Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

No commentary on this ayah in this edition.

2

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

No commentary on this ayah in this edition.

3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے

No commentary on this ayah in this edition.

4

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

سورة یوسف - غیر انبیاء کے خواب سچے ہوسکتے ہیں - قول باری ہے اذا قال یوسف لابیہ یا ابت انی رایت احد عشر کو کبا وشمس والقمر رایتھم لی ساجدین ۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا ابا جان میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ اس میں یہ بیان ہے کہ غیر انبیاء کے خواب بھی سچے ہوتے ہیں اس لیے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبر نہیں بنے تھے ۔ بلکہ کم سن تھے ، کواکب کی تعبیر ان کے بھائیوں اور سورج اور چاند کی تعبیر ان کے والدین سے کی گئی تھی حسن سے یہی مروی ہے۔

5

قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

قول باری ہے الا تقصص رو یاک علی اخوتک فیکید والک کیدا ً ۔ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ اگر یوسف اپنے بھائیوں سے اس خواب کا تذکرہ کریں گے تو وہ ان سے حسدکریں گے اور ان کے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ یہی بات ان لوگوں سے نعمت کو چھپانے اور ان پر ظاہر نہ کرنے کے جواز کی بنیاد ہے جن کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ وہ حسد کریں گے اور درپے آزاد ہوجائیں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے نعمت کے اظہار کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد ہوا واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیا۔

6

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

تاویل الاحادیث کیا ہے - قول باری ہے ویعلمک من تاویل الاحادیث اور تجھے باتوں کو تہہ کو پہنچنا سکھائے گا۔ تاویل سے مراد وہ مفہوم ہے جس کی طرف ایک معنی پلٹتا اور اس کی طرف راجع ہوتا ہو ۔ ایک چیز کی تاویل اس کے مرجع کو کہتے ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ تاویل احادیث سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے۔ ایک قول کے مطابق تاویل احادیث اللہ کی آیات ، اس کی توحید کے دلائل اور ان کے سوا دین کے دوسرے امور میں ہوتی ہے۔

7

۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ

ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں

Explained together with ayah 6

8

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں

قول باری ہے اذا قالوا لیوسف واخوہ احب الی ابینا منا ونحن عصبۃ ان ابانا لفی ضلال مبنی ۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا یہ یوسف اور اس کا بھائی دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں ۔ انہوں نے آپس میں یہ گفتگو کی اور اپنے اس حسد کا اظہار کیا جو وہ والد سے حضرت یوسف کے قریب اور وابستگی کی بنا پر اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے ، یہ مرتبہ اور یہ وابستگی انہیں حاصل نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنے والد کے اس طرز عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان ابا نا لفی ضلال مبین ان کا اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ طرز عمل درست رائے پر مبنی نہ تھا اس لیے کہ حضرت یوسف ان سے چھوٹے تھے اور بھائیوں کا خیال یہ تھا کہ بڑے بھائی کا درجہ چھوٹے بھائی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اس لیے باپ کا قر ب انہیں حاصل ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ بیٹوں کا ایک پورا جتھا صر ف ایک بیٹھے کی بہ نسبت شفقت و محبت کا زیادہ مستحق ہے ۔ قول باری ونحن عصبۃ کا یہی مفہوم ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی تھی کہ دنیاوی امور میں وہ حضرت یعقوب کے لیے حضرت یوسف سے بڑھ کر نفع مند تھے اس لیے کہ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مال مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اس بنا پر ان کی رائے یہ تھی کہ باپ نے انہیں نظر انداز کرکے ایک بیٹے کو اپنی شفقت و محبت کا مرکز بنا لیا ہے نیز ان سب پر اسے مقدم رکھا ہے ، باپ کا یہ طرز عمل راہ صواب سے ہٹا ہوا ہے۔

9

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے

قول باری ہے اقتلوا یوسف او طرحوہ ارضا ً یخل لکم وجہ ابیکم چلو یوسف کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے تا آخر آیت ۔ برادران یوسف نے آپ میں یہ فیصلہ کرلیا کہ یا تو یوسف کو قتل کر دیاجائے یا باپ سے انہیں دور کردیا جائے ۔ جس چیز کی بنیاد پر انہوں نے اس فعل کو جائز قرار دے کر اس کے ارتکاب کی جرأت کرلی تھی اسے قرآن کے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وتکونوا من بعدۃ قوما ً صلحین یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا ۔ اس فعل کے ارتکاب کے بعد انہوں نے توبہ کرلینے کی توقع رکھی تھی ، اس کی مثال یہ قول باری ہے بل یرید الانسان لیفجر ا مامہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان تو یہی چاہتا ہے کہ آئندہ بھی فسق و فجور ہی کرتا ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ انسان اس توقع پر گناہ کا عزم کرلیتا ہے کہ وہ اس کا ارتکاب کے بعد توبہ کرلے گا ۔ وہ اپنے دل میں کہتا ہے ۔ میں یہ گناہ کرلینے کے بعد توبہ کرلوں گا ۔ آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ قاتل کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ برادران یوسف نے یہ کہا تھا کہ یوسف کو قتل کرنے کے بعد ہم نیک بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کردی لیکن اس پر تنقید نہیں کی، نہ ہی تردید کی۔

10

قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)

قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ وہاں سے گزرے اور انہیں کنوئیں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائے۔- جب انہوں نے قطعی طور پر اس تیسری تدبیر پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے نرمی اور چاپلوسی کی راہ اختیار کرلی چناچہ اپنے والد سے کہنے لگے ( یا ابانا مالک لا تامنا علی یوسف وانا لہ لنا صحون ارسلہ معنا غدا ً یرقع ویلعب وانا لہ لحافظون ۔ ابا جان کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں ، کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ۔ کچھ چرچگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دلا بہلائے گا ۔ ہم اس کی حفاظت موجود ہیں۔ یرقع کے معنی یرعی کے ہیں یعنی چرچگ لینا ۔ ایک قول کے مطابق رقع علاقوں میں فراخی کے ساتھ رہنے کو کہتے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ یرقع فی المال یعنی وہ اپنے مال کے ذریعے فراخی کے ساتھ علاقوں میں رہتا ہے۔- بعض کھیل مباح ہیں بعض گناہ - اس کھیل کو کہتے ہیں جس میں تفریح مقصود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے راحت حاصل کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی اچھے انجام کو مد نظر نہیں رکھ جاتا اور نہ ہی اس فعل کو کرنے والے کے سامنے تفریح اور تماشا کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اس بنا پر لعب کی بعض صورتیں مباح اور جائز ہوتی ہیں یعنی ان کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوتا مثلاً ایک شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ ، اسی طرح طرب و تفریح کے لیے گھوڑا سواری وغیرہ لعب کی بعض صورتیں ممنوع اور حرام ہوتی ہیں ۔ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس لعب کا برادران یوسف نے ذکر کیا تھا وہ مباح اور جائز تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس پر انہیں ٹوکتے اور اس سے انہیں روکتے۔ جب بھائیوں نے حضرت یوسف کو اپنے ہمراہ لے جانے کی درخواست کی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا انی لیحرننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب وانتم عنہ غافلون۔ تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہیں اسے کوئی بھیڑ یا نہ پھاڑ کھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے اپنے اس غم کا ذکر کردیا جو یوسف کے چلے جانے سے انہیں لا حق ہوتا ۔ اس لیے کہ یوسف ان کی نظروں سے دورہو جاتے اور وہ انہیں دیکھنے سے قاصر رہ جاتے اس کے ساتھ انہیں یہ بھی خوف تھا کہ کہیں کوئی بھیڑیا ، ان کو مار لہ ڈالے ، اس طرح حضرت یوسف کے چلے جانے کی صورت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر دو باتیں آ پڑتیں ۔ ایک تو جدائی کا غم اور دوسرا یوسف کی جان جانے کا خوف بھائیوں نے اس کے جواب میں باپ سے کہا کہ جہاں تک بھیڑے کے پھاڑ کھانے کا تعلق ہے تو یہ قطعی طور پر ناممکن ہے اس لیے کہ ہم ایک جتھا ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے اگر ایسا ہوگیا تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.