Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 61–70 of 123

61

۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌۭ مُّجِيبٌۭ

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا : قوم ثمود مقام حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ) میں رہتے تھے۔ یہ جگہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج کل یہ علاقہ مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے، جہاں ابھی تک ان لوگوں کے پہاڑوں کے اندر تراش کر بنائے ہوئے مکانات، جن میں وہ رہتے تھے، موجود ہیں اور یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے۔ صالح (علیہ السلام) کا قبیلہ عرب قبیلہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک (شام) کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وادی) حجر میں تھے تو فرمایا : ( لاَ تَدْخُلُوْا عَلٰی ھٰؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِیْنَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ ، فَإِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ فَلاَ تَدْخُلُوْا عَلَیْہِمْ أَنْ یُّصِیْبَکُمْ مَا أَصَابَھُمْ ) ” ان عذاب دیے ہوئے لوگوں یعنی اصحاب حجر پر مت داخل ہو، مگر ایسی حالت میں کہ تم رونے والے ہو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو ان پر داخل نہ ہونا، کہیں تمہیں بھی اس جیسا عذاب نہ آپہنچے جو ان کو پہنچا تھا۔ “ [ مسند أحمد : ٢؍٥٨، ح : ٥٢٢٤، و صححہ شعیب الأرنؤوط و الألبانی ] قوم ثمود کا قصہ سورة اعراف، شعراء، نحل اور قمر وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ ” اَخَاهُمْ صٰلِحًا “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی قبیلے کے فرد تھے، اس لیے ان کے خیر خواہ، ان کے مزاجوں کو سمجھنے والے اور ان میں مدت تک رہنے والے تھے۔- قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ ۔۔ : ان کی دعوت بھی وہی دعوت توحید تھی جو تمام انبیاء کی دعوت تھی۔ - هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۔۔ : ” اِنْشَاءٌ“ کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ ” ِاسْتَعْمَرَكُمْ “ ” عَمَرَ یَعْمُرُ “ کسی جگہ کو آباد کرنا، سورة روم میں فرمایا : (وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا ) [ الروم : ٩ ] ” اور انھوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا۔ “ ” أَعْمَرَ یُعْمِرُ “ باب افعال کسی شخص کو کسی جگہ میں آباد کرنا۔ ” اِسْتَعْمَرَ “ میں حروف زائد ہیں، یعنی کسی کو کسی جگہ میں خوب آباد کرنا۔ صالح (علیہ السلام) ان الفاظ کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صرف اسی کے معبود برحق ہونے کی دلیل دے رہے ہیں کہ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، زمین کو بھی اسی نے بنایا، تمہاری ضرورت کی ہر چیز زمین سے اسی نے پیدا کی، اپنی زمین پر اس نے تمہیں خوب آباد کیا، پہاڑوں کو تراشنے کی صلاحیت اور عقل عطا فرمائی، نہایت ترقی یافتہ زراعت اور اس کے اسباب، زرخیز زمین اور چشمے عطا فرمائے۔ دیکھیے سورة شعراء (١٤١ تا ١٥٠) اب تک اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کرچکے ہو اس کی معافی مانگ کر اس پر ایمان لے آؤ اور آئندہ کے لیے اس کے ساتھ کفر و شرک سے توبہ کرو۔ ساتھ ہی ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہونے کی امید دلانے کے لیے رب تعالیٰ کی دو صفات بیان کیں کہ وہ ” قریب “ بھی ہے اور ” مجیب “ بھی۔ کوئی اسے پکارے تو اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آہستہ پکارے یا بلند آواز سے، اکیلا پکارے یا مجلس میں، میرا رب قریب بھی ہے اور قبول کرنے والا بھی۔ جب اس کے سوا یہ اوصاف کسی میں بھی نہیں تو کسی اور کی عبادت کیوں ؟

62

قَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّۭا قَبْلَ هَٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ

انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ ۔۔ : یعنی ہم تو تمہاری ذہانت اور عقل مندی سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے تھے۔ کیوں نہ کرتے، نبی نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی زیر نگرانی نہایت امین، صادق، عفیف، باوقار، حلیم اور تمام اوصاف حسنہ سے متصف ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی اس شخص نے جس کے اوصاف حسنہ سب کے نزدیک مانے ہوئے تھے، ان کی خواہش نفس اور جاہلی عقائد و رواج کے خلاف بات کی تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور وہی دانا شخص ان کے نزدیک عقل و فکر سے خالی ٹھہرا اور ان کے پاس کفر و شرک کے درست ہونے کی اور صالح (علیہ السلام) سے امیدیں ٹوٹنے کی دلیل کیا تھی ؟ صرف یہ کہ ہمارے آبا و اجداد جن کی عبادت کرتے تھے، یہ ان کی عبادت سے منع کرتا ہے۔ تمام گمراہ اقوام کی دلیل یہی تقلید رہی ہے، کیونکہ یہ بلا نہ کسی کی بات سننے دیتی ہے، خواہ کتنی صحیح ہو اور نہ خود سوچنے سمجھنے کی طرف آنے دیتی ہے۔ دیکھیے سورة ملک (١٠) ۔- وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ : ” شک “ ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ ” مُرِيْبٍ “ ” أَرَابَ یُرِیْبُ إِرَابَۃً “ ( رَیْبٌ سے باب افعال ) بےچین کردینا، بےقرار رکھنا۔ ” مُرِيْبٍ “ بےچین رکھنے والا۔ یہاں انھوں نے اپنی حقیقی حالت بیان کی ہے۔ صالح (علیہ السلام) کی دلیل اور حجت پر مبنی دعوت نے ان کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی تھی اور اگرچہ انھوں نے اسے نہیں مانا مگر اس دعوت نے انھیں اپنے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا کردیا تھا۔ اگر تقلید آباء کی شامت نہ ہوتی تو وہ لوگ چند لمحوں میں ہر طرح کے شک اور بےچینی سے نکل کر ایمان و یقین کی ٹھنڈک اور اطمینان سے سرفراز ہوچکے ہوتے۔ مگر دیکھیے کتنی بڑی حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی تھی، مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔

63

قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةًۭ فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍۢ

صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ ۔۔ : اس کی تفسیر ان آیات سے پہلے ہود (علیہ السلام) کے قصے میں دیکھیے۔ ” مِنْهُ رَحْمَةً “ سے مراد نبوت ہے۔ - اِنْ عَصَيْتُهٗ : یعنی اگر میں تم تک اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں تو اس کی گرفت سے مجھے کون چھڑائے گا ؟- غَيْرَ تَخْسِيْرٍ : یعنی اگر میں توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ تم مجھے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور بھی بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس بات پر مجھے دوہری سزا دے گا کہ میں نے تمہارے کہنے پر جان بوجھ کر شرک کا راستہ اختیار کیا۔ ” خَسِرَ یَخْسَرُ خُسْرَانًا “ (ع) خسارہ اٹھانا اور ” خَسَّرَ یُخَسِّرُ تَخْسِیْرًا “ (تفعیل) خسارہ پہنچانا۔

64

وَيَٰقَوْمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌۭ قَرِيبٌۭ

اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا

وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ : اس اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، ورنہ ہر اونٹنی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ قرآن مجید میں اس کے اوصاف یہ آئے ہیں کہ قوم ثمود کے معجزہ طلب کرنے پر صالح (علیہ السلام) کو یہ اونٹنی ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ان کے کنویں کا پانی پینے کی باری مقرر کی گئی کہ ایک دن صرف وہ پیے گی اور ایک دن دوسرے تمام لوگوں کے جانور پانی پییں گے۔ اپنی باری کے دن لوگ جتنا پانی چاہیں نکال کر رکھ لیں، مگر اونٹنی کی باری کے دن صرف وہی پیے گی۔ دیکھیے سورة شعراء (١٥٤ تا ١٥٦) وہ جہاں چاہے چرے، کوئی شخص اسے اپنے کھیت سے یا کسی بھی جگہ سے چرنے سے نہیں روکے گا اور یہ کہ اگر کسی نے اسے کوئی نقصان پہنچایا تو انھیں قریب ہی عذاب عظیم آپکڑے گا۔ (آیت زیر تفسیر) یہاں ” عَذَابٌ قَرِيْبٌ“ ہے جبکہ سورة شعراء (١٥٦) میں ” عَذَابٌ یَوْمٍ عَظِیْمْ “ ہے۔ - لَكُمْ اٰيَةً : اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ ایک پورا دن اس کے پینے کے لیے باری مقرر کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ عام اونٹنی نہ تھی، مگر وہ کیسے وجود میں آئی ؟ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر مجھے نہیں ملا۔ بہت سی تفاسیر کے مطالعے کے بعد کم ازکم میری تسلی تو شیخ عبد الرحمن بن ناصر بن سعدی (رض) کی تفسیر ” تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان “ کے کلام سے ہوئی، جو انھوں نے سورة اعراف میں قوم ثمود کی اونٹنی کے متعلق فرمایا ہے، چناچہ وہ لکھتے ہیں : ” جان لو کہ اکثر مفسرین یہ قصہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے نکلی، جس طرح کی اونٹنی نکالنے کا انھوں نے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حاملہ ہو اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے حاملہ اونٹنی کی صورت میں نکلی۔ اسے حاملہ اونٹنیوں کی طرح ولادت کا درد ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کا ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔ جس وقت انھوں نے اونٹنی کو کاٹا تو وہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین دفعہ اونٹ کی طرح بلبلایا، چناچہ پہاڑ پھٹا اور وہ اس میں غائب ہوگیا اور یہ کہ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تمہیں جو تین دن ملے ہیں ان میں سے پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ انھوں نے فرمایا تھا۔ “ شیخ سعدی (رض) فرماتے ہیں : ” یہ تمام باتیں اسرائیلیات سے ہیں، جنھیں اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں اور قرآن مجید میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان باتوں میں سے کسی ایک پر کسی طرح دلالت کرتی ہو، بلکہ اگر یہ باتیں صحیح ہوتیں تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور ذکر فرماتا، کیونکہ ان میں ایسی عجیب باتیں، عبرتیں اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر ساتھ ہی ہونا تھا۔ اب اگر یہ ایسے لوگوں کی طرف سے آئیں جن پر اعتماد ہو ہی نہیں سکتا تو کیسے قبول ہوسکتی ہیں ؟ بلکہ ان میں سے بعض تو قرآن مجید کی تصریحات ہی سے درست معلوم نہیں ہوتی ہیں، مثلاً صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے پر ان سے فرمایا : (تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ) تمتع خوب فائدہ اور لذت اٹھانے کو کہتے ہیں۔ وہ لوگ صالح (علیہ السلام) کو اور عذاب آنے کو جھٹلا رہے تھے بلکہ بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے تھے، اگر ان کے چہرے ہی زرد، سرخ اور سیاہ ہوگئے ہوں تو انھیں تین دن خوب فائدہ اور لذت اٹھانے کی مہلت کیا خاک ملی۔ یہ قرآن کے صاف خلاف نہیں تو کیا ہے ؟ ہدایت کے لیے تو قرآن کافی ہے، ہاں، اگر کوئی بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہو، تو وہ کتاب اللہ سے نہیں ٹکرائے گی، وہ سر آنکھوں پر اور اسے ماننے کا قرآن نے حکم دیا ہے : (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ) [ الحشر : ٧ ] ” اور رسول تمہیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو رک جاؤ۔ “ اور …

65

فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍۢ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍۢ

مگر انہوں نے اس کی کانچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تم تین دن (اور) فائدہ اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا

Explained together with ayah 64

66

فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَٰلِحًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) ۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے

ان آیات کی تفسیر سورة اعراف کی آیات (٧٧ تا ٧٩) میں اور سورة ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ” کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا “ ” غَنِیَ یَغْنٰی “ (ع ) ” فِیْ مَکَانٍ کَذَا “ جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔” مَغْنَی “ مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)

67

وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

Explained together with ayah 66

68

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّثَمُودَ

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

Explained together with ayah 66

69

وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوا۟ سَلَٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَٰمٌۭ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍۢ

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابراہیم) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰي : ” رُسُلُنَآ “ ہمارے بھیجے ہوئے سے مراد فرشتے ہیں جو انسانی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے اور پوتے اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ ان کی تعداد بعض نے تین بیان کی، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل، بعض نے نو (٩) اور بعض نے تیرہ (١٣) ، مگر قرآن و سنت سے ان کی تعداد کا ذکر ہمیں نہیں ملا۔ سورة حجر (٤٩، ٥٠) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے غفور و رحیم ہونے اور اپنے عذاب کے عذاب الیم ہونے کی خبر دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے یہ واقعات ذکر فرمائے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کی ایک ہی جماعت ایک کے لیے خوش خبری اور دوسری قوم کے لیے عذاب لے کر آئی تھی۔ چناچہ ان کے آنے سے اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات کا اظہار ہوا تھا۔ یہاں ان فرشتوں کے آنے کو ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خوش خبری لانے والے فرمایا ہے، کیونکہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیٹے اور پوتے کی خبر خوش خبری ہے تو لوط (علیہ السلام) کی ملعون قوم کی بربادی کی خبر بھی ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) دونوں کے لیے خوش خبری ہے، البتہ قوم لوط کے لیے بری خبر ہے۔ - قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ : پہلا ” سَلٰمًا “ منصوب ہے، یہ جملہ فعلیہ ہے : ” نُسَلِّمُ سَلاَمًا “ ” ہم سلام کہتے ہیں۔ “ دوسرا ” سَلٰمٌ“ مرفوع ہے، یعنی ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ ” تم پر سلام ہو۔ “ معلوم ہوا کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جس میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنے کا حکم ہے۔ دیکھیے سورة نور (٢٧) بلکہ ابن عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا ہے : ( اَلسَّلَامُ قَبْلَ السُّؤَالِ فَمَنْ بَدَأَکُمْ بالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ١؍٤٥٨، ح : ٨١٦ ] ” سلام سوال سے پہلے ہے، جو تم سے سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب مت دو ۔ “ اور ایک روایت میں فرمایا : ( مَنْ بَدَأَ بالْکَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ ) [ صحیح الجامع : ٦١٢٢ ] ” جو سلام سے پہلے بات کرے اسے جواب مت دو ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہتر جواب دیا جو سورة نساء (٨٦) میں ہے، کیونکہ جملہ فعلیہ کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ میں استمرار یعنی ہمیشگی پائی جاتی ہے، یعنی تم پر ہمیشہ سلامتی ہو۔ ” سَلٰمًا “ کے جواب میں ” َسلٰمٌ‘ بہتر جواب ہے۔ - فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ : اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ فرشتے انسانی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ معروف حدیث جبریل (علیہ السلام) میں فرشتے کا ایک اعرابی کی شکل میں آنا بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [ بخاری : ٤٧٧٧۔ مسلم : ٨] دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) اولو العزم پیغمبر ہو کر بھی مہمانوں کو پہچان نہ سکے، ورنہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کرتے، کیونکہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) علم غیب نہیں رکھتے تھے تو پھر ان لوگوں کی کیا اوقات ہے جو نہ نبی ہیں اور نہ ان کے اصلی حالات اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کیا حیثیت ہے ؟ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بیحد مہمان نواز تھے۔ یہ وصف ہر نبی خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہت پایا جاتا تھا۔ ہماری ماں خدیجہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی وحی کے موقع پر آپ کے اوصاف میں اس وصف کا خصوصی ذکر فرمایا : ( وَتَقْرِی الضَّیْفَ ) [ بخاری : ٣ ] ” آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہ حال تھا …

70

فَلَمَّا رَءَآ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۚ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍۢ

جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف کھانا پیش ہی نہیں کیا بلکہ انھیں کھانے کے لیے اصرار بھی کیا : (قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ ) [ الذاریات : ٢٧ ] ” فرمایا کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ “ پھر بھی جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔ ” خِيْفَةً “ کی تنوین کی وجہ سے ” ایک قسم کا خوف “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ خوف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول نہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے، یا یہ بھی ہوسکتا ہے اور شاید یہی زیادہ موقع کے مناسب ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ (شوکانی) فرشتوں نے ان کے خوف کو بھانپ لیا، بلکہ سورة حجر (٥٢) میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے صاف کہہ دیا : ( اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ ) ” ہم تو تم سے خوف زدہ ہیں۔ “- قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ : فرشتوں نے کہا، آپ مت ڈریں، ہمیں (آپ کی بستی پر نہیں بلکہ) لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس سے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے عالم الغیب ہونے کی اور ان کے کائنات پر اختیار رکھنے کی صاف نفی ہو رہی ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.