وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ
اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی
Explained together with ayah 69
سُورَةُ هُودٍ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 71–80 of 123
وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ
اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی
Explained together with ayah 69
قَالَتْ يَٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ
اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
بڑھاپے میں اولاد - قول باری ہے فقالت یویلتیء الدوانا عجوز وھذا بعلی شیخا ً ان ھذا الشی عجیب ۔ وہ بولی ۔ ہائے میری کم بختی کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہوگئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اگرچہ اس بات کا یقین تھا کہ ایسا کردینا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے تا ہم بتقاضائے بشریت وہ اس پر اپنے تعجب کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکیں ۔ انہوں نے اس پر غور و فکر کرنے سے پہلے اپنے فوری ردعمل کا اظہار کردیا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جب لاٹھی نے سانپ کی شکل اختیار کرلی تو فوری ردعمل کے طور پر آپ الٹے پائوں بھاگے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کہا گیا اقبل ولا تخف انک من الامنین آگے آئو اور ڈرو مت ، تم بالکل محفوظ ہو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اس بنا پر تعجب ہوا کہ اس وقت شوہر کی عمر ایک س بیس برس کی تھی اور بیوی یعنی حضرت سارہ کی عمر نوے برس تھی۔
قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ
انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے
ازواج مطہرات اہل بیت میں - قول باری ہے العجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو، ابراہیم کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں ۔ یہ قول باری اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں داخل تھیں اس لیے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو انکے اہل بیت میں شمار کیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے انہیں اہل بیت کے لفظ سے یاد فرمایا، چناچہ ارشاد باری ہے۔ ومن یقیت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا ً نو تھا اجرھا موتین واعتدنا لھا رزقتا ً کریما ً اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری رہے گی اور عمل صالح کرتی رہے گی تو ہم اس کا اجرا دوہرا دیں گے اور ہم نے اس کے لیے ایک مخصوص عمدہ نعمت تیار کر رکھی ہے۔ تا قول باری واطعن اللہ ورسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت اور اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو ، اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اہل بیت کے لفظ میں ازواج مطہرات بھی داخل ہوگئیں اس لیے کہ خطاب کی ابتداء ان سے ہی ہوئی تھی۔
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ
جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے
قوم لوط کی تباہی کا حکم - قول باری ہے فلما ذھب عن ابراہیم الروح و جاء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط ۔ پھر جب ابراہیم کی گھبراہٹ دورہو گئی اور اولاد کی بشارت سے اس کا دل خوش ہوگیا تو اس نے قوط لوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔ یعنی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہوگیا تو وہ فرشتوں سے یہ سن کر کہ انہیں قوم لوط کر ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، ا ن سے جھگڑنے لگے ، اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم قوط لوط کو کیسے ہلاک کرو گے جبکہ وہاں لوط (علیہ السلام) بھی موجود ہیں ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہیں ۔ ہم انہیں یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو بچا لیں گے۔ اس تفسیر کی حسن سے روایت کی گئی ہے ۔ ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے یہ سوال کیا تھا کہ آیا تم انہیں اس صورت میں بھی ہلاک کردو گے جبکہ وہاں پچاس اہل ایمان ہوں گے ؟ فرشتوں نے جواب میں کہا تھا کہ ایسی صورت میں ہم انہیں ہلاک نہیں کریں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے ہوئے پچاس کی تعداد کو دس تک لے آئے اس تعدا د پر بھی فرشتوں نے نفی میں جواب دیا ۔ اس تفسیر کی قتادہ سے روایت کی گئی ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرشتوں سے اس لیے بحث و مباحثہ کرتے رہے تا کہ پتہ چل سکے کہ کس گناہ کی شامت میں قوم لوط مکمل خاتمہ کے عذاب کی مستحق بنی ہے۔ نیز یہ کہ آیا یہ عذاب ان پر لا محالہ آنے ہی والا ہے یا صرف ڈرانے کی ایک صورت ہے جس سے ڈر کر یہ لوگ اللہ کی اطاعت کی طرف مائل ہوجائیں ۔ بعض لوگ اس آیت سے بیان کی تاخیر کے جواز کے حق میں استدلا ل کرتے ہیں اس لیے کہ فرشتوں نے آکر خبر دی تھی کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے والے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس عذاب سے بچ رہنے والے کون سے افراد ہیں جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے بحث کرنے لگے کہ آیا تم انہیں ہلاک کر دو گے جبکہ ان میں فلاں فلاح اہل ایمان موجود ہیں ۔ اس طرح یہ حضرات بیان کی تاخیر کے جواز پر استدلال کرتے ہیں ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بات یہ نہیں ہے بلکہ اصل صورت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے وہ وجہ دریافت کی تھی جس کی بنا پر قوم لوط مکمل استیصال کے عذاب کی سزا وار گردانی گئی تھی نیز یہ کہ آیا یہ عذاب لا محالہ ان پر آنے ہی والا تھا یا صرف ڈراوا تھا جس سے متاثر ہو کر یہ لوگ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی راہ پر آ جاتے۔
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ
بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے
Explained together with ayah 74
يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ
اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا
Explained together with ayah 74
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے
Explained together with ayah 74
وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ
اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں
Explained together with ayah 74
قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو
Explained together with ayah 74
قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ
لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا
Explained together with ayah 74
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.