Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 123

81

قَالُوا۟ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ ٱلصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٍۢ

فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟

قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ۔۔ : قوم کے بدمعاش جب باز نہ آئے بلکہ دیواریں پھلانگ کر یا دروازہ توڑ کر اندر آگئے تو فرشتے نے پر مارا، جس سے سب اندھے ہو کر بھاگ اٹھے۔ سورة قمر میں اس کی طرف اشارہ ہے، فرمایا : (وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ فَطَمَسْـنَآ اَعْيُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) [ القمر : ٣٧ ] ” اور بلاشبہ یقیناً انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ “ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب فرشتوں نے دیکھا کہ لوط (علیہ السلام) بالکل عاجز آگئے ہیں اور اپنی قوم کے بدکاروں کو نہ روک سکنے کی وجہ سے سخت رنجیدہ ہیں تو انھوں نے ظاہر کردیا کہ ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ وہ تھا جو انھوں نے ان بدکاروں کی آنکھیں مٹا کر کیا، مزید تسلی یہ دی کہ یہ لوگ کبھی آپ کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے۔ - فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ ۔۔ : یعنی رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ صرف گھر والوں کو لے کر نکلنے کا حکم اس لیے دیا کہ کوئی اور شخص ان کے سوا مسلمان ہی نہیں ہوا تھا۔ دیکھیے سورة ذاریات ( ٣٥، ٣٦) ۔- اِلَّا امْرَاَتَكَ : اس کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ ” فَاَسْرِ بِاَھْلِک “ سے استثنا ہے، یعنی اپنی بیوی کے سوا دوسرے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ۔ دوسری یہ کہ تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے، مگر تمہاری بیوی مڑ کر دیکھے گی اور اپنے کفر اور قوم کی ہمدردی کی وجہ سے ان پر عذاب دیکھ کر آہ و پکار کرے گی تو اسے بھی وہی عذاب آپہنچے گا جو ان کو پہنچا۔ پہلا معنی زیادہ قریب ہے۔ (واللہ اعلم) قدرتی بات ہے کہ انسان کو اپنے دشمن کی جلد از جلد بربادی کی خواہش ہوتی ہے، فرشتوں نے بتایا کہ ان پر عذاب صبح کے وقت آئے گا۔ لوط (علیہ السلام) کے مزید جلدی کے مطالبے پر انھوں نے کہا : (اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ ) ” کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے ؟ “ صبح کا وقت شاید اس لیے مقرر کیا گیا ہو کہ وہ آرام کا وقت ہوتا ہے اور لوگ کچھ کچھ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ آرام کے وقت عذاب زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے اور ایسے وقت میں عذاب دیکھنے والوں کے لیے باعث عبرت بھی ہوتا ہے۔ (آلوسی) ” اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ “ پر شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ فتح ہوا صبح کے وقت، شاید وہی اشارہ ہو۔ “ (موضح)

82

فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍۢ مَّنضُودٍۢ

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں

فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا ۔۔ : یعنی جب ہمارے عذاب کا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کا حصہ اس کا نیچے کا حصہ کردیا، یعنی پوری بستی الٹ دی۔ یہ عذاب ان کے فعل شنیع سے مناسبت رکھتا تھا کہ انھوں نے بھی فطرت کو بدل کر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کو اپنی شہوت رانی کا ذریعہ بنا لیا۔ - سِجِّيْلٍ : سنگ و گِل (پتھر اور مٹی کے ملے ہوئے ڈھیلے) یا سنگ گِل (مٹی کے پتھر یعنی پختہ اینٹوں کے روڑے یا کھنگر) مزید عذاب کے طور پر بستی الٹنے کے بعد اس پر اینٹوں اور پتھروں کی ایسی مسلسل بارش برسائی کہ ان کی تہیں لگ گئیں۔

83

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ بِبَعِيدٍۢ

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ : ” نشان لگے ہوئے “ یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس کو ہلا ک کرنا ہے۔ (ابن کثیر)- وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ظلم کی روش پر چلیں گے (مثلاً مغربی اقوام اور ان کے پرستار جو دھڑلے سے اس فعل بد کا ارتکاب اور اس کی اشاعت کر رہے ہیں) ان پر بھی یہ عذاب آنا کچھ دور نہیں، یا الف لام عہد کا ہو تو ان ظالموں (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے کافروں) پر بھی نزول عذاب بعید از قیاس نہیں۔ اگر قوم لوط پر عذاب آسکتا ہے تو ان پر بھی آسکتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ الٹی ہوئی بستیاں ان مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں، بلکہ ملک شام کو جاتے ہوئے دائمی آباد راستے میں ہیں، جن کی بےمثال بربادی یہ لوگ صبح و شام آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حجر (٧٦) اور صافات (١٣٧، ١٣٨) کے حواشی۔

84

۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ ۚ إِنِّىٓ أَرَىٰكُم بِخَيْرٍۢ وَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ مُّحِيطٍۢ

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يٰقَوْمِ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٨٥ تا ٩٣) اور سورة شعراء (١٧٦ تا ١٩٠) مکیال اور کیل سے مراد کسی مقرر پیمانے کے برتن مثلاً صاع (ٹوپہ وغیرہ) میں ڈال کر غلے وغیرہ کو ماپنا اور میزان اور وزن کا معنی ترازو وغیرہ سے تولنا ہے۔ - اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ : یعنی تم اچھے خاصے خوش حال ہو، پھر اس قسم کی بےایمانی اور فریب کاری کی کیا ضرورت ہے۔ - عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ : یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی میں اس دن کا عذاب جس کے گھیرے سے کوئی نکل نہ سکے گا۔

85

وَيَٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو

وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ : پہلے فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو، اب اس کی مزید تاکید فرمائی کہ ماپ اور تول پورا کرو، نہ دیتے وقت کم دو ، نہ لیتے وقت زیادہ لو۔ مزید دیکھیے سورة مطففین (١ تا ٣) ۔- وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ : پہلے ماپ تول کا خاص طور پر ذکر فرمایا، اب لینے دینے کے ہر طریقے کو ان الفاظ کے ذریعے سے شامل کرلیا، مثلاً کسی بھی طرح کے میٹروں کے ذریعے، یا گننے کے ذریعے، غرض کسی بھی طرح لوگوں کو ان کی چیز کم مت دو ، نہ زیادہ لو۔- وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ : ” عَثِیَ یَعْثٰی “ بروزن ” رَضِیَ یَرْضٰی “ حد سے بڑھ کر فساد کرنا، مثلاً ان کی عادت تھی کہ اگر کم ماپ تول کے خلاف کوئی شخص احتجاج کرتا تو سب مل کر اس پر حملہ آور ہوجاتے۔ اسی طرح موقع ملتا تو ڈاکے مارتے اور لوگوں سے چیزیں چھین لیتے۔ خلاصہ یہ کہ شعیب (علیہ السلام) نے انھیں ہر قسم کے فساد سے منع فرمایا۔

86

بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍۢ

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۔۔ : یعنی بےایمانی سے جمع کردہ مال سے اتنی بچت اور منافع ہر طرح سے بہتر ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق حاصل ہو۔ ” اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ “ (بشرطیکہ تم مومن ہو) کیونکہ کافر کے نیک اعمال بھی قیامت کے دن اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ دیکھیے سورة کہف (١٠٥) ۔- وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ : یعنی میں تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہارے ناپ تول کو دیکھتا رہوں اور نہ یہ میرے بس میں ہے۔ ہر ایک کے ایک ایک لمحہ پر نظر تو صرف رب تعالیٰ کی ہے، میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا دینا ہے، ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔

87

قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ

انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ ۔۔ : یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرۂ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی اور مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں، جائز و ناجائز جیسے چاہیں کمائیں، کوئی ہمیں کیوں ٹوکے یہ وہی سیکولر سوچ ہے جو آج کل بھی چل رہی ہے کہ نماز اور دین ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مملکت اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے ہم پابند نہیں۔ بیشک دین سود سے روکتا ہے مگر ساری دنیا کی معیشت اس پر چل رہی ہے، دین کا اس میں کیا دخل ؟ پھر کوئی شرک کرے، کفر کرے یا موحد ہو، اللہ تعالیٰ کو مانے یا نہ مانے، کسی کو اس سے کیا غرض۔ بس مملکت کے جو قانون خود لوگوں نے اکثریت سے بنائے ہیں، ان کی پابندی لازم ہے، باقی کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی بغاوت ہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا نہ ہوتی کہ یا اللہ میری امت (دعوت و اجابت) کو عام عذاب سے ہلاک نہ کرنا تو کب کا عذاب آچکا ہوتا۔ - اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ : اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تم تو خاندان میں بڑے بردبار اور نہایت سمجھ دار سمجھے جاتے ہو، تمہیں کیا ہوگیا کہ ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگے ہو۔ دوسرا یہ کہ دراصل وہ انھیں ٹھٹھے اور مذاق سے یہ کہہ رہے تھے، مقصد ان کا انھیں نہایت بےحوصلہ اور نادان کہنا تھا۔ صاحب کشاف نے اس کی مثال دی کہ جیسے کوئی شخص کسی سخت بخیل آدمی کو کہے کہ تمہاری سخاوت کا کیا کہنا، اگر تمہیں حاتم طائی دیکھے تو وہ بھی تمہارے آگے سر جھکا دے۔ ایک معنی یہ ہے کہ بس تو ہی ایک عقل مند اور نیک چلن رہ گیا ہے ؟ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جاہل اور احمق ہی رہے ؟ یہ بھی استہزا اور تمسخر کی ایک صورت تھی۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انھی کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔ “ (موضح)

88

قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًۭا ۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَآ أَنْهَىٰكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو (تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ ۔۔ :” بَيِّنَةٍ “ وہ دلیل جس کے ساتھ حق اور باطل واضح اور الگ الگ ہوجائے۔ ” رِزْقًا حَسَـنًا “ یہ لفظ تین چیزوں کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نبوت، حلال روزی اور صاف ستھری پاکیزہ زندگی۔ یہاں ” اَرَءَيْتُمْ “ کا جواب محذوف ہے، یعنی اے میری قوم یہ بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے رزق حسن دیا ہو تو کیا میں اسے چھوڑ کر تمہاری طرح حرام کھانے لگوں اور تمہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دوں ؟ ” رِزْقًا حَسَـنًا “ سے معلوم ہو رہا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) عطائے نبوت کے ساتھ ساتھ حلال روزی کے ذریعے سے اچھے خاصے مال دار آدمی تھے۔ - وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ ۔۔ : یعنی میں جو تمہیں اللہ کے ساتھ شرک سے اور ماپ تول میں کمی سے منع کر رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرتا رہوں، بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کا اور سلف صالحین کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ اس کے برعکس کرنے والوں کا انجام حدیث میں یوں ہے، اسامہ بن زید (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہٗ فِي النَّارِ ، فَیَدُوْرُ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاہٗ فَیَجْتَمِعُ أَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ یَا فُلَانُ مَا شَأْنُکَ ؟ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ ؟ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَلاَ آتِیْہِ ، وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ ) [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنھا مخلوقۃ : ٣٢٦٧ ] ” ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کی انتڑیاں تیزی سے باہر نکل پڑیں گی تو وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس پر اکٹھے ہوجائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا، میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود وہ نیکی نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔ “- اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ : تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ خصلت ہے اللہ کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔ “- وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ : یعنی آج میں تمہیں جو نصیحت کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں، اس کو جاری رکھنے اور اس کی کامیابی کا دارو مدار اللہ ہی پر ہے۔

89

وَيَٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِىٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَٰلِحٍۢ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍۢ مِّنكُم بِبَعِيدٍۢ

اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں

وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ۔۔ :” شِقَاقٌ شِقٌّ“ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، بمعنی جانب، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں آمنے سامنے ہوجائیں، یعنی صاف مخالفت اور مقابلے پر اتر آنا۔ ” لَا يَجْرِمَنَّكُمْ “ تمہیں آمادہ نہ کر دے، تمہیں ابھار نہ دے، تمہیں اس بات کا مجرم نہ بنا دے، تمہارے لیے اس کا باعث نہ بن جائے، یہ تمام معانی ہوسکتے ہیں۔- وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ : یعنی اگر تمہیں قوم نوح کے غرق ہونے، قوم ہود کے آندھی کے ساتھ ہلاک ہونے اور قوم صالح کے چیخ اور زلزلے سے نیست و نابود ہونے سے عبرت نہیں ہوئی، کیونکہ ان کا علاقہ یا زمانہ تم سے دور تھا، تو لوط (علیہ السلام) کی قوم تو تم سے کچھ دور نہیں، نہ اسے زیادہ وقت گزرا ہے اور نہ ان کا علاقہ تمہارے علاقے سے کچھ دور ہے۔ واضح رہے کہ جغرافیائی اعتبار سے بھی مدین کا علاقہ اس زمین سے متصل واقع تھا جہاں لوط (علیہ السلام) کی قوم بستی تھی۔

90

وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى رَحِيمٌۭ وَدُودٌۭ

اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے

اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ : یعنی میرا رب اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے، اسی لیے اس نے تمہیں پہلے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ اور پچھلے کی معافی مانگو اور اپنے اعمال کے انجام بد سے بچ جاؤ۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.