Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 123

31

وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌۭ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّىٓ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں

Explained together with ayah 15

32

قَالُوا۟ يَٰنُوحُ قَدْ جَٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا تو کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا۔ لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لا نازل کرو

Explained together with ayah 15

33

قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے

Explained together with ayah 15

34

وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِىٓ إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ ۚ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے

قول باری ہے ولا ینفعکم نصحی ان اردتا انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ۔ اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو ۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جملہ شرطیہ میں شرط اور جزاء کے درمیان آ جانے والی شرط کا یہ حکم ہے کہ وہ معنی کے لحاظ سے اپنے ما قبل پر مقدم ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہتا ہے ۔ ان دخلت الدار ان کلمت زیدا ً فعبدی حر ۔ اگر میں گھر میں داخل ہوجائوں ، اگر زید سے کلام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ شخص اس وقت حانث ہوگا جب زید سے کلام کرے گا اور پھر گھر میں داخل ہوگا اس لیے کہ اس کا قول ان کلمت زیدا ً ۔ پہلی شرط کے درمیان آ جانے والی شرط ہے اور یہ جواب شرط یعنی جزا کی تکمیل سے پہلے ہی آ گئی ہے۔ اسی طرح قول باری ان کان اللہ یرید ان یغویکم شرط ہے جو قول باری ان اردت ان انصح لکم اور اس کی جزاء کے درمیان میں آ گئی ہے جبکہ ابھی جواب شرط کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح عبارت کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگئی ہے۔ ولا ینفع لکم فصحی ان کان اللہ یرید ان یغویکم ان اردت ان انصح لکم اس مفہوم کے بارے میں امام ابو یوسف ، امام محمد اور فراء نحوی کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلاف رائے ہے جن کا ہم نے جامع صغیر کی شرح میں تذکرہ کیا ہے۔ قول باری یرید ان یغویکم کا مفہوم ہے اگر اللہ تمہیں اپنی رحمت سے محروم کرنا چاہیے۔ کہا جاتا ہے۔ غوی یغوی غیا گمراہ ہوگیا محروم ہوگیا ۔ اسی معنی میں یہ قول باری ہے فسوف فلقون غیا ۔ سو وہ عنقریب خرابی سے دو چار ہوں گے۔ شاعر کا قول ہے۔- ؎ فمن یلق خیرا یحمد الناس امرہ ومن یغولا یعد م علی الخی لائما ً- جو شخص کس سے نیکی اور حسن سلوک دیکھے گا وہ لوگوں کے سامنے اس کی تعریفیں کرے گا اور جو شخص گمراہی اختیارکرے گا تو اسے اپنی اس گمراہی پر کوئی نہ کوئی ملامت کرنے والا مل ہی جائے گا ۔- ہمیں ثعلب کے غلام ابوعمرو نے ثعلب سے اور انہوں نے ابن الاعرابی سے یہ بیان کیا کہ کہا جاتا ہے غوی الرجل یغوی غیا ( فلاں شخص کا معاملہ خراب ہوگیا ، یا فلاں شخص نے اپنا معاملہ خود خراب کرلیا) انہوں نے مزید کہا کہ اس معنی میں یہ قول باری ہے جس کا تعلق حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ سے ہے۔ وعصی ادم ربہ فغوی اور آدم سے اپنے پروردگار کا قصور ہوگیا سو وہ غلطی میں پڑے گئے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کے لیے ان کی جنت والی زندگی خراب ہوگئی ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ مفہوم بھی پہلے معنی کی طرف راجع ہے وہ اس طرح کہ خیبت یعنی ناکامی کے اندر بھی زندگی خراب اور بگڑ جاتی ہے اس لیے قول باری یغویکم کا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں اپنی رحمت سے محروم کر کے تمہاری زندگی اور تمہارا معاملہ خراب کردے۔

35

أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں

Explained together with ayah 34

36

وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ

Explained together with ayah 34

37

وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے

قول باری ہے واصنع الفلک با عیننا ودحینا اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو یعنی اس طریقے سے کہ وہ ہماری نظروں میں ہو گویا وہ آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہو، یہ اسلوب بیان مبالغہ پر محمول ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کشتی ہماری نگرانی امورحفاظت میں بنائو ایسی ذات کی حفاظت میں جو تمہیں دیکھ بھی رہی ہو اور تم سے مضرت کو دور کرنے کی بھی مالک ہو۔ ایک قول کے مطابق ہمارے اولیاء یعنی ان فرشتوں کی نگرانی میں کشتی تیار کرو جنہیں تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ قول باری ووحینا کا مفہوم ہے کہ ہم نے اس کشتی کی خصوصیت اور کیفیت کے بارے تمہیں جو وحی بھیجی ہے اس کے مطابق اس کے مطابق اسے تیار کرو۔ یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ ہماری اس وحی کے تحت کشتی تیار کرو۔

38

وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ

تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے

قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔

39

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌ

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

Explained together with ayah 38

40

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ ۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌۭ

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے

Explained together with ayah 38

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.