Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 43

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ۗ وَٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہیٰ) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

No commentary on this ayah in this edition.

2

ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو

No commentary on this ayah in this edition.

3

وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنْهَٰرًۭا ۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

No commentary on this ayah in this edition.

4

وَفِى ٱلْأَرْضِ قِطَعٌۭ مُّتَجَٰوِرَٰتٌۭ وَجَنَّٰتٌۭ مِّنْ أَعْنَٰبٍۢ وَزَرْعٌۭ وَنَخِيلٌۭ صِنْوَانٌۭ وَغَيْرُ صِنْوَانٍۢ يُسْقَىٰ بِمَآءٍۢ وَٰحِدٍۢ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجود یہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے۔ اور ہم بعض میوؤں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں

زمین کے خطے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں - قول باری ہے (وفی الارض قطع متجاورات، اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے زمین شورا اور زمین شیریں مراد ہے۔ قول باری ہے (ونخیل صہنوان۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) حضرت براء بن عازب (رض) ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کے ایسے درخت جن کی جڑیں اکہری ہوں۔ قول باری ہے (یسقی بماء واحد و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر) آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی واضح ترین دلالت موجود ہے جو کہتے ہیں کہ پھلوں وغیرہ کی پیدائش کا دارومدار مٹی کی طبیعت ہوا اور پانی پر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اصحاب الطبائع کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اگر پیدا ہونے والے پھلوں کی پیدائش کا انحصار مٹی کی خصوصیت نیز پانی اور ہوا پر ہوتا تو پھر یہ ضروری ہوتا کہ تمام پھل ایک جیسے ہوتے اس لئے کہ ان کی پیدائش کا سبب اور موجب ایک جیسا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک مٹی کی یکساں خاصیت اس سے پیدا ہونے والے پھلوں کی یکسانیت کو واجد کرتی ہے اور یہ درست نہیں ہوتا کہ یکساں طبیعت اور خاصیت دو مختلف اور متضاد اقعال کے حدوث کی موجب بن جائے اگر ان اشیاء کا حدوث جن کے رنگ، مزے، خوشبوئیں اور شکلیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں یکساں طبیعت اور خاصیت کی ایجاد کا نتیجہ ہوتا تو موجب کی یکسانیت کے ہوتے ہوئے ان کا اختلاف اور تضاد محال ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان اشیاء کو وجود میں لانے والا اللہ تعالیٰ جو قادر، مختار اور حکیم ہے، جس نے ان اشیاء کو اپنے علم اور قدرت سے مختلف شکلوں اور خصوصیتوں والی بنا کر پیدا کیا۔

5

۞ وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌۭ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

Explained together with ayah 4

6

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ ٱلْمَثُلَٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍۢ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

Explained together with ayah 4

7

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٌۭ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے

قول باری ہے (انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہے) حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ ہادی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے نیز قتادہ سے کہ ہر امت کا نبی اس کا ہادی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ ہادی وہ شخص ہے جو حق کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، حسن، قتادہ، ابو الضحی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ ہادی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ یہی تاویل درست ہے اس لئے کہ عبارت کی ترتیب اس طرح ہے (انما انت منذرو ھاد لکل قوم) تم ہر قوم کو خبردار کرنے والے اور ہدایت دینے والے ہو) منذر کو ہادی کہتے ہیں اور ہادی کو منذر۔ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔

8

ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَىْءٍ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍ

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے

تغیض الارحام کی تشریح - قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس (رض) اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب پانی کی سطح نیچی ہوجاتی ہے۔ عکرمہ کے قول کے مطابق (وما تغیض) کے معنی ” اذا غاضت “ کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رحم کے خون میں ایک دن کے اندر جو کمی ہوجاتی ہے حمل کے اندر اتنا ہی اضافہ ہوجاتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ غیض سے وہ خون مراد ہے جو حاملہ عورت حمل کے دوران دیکھتی ہے۔ یہ دراصل رحم میں موجود حمل کی ساخت میں کمی کا باعث ہوتا ہے اور بیشی سے مراد وہ مدت ہے جو نو ماہ سے بڑھ جائے اس سے کمی کی تلافی ہوتی ہے۔ اس لئے آیت میں یہی اضافہ مراد ہے۔ - اسماعیل بن اسحاق کا خیال ہے کہ اگر آیت کی تفسیر مجاہد اور عکرمہ سے مروی قول کے مطابق کی جائے تو گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حاملہ عورت کو بھی حیض آتا ہے اس لئے کہ رحم سے جو خون بھی نکلتا ہے وہ یا تو حیض کا خون ہوتا ہے یا نفاس کا۔ رہ گیا استحاضہ کا خون تو وہ ایک رگ سے نکلتا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل کا یہ قول ایک بےمعنی سی بات ہے۔ اس لئے کہ رحم سے نکلنے والا خون کبھی حیض و نفاس کا خون ہوتا ہے اور کبھی ان دونوں کے سوا ہوتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد کہ استحاضہ کا خون ایک رگ سے نکلنے والا خون ہوتا ہے اس بات کے لئے مانع نہیں ہے کہ رحم سے نکلنے والا بعض خون کبھی استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔ اس لئے کہ آپ کا ارشاد ہے (انما ھو عرق انقطعاوداء عرض یا تو یہ کوئی رگ ہے جو منقطع ہوگئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو لاحق ہوگئی ہے) آپ نے یہ بتایا کہ استحاضہ کا خون کبھی کسی عارضہ کے لاحق ہوجانے کی بنا پر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس وقت یہ کسی رگ سے خارج نہیں ہوتا۔ نیز اس بات کی راہ میں کون سی چیز حائل ہے کہ رگ کا خون رحم کے راستے خارج ہوجائے۔ اس کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کوئی رگ منقطع ہوجائے اور اس سے خون بہہ کر رحم میں پہنچ جائے اور پھر وہاں سے خارج ہوجائے اس صورت میں نہ تو وہ حیض کا خون کہلائے گا اور نہ نفاس کا۔- اسماعیل بن اسحاق نے مزید کہا کہ یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا مگر صرف اس بنا پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس کی اطلاع دی گئی ہے، اس لئے کہ یہ غیب کی حکایت ہے :“ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس موقع پر اسماعیل یہ بھول گئے کہ ان کا یہ کلیہ اس امر کا موجب ہے کہ ” یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حاملہ عورت کو حیض آتا ہے مگر صرف اس بنا پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس کی اطلاع دی گئی ہے “۔ اس لئے کہ اسماعیل کے قاعدے اور کلیے کے مطابق یہ غیب کی حکایت ہے بلکہ اس سے حاملہ عورت کے حیض کی نفی کرنے والوں کے لئے جو گنجائش پیدا ہوجاتی ہے وہ اس کے اثبات کے قائلین کے لئے نہیں پیدا ہوتی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اس نے خون دیکھ لیا۔ اب اختلاف پیدا ہوگیا کہ آیا یہ حیض تھا یا حیض نہیں تھا۔ حیض کا اثبات دراصل احکام کا اثبات ہوگا لیکن اسے کسی شرعی دلیل کے بغیر حیض ثابت کرنا جائز نہیں ہے، اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ حاملہ عورت عدم حیض کی حالت پر برقرار رہے حتیٰ کہ توقیف یعنی شرعی دلیل یا اتفاق امت کی بنا پر اس خون کا حیض ہونا ثابت ہوجائے۔ اس لئے کہ …

9

عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلْكَبِيرُ ٱلْمُتَعَالِ

وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے

Explained together with ayah 8

10

سَوَآءٌۭ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ ٱلْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِۦ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِٱلَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِٱلنَّهَارِ

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے

Explained together with ayah 8

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.