Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 123

41

۞ وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا : ” ارْكَبُوْا فِيْهَا “ عام طور پر سوار ہونے کے لیے ” رَکِبَ عَلَیْہِ “ آتا ہے، یہاں ” اِرْکَبُوْا عَلَیْھَا “ کی جگہ ” ارْكَبُوْا فِيْهَا “ اس لیے فرمایا کہ کشتی میں کمرے کی طرح داخل ہو کر بیٹھا جاتا ہے، جب کہ گھوڑے وغیرہ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی صرف تختے نہیں تھے جن کے اوپر وہ سوار ہوئے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے والی وہ کشتی بہترین کمروں، آرام دہ سیٹوں اور کئی منزلوں والی تھی، جن میں وہ سوار ہوئے۔ ” مَجْرَی “ ” جَرَی یَجْرِیْ “ (ض) سے مصدر میمی ہے، یعنی چلنا۔ بعض قراء نے اس میں امالہ کیا ہے، یعنی الف کو یاء کی طرف اور فتحہ کو کسرہ کی طرف مائل کرکے پڑھتے ہیں۔ ” مُرْسَی “ یہ باب افعال ” اَرْسَی یُرْسِیْ “ ( ر س و) سے مصدر میمی ہے، یعنی اس کا ٹھہرنا۔ کشتی میں سوار ہوتے وقت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا پڑھی، اس لیے کشتی میں سوار ہوتے وقت یہ دعا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة مومنون میں وہ دعا بھی مذکور ہے جو کشتی پر سوار ہو کر آرام سے بیٹھ جانے پر پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا : (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ) اور (رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ ) [ المؤمنون : ٢٨، ٢٩ ] سورة زخرف میں کشتی ہو یا کوئی بھی سواری، اس پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے : (سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ 13؀ۙوَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ) [ الزخرف : ١٣، ١٤ ] ” پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے تابع کردیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ “ صحیح مسلم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اونٹ پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کی حدیث موجود ہے، اس میں مزید الفاظ بھی ہیں۔ [ دیکھیے مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ متوجھا۔۔ : ١٣٤٢، عن ابن عمر ]- اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : مطلب یہ ہے کہ ہم سب جو کشتی میں سوار ہو کر عذاب سے بچے ہیں، اس لیے نہیں بچے کہ ہم گناہوں سے یکسر پاک ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا رب غفور و رحیم ہے۔ ایمان لانے کی وجہ سے اس نے ہماری لغزشوں سے درگزر فرما کر ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔

42

وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍۢ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍۢ يَٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ : پہاڑوں جیسی موجوں سے طوفان کے پانی کی وسعت، اس کی طغیانی اور جوش و غضب کے اندازے کے ساتھ کشتی کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ - وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ ۔۔ : باپ کی شفقت دیکھیے کتنے پیار سے ” یبنی “ (اے میرے چھوٹے سے بیٹے یا اے میرے پیارے بیٹے) کہہ کر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔- وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس بیٹے کی بربادی کا باعث کافروں کی مجلس اور ان کے ساتھ رہنا تھا، اگر وہ نوح (علیہ السلام) کی صحبت میں رہتا تو کفار کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اتنے بڑے سیلاب کے وقت بھی وہ غرق ہوگیا مگر اس نے نوح (علیہ السلام) کے پاس آنا گوارا نہیں کیا۔ شیخ سعدی لکھتے ہیں ؂- پسر نوح بابداں بہ نشست - خاندان نبوتش گم شدہ - ” نوح (علیہ السلام) کا بیٹا بروں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے نبوت کا خاندان ہی گم ہوگیا (وہ خاندان نبوت کا فرد ہی نہ رہا) ۔ “

43

قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍۢ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا

قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : معلوم ہوا کہ مشرک کی نظر اسباب تک ہی رہتی ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اسباب کے پیدا کرنے والے کی طرف نہیں جاتی۔ ” مجھے پہاڑ پانی سے بچا لے گا “ کم عقل ایک بےاختیار پہاڑ کو بچانے والا سمجھ رہا ہے۔ - قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : اس کا جو ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں کچھ الفاظ محذوف شامل کیے جائیں تو مطلب درست ہوتا ہے، یعنی ” آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے (وہی بچے گا) ۔ “ بعض حضرات نے فرمایا کہ فاعل کا وزن بعض اوقات نسبت کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ ” لَابِنٌ“ لبن (دودھ) والا اور ” تَامِرٌ“ تمر (کھجور) والا، اسی طرح یہاں ” عَاصِمَ “ نسبت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی آج بچاؤ رکھنے والا کوئی نہیں، مگر جس پر وہ (اللہ) رحم کرے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں : ” یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، مگر جو رحم کرنے والا ہے (یعنی خود اللہ تعالیٰ ) ۔ “ آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی اقویٰ (زیادہ مضبوط) ہے، کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لیے آتا ہے، نسبت کے لیے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح المعانی)- وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کی بات جاری تھی کہ پانی کی موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا، جو غرق کیے جا چکے تھے۔ اس سے ایک تو اس موج کی غیرت ایمانی ظاہر ہو رہی ہے کہ وہ موحد باپ کے سامنے مشرک بیٹے کی بک بک کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کرسکی، دوسرا یہ کہ آخرت میں آدمی انھی کا ساتھی ہوگا جن کا وہ دنیا میں ساتھی تھا۔ ” فَغَرِقَ “ (پس وہ غرق ہوگیا) اور ” فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ “ (پس وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہوگیا) دونوں میں یہی فرق ہے، اس لیے اپنے بچوں کو جس قدر ہو سکے بری صحبت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

44

وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت

وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ ۔۔ : ” بَلَعَ یَبْلَعُ “ (ف) نگلنے کو کہتے ہیں اور انسان یا کوئی بھی جانور عموماً پورا لقمہ اکٹھا ہی نگلتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ زمین نے پانی آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ لقمے کی طرح اپنے اندر نگل لیا تھا۔ ادھر آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا، چناچہ بارش رک گئی۔ سارا پانی زمین کے نیچے اتار دیا گیا اور تمام مشرکوں کو نیست و نابود کرنے کا کام، جس کے لیے طوفان آیا تھا، پورا ہوگیا۔ - وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ : جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں (جسے کردستان کہتے ہیں) موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں نوح (علیہ السلام) کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ” ارارات “ بتائی گئی ہے، جو ارمینیا کے پہاڑی سلسلے کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحوں نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کیے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہی کے تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی، جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ - وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ” بُعْدًا “ کا لفظ دوری، ہلاکت اور لعنت کے معنی میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ سب ظالم ہلاک کردیے گئے۔ بائبل (پیدائش : ١٨ : ٢٤) کے بیان پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا، مگر بعض علماء کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ آبادی ہی نہ ہو۔

45

وَنَادَىٰ نُوحٌۭ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِى وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ ٱلْحَٰكِمِينَ

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے

وَنَادٰي نُوْحٌ رَّبَّهٗ ۔۔ : تمام کفار کے غرق ہونے کے بعد باپ کی شفقت نے جوش مارا تو نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کے بارے میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ نوح (علیہ السلام) کے اہل کو بچانے کا تھا، اس وعدے کے حوالے سے درخواست کی۔ وہ اہل سے نسبی اور رشتہ داری کے گھر والے سمجھ بیٹھے، جب کہ کافر اور مومن کے درمیان دوستی کا رشتہ باقی نہیں رہتا۔ ایمان لانے کے بعد سب مومن دوست اور سب کافر دشمن بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة ممتحنہ (٤) بہرحال نوح (علیہ السلام) نے ادب ملحوظ رکھا اور صریح الفاظ میں بیٹے کو بچانے کی بات نہیں کی۔

46

قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْرُ صَٰلِحٍۢ ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۖ إِنِّىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : فرمایا اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں، بلکہ ” اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ “ کے تحت کفر کی وجہ سے تمہارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہوچکا ہے۔

ِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ : عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ” اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔ “ یہ معنی اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ ” عمل “ مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل ( عَامِلٌ ) کے معنی میں مانا جائے، جیسے : ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ کو ” زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری (رض) کے مطابق ” عَمَلٌ“ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی دعا کی طر ف جاتی ہے کہ آپ نے اپنے مشرک بیٹے کے حق میں جو سفارش کی ہے، یہ کام اچھا نہیں ہے۔ - فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوال تو اسی چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو، جس چیز کا علم ہو اس کے سوال کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے دو جواب ہیں، دراصل عربی میں سوال کا لفظ مانگنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوچھنے کے بارے میں بھی۔ سو پہلا جو اب یہ ہے کہ صرف وہی چیز مانگنی چاہیے جس کے متعلق اچھی طرح معلوم ہو کہ جس سے مانگ رہے ہیں وہ یہ چیز مانگنے پر ناراض نہیں ہوگا۔ جس کے متعلق یہ علم نہ ہو بلکہ اس کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ ہو، وہ ہرگز نہیں مانگنی چاہیے۔ اب نوح (علیہ السلام) کے سامنے اللہ تعالیٰ کے وہ فرمان موجود تھے : (وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِیْ الَّذِیْنَ ظَلَمْوْا) اور (وَ اَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) پھر بھی انھیں اس کا علم نہیں ہوسکا کہ اس درخواست پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی درخواست کا جواب تو ” اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ “ کہہ کر دے دیا تھا، اب اس سے آگے امکان تھا کہ نوح (علیہ السلام) بیٹے کے نجات نہ پانے اور کفر پر مستحکم رہنے کے متعلق سوال کرتے کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس سے روک دیا کہ میری حکمتوں تک تمہارے علم کی رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے مجھ سے ایسی بات مت پوچھنا۔ (الوسیط للطنطاوی) یعنی پوچھنی بھی وہی بات چاہیے جس کے متعلق علم ہو کہ جس سے پوچھ رہے ہیں وہ اس سوال پر ناراض نہیں ہوگا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو، لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھے پوچھنے کی، پھر پوچھے۔ “ (موضح)- اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر ایسا سوال کرو گے تو جاہل بن کر رہ جاؤ گے۔ (روح المعانی)

47

قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌۭ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِى وَتَرْحَمْنِىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا

قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ ۔۔ : نوح (علیہ السلام) شاید پدری محبت کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا چاہے کافر ہو، گھر والوں میں شامل ہے اور اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے، لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی مانگی۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” نوح (علیہ السلام) نے توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے، بندے کو کیا مقدور ہے اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر یہ نہ ہو۔ “ (موضح)

48

قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٰمٍۢ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌۭ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا

قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيْكَ : یعنی ہماری طرف سے اپنے آپ پر اور اپنے ساتھ والے لوگوں پر سلامتی اور بیشمار برکتیں لے کر کشتی سے زمین پر اترو۔- وَعَلٰٓي اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ : یعنی ان تمام مومنوں پر جو قیامت تک تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں کی نسل سے پیدا ہوں گے، لیکن ان ساتھ والوں سے نسل صرف نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کی چلی، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ ) [ الصافآت : ٧٧ ] ” اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنادیا۔ “- وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ ۔۔ : حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ اس کے بعد ساری نوع انسانیت پر ہلاکت نہیں آئے گی، ہاں بعض فرقے ہلاک ہوں گے۔ (موضح) ہلاک ہونے والے فرقوں سے مراد وہ تمام کافر ہیں جو نوح (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئے یا قیامت تک پیدا ہوں گے۔

49

تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَٱصْبِرْ ۖ إِنَّ ٱلْعَٰقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شروع ہی سے سب کچھ نہیں جانتے تھے، نہ آپ غیب دان تھے، ورنہ وحی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بعض لوگ ان تمام آیات کی تاویل کرتے ہیں جن میں ہے کہ اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں، ہم آپ کو سنا رہے ہیں، آپ نہ اس وقت وہاں تھے نہ آپ کو یہ باتیں معلوم تھیں، یہ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائی ہیں۔ جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی عالم الغیب کہتے ہیں وہ اس قسم کی آیات ” یہ غیب کی خبریں ہیں، اس سے پہلے آپ ان کو نہیں جانتے تھے “ کی تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خطاب دراصل امت کے لوگوں کو ہے کہ اے امت محمد کے لوگو تم یہ باتیں نہیں جانتے تھے، مگر ہماری اس زیر تفسیر آیت نے ان لوگوں کی اس تحریف کو واضح طور پر باطل ثابت کردیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔ “ معلوم ہوا کہ ان تمام آیات سے بھی یہی مراد ہے کہ صرف قوم ہی نہیں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی غیب دان نہیں تھے۔ اگر غیب دان مانیں تو بار بار وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اسی طرح نوح (علیہ السلام) کا سارا واقعہ ان کے غیب دان ہونے کی نفی کرتا ہے، ورنہ اگر انھیں پہلے ہی سب کچھ معلوم تھا تو ساڑھے نو سو سال کی محنت، اس دوران میں قوم کی بدتمیزیوں پر صبر، پھر وحی کے مطابق کشتی بنانا، پھر بیٹے کے حق میں دعا کرنا، اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا اور نوح (علیہ السلام) کا معافی مانگنا سب کچھ افسانہ ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح اگر ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ آگ مجھے نہیں جلائے گی، اسماعیل (علیہ السلام) ذبح نہیں ہوں گے، یا سارہ[ کا کچھ نہیں بگڑے گا تو پھر ان کی جان و مال اور اولاد و آبرو اللہ کی راہ میں قربان کردینے کی بات بےمعنی ٹھہرتی ہے۔ بدر کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آہ وزاری اور افک یعنی عائشہ (رض) پر بہتان کے موقع پر پریشانی کا کچھ مطلب نہیں بنتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ رسولوں کو اتنی بات ہی معلوم ہوتی ہے جو وحی کے ذریعے سے انھیں بتائی جاتی ہے۔- فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ : ” عَاقِبَۃٌ“ ایک حالت کے بعد آنے والی حالت، اس پر الف لام آئے تو عموماً اچھا انجام مراد ہوتا ہے، یعنی جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا انجام بخیر رہا اور ان کے تمام مخالفین ہلاک کردیے گئے، اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انجام بھی دنیا و آخرت دونوں میں بہتر رہے گا اور آپ کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں دوزخ کی آگ نصیب ہوگی۔ مسلمانوں کی تعداد کا کم ہونا اور مدت دراز تک اسلام کی دعوت کا کامیاب نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ دعوت ناکام ہے، بلکہ مسلسل صبر اور دعوت کے نتیجے میں آخری کامیابی اہل اسلام ہی کو ملے گی، خواہ کچھ نسلیں گزرنے کے بعد ملے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے لاتعداد لشکر ہیں، مثلاً آگ، ہوا، پانی، پہاڑ اور بیشمار مخلوق۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو بھی اشارہ کر دے تو کافروں کا نام و نشان باقی نہیں رہ سکتا۔ کافر یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان ہمیشہ مغلوب و مقہور ہی رہیں گے، بلکہ مسلمان اگر صبر و استقامت سے کام لیں اور اپنی ہر مصیبت اور بےبسی کو صرف اللہ کریم کے سامنے پیش کرتے رہیں، جیسا کہ نوح (علیہ السلام) نے کہا : (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) [ القمر : ١٠ ] ” بیشک میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔ “ تو خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو، جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کی ساڑھے نو سو سال کی دعوت کا حاصل بہت ہی کم آدمی بارہ (١٢) یا چالیس (٤٠) یا اسّی (٨٠) آدمی نکلے، مگر نوح (علیہ السلام) اور اہل ایمان کی محنت ناکام نہیں …

50

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ ۔۔ : ” هُوْدًا “ عطف بیان ہے ” اَخَاهُمْ “ سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٦٥) اے مشرکو اے کافرو کے بجائے ” يٰقَوْمِ “ (اے میری قوم ) سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ - اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ : ” مُفْتَرُوْنَ “ ” فَرَیْ “ سے باب افتعال (اِفْتِرَاءٌ) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمہارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.