الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ :” الۗرٰ “ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ” الْمُبِيْنِ “ ” أَبَانَ یُبِیْنُ “ باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : ١٦٨ ] ” بیشک وہ تمہارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔ “ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ ” الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ “ یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔