19 تا 20

اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔

زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ کی صورت میں مجمل چھوڑا گیا ہے۔ پھر من لستم لہ برزقین (15 : 20) میں بھی تمام زندہ مخلوقات کی طرف اشارہ کردیا گیا جو اس کرۂ ارض پر پائی جاتی ہیں۔ غرض تعبیرات ، الفاظ اور مفاہیم ، ہر اعتبار سے اس منظر میں عظمت ہی عظمت پائی جاتی ہے۔ یہ تکوینی آیت ہے۔ یہ آفاق کائنات سے گزر کر انفس کو بھی لیتی ہے۔ یہ وسیع تر سرزمین جو دعوت نظارہ اور دعوت سپردے رہی ہے ، یہ عظیم الشان پہاڑ جو سینہ گیتی پر ابھرے ہوئے ہیں اور یہ قسم قسم کے نباتات جو اس میں اگے ہوئے ہیں اور پھر بات اس پہلو پر مرکوز ہوتی ہے کہ یہ سب کے سب انسانوں کے مفاد کے لئے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر زندگی کا سروسامان اور نوع نوع کی خوراکیں ، آیت میں ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ ان کی وسعت اور عظمت کی طرف اشارہ ہو ، یہ سب کچھ اے انسان ، تیرے لئے ہے اور پھر تمہارے لیے ایسی مخلوقات بھی پیدا کی گئی ہیں کہ جو تمہارے لیے مفید ہیں اور تم ان کو پالیتے نہیں ہو۔ اللہ اور صرف اللہ ان کو پالتا ہے۔ تم اس طرح ایک امت اور مخلوق ہو ، جس طرح دوسری مخلوقات ہیں جن کی تعداد اور انواع بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ نوع نوع کی مخلوق اللہ کے رزق خاص پر پلتی ہے۔ اور اللہ نے ، اے انسان انہیں مفت تمہاری خدمت میں لگایا ہے۔ پھر بعض صنف مخلوقات ایسی ہے کہ اللہ کے رزق پر پلتی ہے اور ان پر کوئی فرائض نہیں ہیں۔

یہ تمام انواع و اقسام کی مخلوقات اور ان کے لئے قسم قسم کا رزق ، اللہ تعالیٰ نے پورا پورا ، اس کائنات میں پیدا کر رکھا ہے اور یہ سب مخلوق اور ان کا سامان زیست اللہ کے دست قدرت اور تصرف ذاتی میں ہے اور اللہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے تمام امور میں تصرف فرماتا ہے اور اپنے احکام اپنی مخلوقات کے اندر جاری فرماتا ہے۔

20

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

آیت نمبر 19 تا 20

اس کائنات کی فضاؤں میں ایک قسم کی وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔ آسمانوں میں بڑے بڑے قلعوں کا ذکر ہے۔ لفظ بروج کے تلفظ میں بھی ایک قسم کا زمزمہ اور عظمت ہے۔ “ شہاب ” کو لفظ مبین سے بیان کیا گیا۔ اس میں ایک عظمت کی طرف اشارہ ہے۔

زمین میں پہاڑوں کو رواسی کہا گیا اور ان پہاڑوں کے بھاری بھرکم ہونے کا اظہار لفظ الفینا سے کیا گیا۔ پھر نباتات کو موزون کی صفت سے موصوف کیا گیا۔ موزون لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے بھاری بھرکم ہے۔ اگرچہ یہاں مفہوم یہ ہے کہ اپنی پیچیدہ ساخت کے اعتبار سے وہ محکم اور متوازن ہے۔ پھر عظمت کی اس فضا میں معیشت کے بجائے معایش کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اسے نکرہ کی صورت میں مجمل چھوڑا گیا ہے۔ پھر من لستم لہ برزقین (15 : 20) میں بھی تمام زندہ مخلوقات کی طرف اشارہ کردیا گیا جو اس کرۂ ارض پر پائی جاتی ہیں۔ غرض تعبیرات ، الفاظ اور مفاہیم ، ہر اعتبار سے اس منظر میں عظمت ہی عظمت پائی جاتی ہے۔ یہ تکوینی آیت ہے۔ یہ آفاق کائنات سے گزر کر انفس کو بھی لیتی ہے۔ یہ وسیع تر سرزمین جو دعوت نظارہ اور دعوت سپردے رہی ہے ، یہ عظیم الشان پہاڑ جو سینہ گیتی پر ابھرے ہوئے ہیں اور یہ قسم قسم کے نباتات جو اس میں اگے ہوئے ہیں اور پھر بات اس پہلو پر مرکوز ہوتی ہے کہ یہ سب کے سب انسانوں کے مفاد کے لئے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر زندگی کا سروسامان اور نوع نوع کی خوراکیں ، آیت میں ان کو مجمل چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ ان کی وسعت اور عظمت کی طرف اشارہ ہو ، یہ سب کچھ اے انسان ، تیرے لئے ہے اور پھر تمہارے لیے ایسی مخلوقات بھی پیدا کی گئی ہیں کہ جو تمہارے لیے مفید ہیں اور تم ان کو پالیتے نہیں ہو۔ اللہ اور صرف اللہ ان کو پالتا ہے۔ تم اس طرح ایک امت اور مخلوق ہو ، جس طرح دوسری مخلوقات ہیں جن کی تعداد اور انواع بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ نوع نوع کی مخلوق اللہ کے رزق خاص پر پلتی ہے۔ اور اللہ نے ، اے انسان انہیں مفت تمہاری خدمت میں لگایا ہے۔ پھر بعض صنف مخلوقات ایسی ہے کہ اللہ کے رزق پر پلتی ہے اور ان پر کوئی فرائض نہیں ہیں۔

یہ تمام انواع و اقسام کی مخلوقات اور ان کے لئے قسم قسم کا رزق ، اللہ تعالیٰ نے پورا پورا ، اس کائنات میں پیدا کر رکھا ہے اور یہ سب مخلوق اور ان کا سامان زیست اللہ کے دست قدرت اور تصرف ذاتی میں ہے اور اللہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے تمام امور میں تصرف فرماتا ہے اور اپنے احکام اپنی مخلوقات کے اندر جاری فرماتا ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.