Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 123

71

وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی

وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ : ان کی بیوی سارہ[ مہمانوں کی خدمت کے لیے پردے کے پیچھے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر : ٨) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط (علیہ السلام) کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقیناً خوشی ہوتی ہے۔- فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۔۔ : سارہ[ کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بےساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو خوش خبریاں دیں، ایک بیٹا عطا ہونے کی، پھر اس بیٹے سے پوتا یعقوب عطا ہونے کی اور ان کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہوگا، پھر اس کی شادی ہوگی اور اسے یعقوب عطا ہوگا، گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔ یہ چاروں خوش خبریاں فرشتوں نے دی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے یہ خوش خبریاں دیں، کیونکہ فرشتوں کا کام تو صرف پہنچانا تھا، اصل خوش خبری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی۔

72

قَالَتْ يَٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى : امام طبری (رض) نے فرمایا کہ ” یَا وَیْلَتَا “ کا کلمہ عرب کسی چیز پر تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے کے وقت بولتے ہیں، چناچہ تعجب کے وقت کہتے ہیں : ” وَیْلُ أُمِّہِ مَا أَرْجَلَہُ “ ” اس کی ماں ہلاک ہو، وہ کس قدر مرد ہے۔ “ باقی الف کے متعلق طبری کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ الف ” ندبہ “ کا ہے اور تاء کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ” وَیْلٌ“ کے بعد والا الف ندبہ اتنا واضح اور لمبا نہیں ہوسکتا جتنا درمیان میں تاء کے اضافے سے ہوسکتا ہے۔ - ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ ۔۔ : پہلی خوش خبری کا رد عمل وہ ہنسی تھی جو سارہ[ کے چہرے پر نمودار ہوئی، اب ایک ایسی چیز کی خوش خبری ملی جو ساری زندگی کی آرزو کا خلاصہ تھی اور اس وقت ملی جب دنیاوی اسباب کے لحاظ سے اس کی امید ہی نہ تھی تو سارہ[ کی ہنسی حیرت اور دہشت میں بدل گئی۔ کہا کیا ایسا ہوگا کہ میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے، یقیناً یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ یہ خوش خبری فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی دی تھی، جیسا کہ سورة ذاریات میں ہے : (ۭ وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ ) [ الذاریات : ٢٨ ] ” اور انھوں نے اسے ( ابراہیم (علیہ السلام ) کو ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔ “ مگر یہاں خصوصاً ان کی بیوی کو خوش خبری دینے اور ان سے گفتگو کا ذکر کیا ہے، کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں تو ہاجرہ[ سے اسماعیل پیدا ہوچکے تھے، لیکن سارہ[ ابھی تک بےاولاد تھیں۔ قدیم مفسرین اور اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال اور سارہ[ کی عمر نوے سال تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی عمر کے تعین کا کوئی بااعتماد ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بیان سارہ[ کا ” عَجُوْزٌ“ ہونا اور ان کے خاوند کا ” شَیْخاً “ ہونا ہی ” لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ“ سمجھنے کے لیے کافی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی عمر بھی بیان فرما دیتا۔- یہ آیت دلیل ہے کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے، کیونکہ اسحاق (علیہ السلام) کی خوش خبری کے ساتھ ہی یعقوب پوتے کی خوش خبری بھی تھی، ان کے ذبح کے حکم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (قرطبی)

73

قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے، پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ جب اللہ کے امر کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں تو تعجب کیسا۔ پھر اس گھر میں شروع سے اللہ کی رحمت و برکت کے جو معجزے ظاہر ہوتے رہے ہیں، مثلاً آگ کا گلزار ہونا، اسماعیل (علیہ السلام) کا ذبح سے محفوظ رہنا، مصر کے اس ظالم جبار سے سارہ[ کی عصمت کا محفوظ رہنا وغیرہ، ان کے بعد تو اللہ کے حکم سے کسی بھی ناممکن کام کے ہوجانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ - رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ :” اَهْلَ الْبَيْتِ “ سے پہلے حرف ندا ” یَا “ مقدر ہے، اس لیے یہ منصوب ہے، یعنی ” اے گھر والو “ پہلے ” سَلٰماً “ کہا تھا، اب ” رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ “ کے ساتھ وہ مکمل ہوگیا، اس سے زائد الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ اس وقت فرشتوں کی مخاطب صرف اکیلی سارہ[ تھیں، ان کے لیے فرشتوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان میں سے دو الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں، ایک تو یہ کہ اکیلی عورت کو ” عَلَیْکُم “ جمع مذکر حاضر کے لفظ سے خطاب کیا ہے، حالانکہ وہ مؤنث تھیں۔ دوسرا انھیں ” اَهْلَ الْبَيْتِ “ کہہ کر خطاب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ آدمی کے اہل بیت (گھر والے) اس کی بیوی ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ سلام اور رحمت و برکت کہتے وقت عورتوں کو بھی مذکر کے صیغے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ یہ آیت فیصلہ کن ہے کہ سورة احزاب کی آیت : (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) [ الأحزاب : ٣٣ ] ” اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو اور تمہیں پاک کر دے خوب پاک کرنا۔ “ اس آیت میں اہل بیت کا ذکر کرتے ہوئے پہلے بھی اور بعد میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کا ذکر ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی ” عَنْکُم “ اور ” اَهْلَ الْبَيْتِ “ اور ” یُطَھِّرَکُمْ “ تینوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں مراد ہیں۔ اس کی نفی کرنے والے ایک واضح اور ثابت شدہ حقیقت کی نفی کر رہے ہیں، جس کی وجہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبوب ازواج مطہرات سے بغض و عناد کے سوا کچھ نہیں اور جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیاروں سے بغض رکھے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سے کیسے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔

74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم لوط سے متعلق بحث فرشتوں سے ہوئی تھی، جیسا کہ سورة عنکبوت (٣٢) میں صراحت ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ساتھ جھگڑا فرمایا، کیونکہ فرشتے تو جو کچھ کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کر رہے تھے۔” يُجَادِلُنَا “ مضارع کا صیغہ حکایت حال یعنی اس وقت کی منظر کشی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔

75

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ : اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا، بلکہ نہایت پیار سے ان کا ذکر فرمایا۔

76

يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ

اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا

يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۔۔ : یہ فرشتوں کی بات ہے جو بالآخر انھوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہی کہ اب بحث و تکرار کا کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آجانے کے بعد عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔

77

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ ۔۔ : یہاں سے لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کئی سورتوں میں مختلف انداز سے ذکر ہوا ہے، مثلاً سورة اعراف، حجر، شعراء، نمل، عنکبوت، صافات، ذاریات اور قمر۔ ان سورتوں میں بھی تفسیر دیکھ لیں۔ لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ سے صحیح سلامت باہر نکل آنے پر ان پر ایمان لے آئے تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ ہی شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا اور وادی اردن میں ” سدوم “ نامی بستی اور اس کے گرد و نواح کے لیے مبعوث فرمایا۔ یہ قوم شرک و کفر کے ساتھ ساتھ ایسے فعل بد کی مرتکب تھی جس کا ارتکاب ان سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ بدفعلی کے عادی تھے۔ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا برائی کرنا اور ڈاکے مارنا ان کا عام رویہ تھا۔ دیکھیے سورة عنکبوت (٢٩) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٨٠ تا ٨٣) کی تفسیر۔- سِيْۗءَ بِهِمْ ۔۔ : ” سَاءَہُ یَسُوْءُہُ “ سے ماضی مجہول ہے، غمگین کرنا، برا لگنا۔ یہاں ” سِيْۗءَ “ کا نائب فاعل لوط (علیہ السلام) کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے اور فاعل محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ ” سَاءَ ہُ مَجِیْءُھُمْ “ یعنی ان کے آنے نے اسے مغموم کردیا۔ فعل مجہول کا معنی ہوگا، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا۔ ” وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا “ ” ذَرْعٌ“ اور ” ذِرَاعٌ“ بازو یا جانور کی اگلی ٹانگوں کو کہتے ہیں، اونٹ یا کسی بھی جان دار پر اگر بوجھ نہ ہو تو وہ کھلا قدم اٹھاتا ہے اور اگر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ ہو تو وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھاتا ہے اور وہ بھی بالکل تنگ سا، اس لیے ” ضَاقَ ذَرْعًا “ سے مراد دل تنگ ہونا لیا جاتا ہے۔ لوط (علیہ السلام) کے ان کے آنے کی وجہ سے مغموم ہونے کی وجہ مہمان نوازی میں بخل نہ تھا، نبی سے بڑھ کر کون فراخ دل اور سخی ہوسکتا ہے، بلکہ انھیں اپنی قوم کی عادت بد کا علم تھا۔ ظاہر ہے فرشتے انسانی شکل میں آئے ہوں تو وہ کس قدر خوبصورت ہوں گے۔ لوط (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں، کیونکہ غیب تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور لوط (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی نہیں گئی تھی، اس لیے ان کے دل پر جو گزری، اللہ تعالیٰ نے اس کا کمال نقشہ کھینچا ہے۔ پہلے غم ہوا، پھر اپنی بےبسی پر تنگ دل ہوئے، پھر جس طرح کوئی شخص کوئی لفظ کہہ کر دل کو کچھ نہ کچھ تسلی دیتا ہے، یہ کہا کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔ [ التحریر والتنویر ]

78

وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں

وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ : ” ھَرَعَ “ (ف) کا معنی کسی کو تیزی سے دھکیلنا ہے۔ فعل مجہول کا مطلب یہ ہے کہ جب اس خبیث قوم کو لوط (علیہ السلام) کے گھر ایسے حسینوں کے آنے کی خبر ملی تو وہ ان کی طرف تیزی سے اس طرح بےاختیار دوڑتے ہوئے آئے جیسے کوئی انھیں پیچھے سے دھکیل رہا ہے۔- وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ : فعل مضارع پر ” کَانَ “ آئے تو استمرار اور ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل ہو۔ اس لیے زمخشری نے اس کا معنی کیا ہے : ” وَ مِنْ قَبْلِ ذٰلِکَ الْوَقْتِ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ الْفَوَاحِشَ وَیُکْثِرُوْنَھَا فَضَرَوْا بِھَا وَمَرَنُوْا عَلَیْھَا “ ” اس سے پہلے وہ یہ برے کام کثرت سے کرتے تھے، حتیٰ کہ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔ “ یعنی کوئی آدمی شروع شروع میں ایسا غلیظ فعل کرنے سے کچھ جھجکتا ہے مگر یہ لوگ بےاختیار تیزی سے اس لیے آئے کہ کثرت سے اس فعل بد کے ارتکاب نے ان کی حیا اور جھجک بالکل ختم کردی تھی۔- قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ ۔۔ : جب وہ گھس آئے اور شدت سے مہمانوں کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے تو لوط (علیہ السلام) نے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے اپنی تواضع کی انتہا کردی، کہا یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں ؟ یہاں مفسرین نے بیٹیاں پیش کرنے کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ ” بَنَاتِی “ (بیٹیوں) سے مراد ان لوگوں کی اپنی عورتیں ہیں، کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور قوم کی ساری عورتیں نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں، جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ارشاد ہے : (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ) [ الأحزاب : ٦ ] ” یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ “ یہی تفسیر راجح ہے، گو بعض نے لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں بھی مراد لی ہیں کہ ان سے شادی کرلو۔ (کما فی الموضح) اس تفسیر کے راجح ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں معروف قول کے مطابق صرف دو تھیں، اگر کم و بیش بھی ہوں تو پوری قوم سے تو ان کی شادی نہیں ہوسکتی، اس لیے بیٹیوں سے مراد قوم کی بیٹیاں یعنی ان کی بیویاں ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اپنی ہی بیٹیاں تھیں، مگر نہ انھیں ان کے حوالے کرنا مقصود تھا نہ ان کی ان سے شادی کرنا، بلکہ محض انھیں شرمندہ کرکے اپنے مہمانوں کی عزت بچانا مقصود تھا، کیونکہ وہ بھی جانتے تھے اور قوم بھی کہ اپنی بیٹیاں کوئی کسی کے حوالے نہیں کرتا۔ یہ صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور انھیں شرمندہ کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا تھا کہ لاؤ بچے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں دعویدار عورتوں کو ایک ایک حصہ دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کی مراد ہرگز یہ نہ تھی کہ واقعی بچے کو درمیان سے کاٹ دیاجائے، بلکہ وہ حقیقت اگلوانا چاہتے تھے۔ آیت کے ظاہر الفاظ سے یہ معنی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ - ” هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ “ کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں سے یہ فعل بھی کچھ طہارت رکھتا ہے، مگر عورتیں زیادہ طاہر ہیں، بلکہ یہاں یہ بہت پاکیزہ کے معنوں میں ہے۔

79

قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ ۔۔ : یعنی ہمارا تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں (گویا آنے والے مہمان مردوں سے بدفعلی ان کا پورا حق ہے) ، یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں عورتوں یا بیویوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم جو چاہتے ہیں وہ تجھے معلوم ہی ہے کہ ہم کس بدفعلی کے عادی ہیں، اس لیے تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ ان کے اس جواب سے ان کی خباثت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔

80

قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً ۔۔ : لوط (علیہ السلام) اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں اہل سدوم کی اصلاح کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا، یعنی میرا خاندان یہاں ہوتا تو میں تم سے نمٹ لیتا۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَأْوِيْ إِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ عزو جل : ( و نبءھم عن ضیف إبراہیم ): ٣٣٧٢ ] ” اللہ تعالیٰ لوط پر رحم کرے، یقیناً وہ بہت مضبوط سہارے کی پناہ رکھتے تھے۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھتے تھے جو سب سے مضبوط ہے اور اس وقت ان کے پاس فرشتوں کی شکل میں بھی مضبوط سہارا موجود تھا، اگرچہ انھیں معلوم نہ تھا۔ حافظ ابن حزم (رض) نے ” اَلْفِصَلُ فِی الْمِلَلِ “ میں کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان میں لوط (علیہ السلام) کی شان میں کمی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ اسباب کا مہیا کرنا یا ان کی خواہش کرنا اللہ تعالیٰ پر توکل کے خلاف نہیں ہے۔ لوط (علیہ السلام) یقیناً اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا سمجھتے تھے مگر اس وقت وہ ساتھی مہیا ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس خبیث قوم کا راستہ قوت بازو کے ساتھ روکنے کے خواہش مند تھے۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی لوگوں اور قبیلوں سے کہا کہ کون میری مدد کرتا اور مجھے جگہ دیتا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں۔ آخر کار انصار مدینہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی جان و مال اور اولاد کی طرح آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَار اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ ) [ الصف : ١٤ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے مددگار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ “ اس لیے دنیاوی اسباب مہیا ہونے کی کوشش و خواہش جائز بلکہ مستحب ہے۔ ابوہریرہ (رض) ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ بَعْدَہُ مِنْ نَبِيٍّ اِلَّا فِيْ ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ٤؍١٥٢، ح : ١٦١٧ ] ” پھر لوط (علیہ السلام) کے بعد اللہ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس کی قوم کے کثیر لوگوں میں سے بھیجا۔ “

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.