إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ
ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے
No commentary on this ayah in this edition.
سُورَةُ هُودٍ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 11–20 of 123
إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ
ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے
No commentary on this ayah in this edition.
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ وَضَآئِقٌۢ بِهِۦ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ
شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے
No commentary on this ayah in this edition.
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْرِ سُوَرٍۢ مِّثْلِهِۦ مُفْتَرَيَٰتٍۢ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور خدا کے سوا جس جس کو بلاسکتے ہو، بلا بھی لو
No commentary on this ayah in this edition.
فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلْمِ ٱللَّهِ وَأَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے
No commentary on this ayah in this edition.
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَٰلَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت - قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہوتا ہے ہم اس کو کھیتی میں اور اضافہ کرتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا طلب ہوتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی انہی معنوں میں روایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا بشرا متی بالسناء والمتمکن فی الارض فمن عمل منھم عملا ً للدنیا لم یکن لہ فی الاخرۃ نصیب ۔ میری امت کو اس دنیا میں چمک اٹھنے اور غلبہ پانے کی بشارت ہو ، ان میں سے جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔- یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ایسا عمل جو صرف تقرب الٰہی اور عبادت کے طور پر سر انجام دیا جاتا ہے اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے اس لیے کہ اجرت دنیا کا حصہ اور اس سے تعلق رکھنے والا فائدہ ہے، اس بنا پر اگر اجرت لے لی جائے گی تو وہ عمل تقرب الٰہی اور عبادت کے دائرہ سے نکل جائے گا کتاب و سنت کا یہی مقتضی ہے ۔ قول باری توف الیھم اعمالھم کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے۔ اول یہ کہ اگر کوئی کافر صلہ رحمی کرتا ہے یا کسی سائل کو کچھ دے دیتا ہے یا کسی مصیبت زدہ پر ترس رکھاتا ہے یا اسی قسم کا کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کے عمل کا بدلہ اسے دے دیتا ہے ۔ بدلے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے رزق میں وسعت پیدا کردی جاتی ہے ، دنیاوی نعمتوں سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے یا دنیاوی مصیبتیں اس سے دور کردی جاتی ہیں ۔ مجاہد اور ضحاک سے یہ تفسیر مروی ہے۔ - دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مال غنیمت میں حصہ لینے کی خاطر جنگ میں شریک ہوگا ۔ آخرت کا ثواب اس کے مد نظر نہیں ہوگا وہ مال غنیمت میں اپنے حصے کا مستحق قرار پائے گا اور اسے اس کا حصہ مل جائے گا ، اس صورت میں آیت منافقین کی کیفیت بیان کرے گی ۔ اگر یہ دوسری تاویل اختیار کی جائے تو پھر آیت کی اس بات پر دلالت ہوگئی کہ کافر اگر مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ میں شریک ہوگا تو اسے مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا ، نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ کافروں کے خلاف جنگ میں کافروں سے مدد لینا جائز ہے ۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے اس لیے کہ غلبہ حاصل ہونے کی صورت میں اسلام کا حکم ان پر غالب ہوگا، کفر کا حکم غالب نہیں آئے گا ، اس لیے اگر یہ لوگ جنگ میں شریک ہوں گے تو مال غنیمت میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دیا جائے گا تا ہم آیت میں ایسی کوئی دلالت موجود نہیں ہے کہ جنگ میں شریک ہو کر ایک کافر جس بدلے کا مستحق ہوگا وہ مال غنیمت کا ایک سہم یعنی مجاہدین کو ملنے والے حصوں کی طرح ایک حصہ ہوگا یا تھوڑا بہت مال ہوگا ۔
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا۟ فِيهَا وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع
Explained together with ayah 15
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌۭ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةً ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥ ۚ فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
Explained together with ayah 15
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ ٱلْأَشْهَٰدُ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے
Explained together with ayah 15
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ
جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں
Explained together with ayah 15
أُو۟لَٰٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ
یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے
Explained together with ayah 15
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.