Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 51–60 of 123

51

يَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں؟

يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا۔۔ : ” فَطَرَ “ کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ ) [ الانفطار : ١ ] ” اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ “ ” فَطَرَنِيْ “ سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔ - اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت و تبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا ؟

52

وَيَٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ

اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو

وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ۔۔ : ” السَّمَاۗءَ “ آسمان کے علاوہ ہر بلند چیز کو بھی ” سَمَاءٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ” سَمَا یَسْمُوْ “ کا معنی بلند ہونا ہے، یہاں ” السَّمَاۗءَ “ سے مراد بادل یا بارش ہے۔ ” مِّدْرَارًا “ یہ ” دَرٌّ“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی دودھ کا بہنا اور زیادہ ہونا ہے، پھر بہت برسنے والی بارش کے لیے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ ” دَرَّتِ السَّمَاء بالْمَطَرِ دَرًّا، وَ تَدِرُّ دَرًّا “ جب آسمان سے بارش بہت برسے۔ ان آیات سے اور دوسرے مقامات مثلاً الاحقاف (٢٤) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فخر و غرور اور اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کی وجہ سے کافی عرصہ تک ان سے بارش روک لی گئی، جس کے نتیجے میں قحط کی وجہ سے ہر طرف دھول اڑنے لگی اور باوجود زبردست جسمانی ڈیل ڈول اور قوت کے سب لوگوں میں کمزوری نمایاں ہونے لگی تو ہود (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ سب سے پہلے تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو شرک اور اس کی نافرمانی کی ہے، اس کی معافی مانگو۔ بہت سے مفسرین نے یہاں ” اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ “ سے شرک چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لانا مراد لیا ہے۔ ” ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ “ پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، یعنی آئندہ اس کی ہر نافرمانی ترک کرنے اور ہر حکم بجا لانے کا پختہ عزم کرو، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم پر ایسا بادل بھیجے گا جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہاری قوت کی کمی دور کرکے پہلے سے بھی زیادہ قوت عطا فرمائے گا۔ معلوم ہوا کہ استغفار اور توبہ سے قحط دور ہوتا ہے اور جسمانی، ذہنی اور مالی ہر قسم کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (٣) اور سورة نوح (١٠ تا ١٢) ۔- وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ : یعنی میری اطاعت سے منہ نہ موڑو، ورنہ تم مجرم قرار پاؤ گے۔

53

قَالُوا۟ يَٰهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍۢ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں

یہاں تک ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور اس مختصر سی تقریر میں تین دفعہ انھیں ” اے میری قوم “ کہہ کر پکارا، تاکہ شاید قرابت کے واسطے ہی سے ان کے دلوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔ کیونکہ ہود (علیہ السلام) اسی قبیلے کے فرد ہو کر انھی کی بدخواہی نہیں کرسکتے تھے۔ - قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ ۔۔ : یہ بات یقینی ہے کہ ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایسے واضح دلائل اور یقینی آیات اور نشانیاں لے کر آتا ہے کہ سننے اور دیکھنے والوں کو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا، مگر یہ سب کچھ انھی کے لیے کار آمد ہوتا ہے جو دل کے کانوں اور آنکھوں سے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص یا قوم ضد اور عناد کی وجہ سے یہ طے کرلے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں تو انھیں لاکھ دلیل سامنے ہونے کے باوجود ایک بھی نظر نہیں آتی اور ان کی حالت وہ ہوجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ (٦، ٧) میں بیان فرمائی ہے ۔

54

إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَرَىٰكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٍۢ ۗ قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں

یہاں چار جملوں میں ہود (علیہ السلام) کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کردیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں ” مَا “ نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہوجائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ - اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ : یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ ” عَرَا یَعْرُوْ “ اور ” اِعْتَرٰی یَعْتَرِیْ “ پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہوگیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ معبود نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے، اگر سب کی مار پڑجاتی تو معلوم نہیں تیرا کیا بنتا۔ افسوس یہی کسی بزرگ کی مار کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے، حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔- قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ ۔۔ : یعنی میرا تمہارے ان بتوں سے اور اللہ کے سوا کسی معبود سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ میں ہر آن ان کا انکار اور ان سے اظہار براءت کرتا ہوں۔- فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ : یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ تم پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑگئی ہے تو ایک آدھ کے بجائے اگر تم اور تمہارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں، ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمہارے یہ معبود بھی غلط۔ - ہود (علیہ السلام) کا یہ کلام ان کی قوم کی دوسری فضول باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جواب ہے کہ تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل، یعنی معجزہ نہیں لایا۔ معجزہ اور نشانی کیا چیز ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معجزہ کی روح وہ چیلنج ہوتا ہے جو صاحب معجزہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی، ابراہیم (علیہ السلام) کا معجزہ ان کے لیے آگ کا گلزار بن جانا، مگر یہ معجزہ بھی کیا کم ہے کہ اکیلا شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے کہ میں تم سب کو اور تمہارے خداؤں کو کچھ نہیں سمجھتا۔ تم سب مل کر میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور اس قوم کو للکار رہا ہے جو نہایت سخت گیر اور رحم سے نا آشنا تھے، جن کے بارے میں آتا ہے : (وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ ) [ الشعراء : ١٣٠] ” اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو۔ “ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اتنی قوت والے تھے کہ ان کے بعد ویسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا : (۽الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ) [ الفجر : ٨ ] ” وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ “ جب طوفان سے ہلاک ہوئے تو : (كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ) [ الحاقۃ : ٧ ] ” گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے تھے۔ “ صرف ایک شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے، جو اس کے خون کی پیاسی ہے، جس کے معبودوں کو اور پوری قوم کو اس نے جاہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کرلو اور پوری قوم باتیں تو بناتی ہے، مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی، یہ کھلا معجزہ نہیں تو کیا ہے ؟

55

مِن دُونِهِۦ ۖ فَكِيدُونِى جَمِيعًۭا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے مہلت نہ دو

Explained together with ayah 54

56

إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے، بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر ہے

اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ : یہ جرأت ہود (علیہ السلام) میں کیسے پیدا ہوئی ؟ وہ خود فرماتے ہیں کہ میرا بھروسا اللہ پر ہے، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ - مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا : ” نَاصِیَۃٌ“ پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں، اگر کسی کو یہاں سے اچھی طرح پکڑ لیا جائے تو وہ ہل نہیں سکتا، بلکہ پوری طرح پکڑنے والے کی گرفت میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِ ) [ العلق : ١٥ ] ” تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔ “ مجرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنی علامت کے ساتھ پہچانے جائیں گے : (فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ) [ الرحمٰن : ٤١ ] ” پھر (ان کو) پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔ “ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرعی عقیدے اور شرعی احکام میں تمہیں اختیار دیا ہے کہ مانو گے تو انعام پاؤ گے، نہ مانو گے تو مارے جاؤ گے۔ اس پر تم اکڑ گئے اور اپنے آپ کو ہر طرح مرضی کا مالک سمجھ لیا۔ سب سے پہلے تو شرعی احکام پر عمل میں اختیار دینے والے مالک کی غداری کرکے اس کی مخلوق کو اس کے شریک بنا بیٹھے، پھر اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، اس کے رسول کو جھٹلایا۔ یہ نہ سوچا کہ تھوڑا سا اختیار رکھنے کے باوجود صرف تم ہی نہیں بلکہ پوری مخلوق مکمل طور پر اس کی گرفت میں ہے اور اس کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں، وہ اس کی مرضی کے بغیر ہل بھی نہیں سکتے۔ اب تم جس طرح شرعی احکام میں اپنا اختیار غلط استعمال کرتے ہوئے اکڑ کر کہتے ہو، ہم اللہ کو نہیں مانتے، ہمارا داتا فلاں اور دستگیر فلاں ہے، ہم رسول کو نہیں مانتے، ہمارا سائیں مرشد فلاں ہے، اگر واقعی تم ایسے ہی آزاد ہو تو ان احکام پر بھی اکڑ کر دکھاؤ جن میں وہ ” کُنْ “ کہتا ہے تو وہ فوراً واقع ہوجاتے ہیں۔ جب بیمار ہوتے ہو تو یہ کہہ کر دکھاؤ کہ کوئی ہمیں بیمار نہیں کرسکتا، کوئی ہمیں بوڑھا نہیں کرسکتا، کوئی ہمارے بال سفید نہیں کرسکتا۔ اگر تم اور تمہارے خدا ایسے ہی زبردست ہیں تو اللہ کے حکم سے دل کی حرکت رکنے پر اسے چالو کر کے دکھاؤ۔ اسی طرح موت کے وقت بھی اکڑ جاؤ کہ جاؤ ہم نہیں مرتے۔ یا تمہارے شریک کہیں ہم اپنے بندے کو مرنے نہیں دیں گے۔ معلوم ہوا کہ تم اس تھوڑے سے اختیار کے باوجود مکمل طور پر میرے رب کے مکمل قبضے میں ہو، پھر جب خود اس نے مجھے بھیجا ہے اور وہ میرا پشت پناہ ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے، تو مجھے تمہارا کیا ڈر ہے، جاؤ جو مرضی کرلو۔ - اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ” جو سیدھی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔ “ (موضح) سورة نحل میں فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ) [ النحل : ٩ ] ” اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا ہے) اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔ “ دوسرا یہ کہ اگرچہ ہر جاندار پر اس کا قبضہ ہے اور وہ اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرسکتا ہے، مگر وہ صراط مستقیم پر ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (ابن کثیر)

57

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ

اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِهٖٓ اِلَيْكُمْ ۔۔ : ” تَوَلَّوْا “ اصل میں ” تَتَوَلَّوْا “ تھا، لغت عرب میں کسی فعل کے شروع میں اگر دو ” تاء “ ہوں تو عموماً ایک کو حذف کردیتے ہیں۔ یعنی رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھ تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا، اس لیے میں معذور ہوں، اب اگر تم نہ مانو تو بیشک نہ مانو، مگر میرا فریضہ پورا ہوگیا اور تمہارا عذر ختم ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ کہ ” وہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب نہیں دیتا “ تمہارے لیے بہانہ نہیں بن سکتا۔ تمہارے نہ ماننے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرسکو گے۔ آگے اس کی مرضی ہے کہ تمہاری جگہ اچھے لوگ لائے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ ) [ محمد : ٣٨ ] ” اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگ لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔ “ اور یہ بھی اس کی مرضی ہے کہ چاہے تو مزید برے لوگ لے آئے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے جب ارض مقدس میں فساد شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا دینے کے لیے ان سے بھی برے بندے ان پر مسلط کردیے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٥ تا ٧) ۔- اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ: یعنی جس طرح بعض جاہل فلسفی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کے قوانین بنا دیے، اب وہ ان قوانین کے مطابق خود بخود چل رہی ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ میرے رب نے کائنات کو پیدا کیا، پھر ” رب “ کا معنی ہی یہ ہے کہ تربیت اور پرورش بھی وہی کر رہا ہے۔ پھر حفیظ بھی وہی ہے۔ ہر چیز اس کی نگرانی میں چل رہی ہے۔ اس سے ان مشرکوں اور جاہل صوفیوں کا بھی رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے اس کا انتظام قطبوں، غوثوں اور اس قسم کے خود ساختہ ناموں والے ولیوں اور بزرگوں کے حوالے کردیا ہے، جو اس کو چلا رہے ہیں اور اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اب فارغ ہے، اختیار اس نے اپنے پیاروں کو دے دیے ہیں۔ اللہ اکبر پہلی امتوں کے مشرکوں اور ہماری امت کے مشرکوں میں کس قدر مشابہت اور یک رنگی پائی جاتی ہے۔

58

وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَنَجَّيْنَٰهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍۢ

اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا ۔۔ : ہمارے حکم سے مراد عذاب کا حکم ہے، اس کی تفصیل سورة احقاف، سورة حاقہ، سورة قمر اور دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید ہوا کی تیز و تند اور سرکش آندھی بھیجی، جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلی اور اس نے کفار میں سے ایک بھی متنفس کو باقی نہ چھوڑا۔ دیکھیے سورة حاقہ (٦ تا ٨) یہ تو دنیا کا عذاب تھا، آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی سخت عذاب ” عَذَابٍ غَلِيْظٍ “ تیار ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہ ایمان لانے والوں کو ان دونوں عذابوں سے بچا لیا۔ - یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوف ناک آندھی جب چلتی ہے تو وہ مومن و کافر ہر ایک پر گزرتی ہے تو ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کس طرح بچ گئے ؟ اسی طرح ثمود پر آنے والی صیحہ (چیخ) سے کافروں کے کان اور دل تو پھٹ گئے مگر صالح (علیہ السلام) اور ایمان والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ ہم نے انھیں اپنی عظیم رحمت کے ساتھ بچا لیا۔ ” رَحْمَةٍ “ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، پھر جو رحمت اللہ کی طرف سے ہو اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہے۔ وہ آندھی اور چیخ اللہ کے امر سے کفار پر آئی تھیں، ان کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کا انھیں حکم ہی نہ تھا۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کے دامن میں محفوظ تھے۔ ابابیل پرندوں کی کنکریوں سے ابرہہ اور اس کا لشکر کھائے ہوئے بھس کی طرح ہوگیا، مگر مکہ والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ دراصل یہ حکم اس قادر مطلق کا تھا، اگر کسی دنیا والے کا ہوتا تو کافر و مومن دونوں پس جاتے، متنبی نے کہا ہے ؂- تُسَوِّدُ الشَّمْسُ مِنَّا بِیْضَ اَوْجُھِنَا - وَمَا تُسَوِّدُ بِیْضَ الْعَیْنِ وَاللِّمَمٖ- وَکَانَ حَالُھُمَا فِی الْحُکْمِ وَاحِدَۃً- لَوِ احْتَکَمْنَا مِنَ الدُّنْیَا إِلٰی حَکَمٖ- ” دھوپ ہمارے چہروں کی سفیدی کو سیاہ کردیتی ہے، جب کہ آنکھ کی سفیدی اور بالوں کی سفیدی کو سیاہ نہیں کرتی۔ حالانکہ اگر ہم دنیا کے کسی منصف کے پاس جائیں تو فیصلے میں دونوں کا حال ایک ہی ہے۔ “ - بیماری کے بعد شفا بھی رحمت ہے مگر بیماری آنے ہی نہ دینا یہ اس سے بھی عظیم رحمت ہے۔

59

وَتِلْكَ عَادٌۭ ۖ جَحَدُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا

وَتِلْكَ عَادٌ : اور یہ تھے عاد، اس سے مراد ان کے علاقے بھی ہوسکتے ہیں اور وہ قوم بھی جن کا واقعہ بیان ہوا۔- جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ :” جَحَدُوْا “ کا معنی ہے دلیل سے ثابت شدہ بات کا انکار کردینا۔ آیات سے مراد کائنات میں رب تعالیٰ کی توحید کی بیشمار نشانیاں، ہود (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی آیات اور ان کا تنہا پوری قوم کے سامنے بےخوف ہو کر ڈٹ جانا وغیرہ ہیں۔ غرض اس بدنصیب قوم نے واضح نشانات، معجزات اور آیات سمجھ میں آجانے کے باوجود انھیں ماننے سے صاف انکار کردیا۔ - وَعَصَوْا رُسُلَهٗ : انھوں نے اگرچہ ہود (علیہ السلام) ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے، اس لیے فرمایا : ” انھوں نے اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ “ (شوکانی)- وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ : ” عَنِيْدٍ “ سخت عناد والا، ہر وہ شخص جو حق قبول نہ کرے اور اس کے ساتھ شدت کے ساتھ اس کی مخالفت بھی کرے، مراد قوم کے سردار ہیں۔

60

وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ عَادًۭا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّعَادٍۢ قَوْمِ هُودٍۢ

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے

وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : لعنت کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں عذاب اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کردینا ہے اور انسان کی طرف سے لعنت کا مطلب اس کے لیے یہ بددعا کرنا ہے۔ (راغب) یعنی دنیا میں آنے والا ہر پیغمبر اور مومن ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کرتا رہے گا اور آخرت میں وہ سب کے سامنے رسوا اور مبتلائے عذاب ہوں گے۔ - اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۔۔ : ” اَلَآ “ کے ساتھ خبردار اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ ان بےچاروں پر زیادتی ہوئی۔ فرمایا، سن لو یہ لوگ تمام جرائم سے بڑے جرم رب تعالیٰ کے کفر کے مرتکب تھے۔ پھر دوبارہ فرمایا، سن لو عاد کے لیے ہر قسم کی خیر اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے، جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ یاد رہے کہ ” کَفَرَ “ کے بعد عام طور پر باء آتی ہے، مثلاً ” کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ “ جس کا مطلب رب کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار ہوتا ہے۔ باء کے بغیر ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے سرے ہی سے اپنے رب کا انکار کردیا، جیسے دہریے رب تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ ” کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ “ سے بھی بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق ” كَفَرُوْا رَبَّهُمْ “ میں یہ بھی ممکن ہے کہ ” کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ “ میں سے تخفیف کے لیے باء حذف کردی گئی ہو اور دونوں کا معنی ایک ہی ہو۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.