Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 111–120 of 123

111

وَإِنَّ كُلًّۭا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

Explained together with ayah 87

112

فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 87

113

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی

ظالم کے ساتھ الفت کی ممانعت - قول باری ہے ولا ترکنوا الی اذین ظلموا افتمسکم النار۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جائو گے ۔ کسی چیز کی طرف رکون یعنی جھکنے کے معنی یہ ہیں اس کے ساتھ لگائو اور محبت کی بنا پر جھکنے والے کو اس پر قرار آجائے۔ یہ بات ظالموں کی ہم نشینی ان سے الفت اور ان کی باتوں پر کان دھرنے کی ممانعت کی مقتضی ہے ، اس کی نظیر یہ قول باری ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔

114

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

Explained together with ayah 113

115

وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

Explained together with ayah 113

116

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے

Explained together with ayah 113

117

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

خدا ظلم نہیں کرتا - قول باری ہے وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلحا مصلحون ۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی چھوٹے ظلم پر جوان کی طرف سے سرزد ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں کسی بڑے ظلم پر جو ان کے ایک چھوٹے سے طبقے کی طرف سے ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ان اللہ لایھلک العامۃ بذنوب الخاصۃ اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ظالم بن کر انہیں ہلاک نہیں کرتا جس طرح یہ قول باری ہے ان اللہ لا یظلم الناس شیئا ً ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرا برابر بھی ظلم نہیں کرتا ۔ زیر بحث آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بستیوں والوں کو ناحق تباہ نہیں کرتادرآنحالی کہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہیں۔- ایک اور آیت میں ارشاد ہے وان من قدیہ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامۃ - یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ قیامت کے قریب خرابی اور فساد کی انتہا پر پہنچ چکے ہوں گے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرے گا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لا تقوم الساعۃ الا علی شرار الخلق ۔ قیامت خلق خدا میں سے بد ترین لوگوں پر آئے گی کا بھی یہی مصداق ہے۔

118

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

خدا چاہتا تو سب لوگ ایک ہی امت ہوتے - قول باری ہے ولو شاء ربک لعجل الناس امۃ واحدۃ بیشک تیرا رب اگر چاہتاتو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ قتادہ کے قول کے مطابق سب کو مسلمان بنا دیتا۔ وہ اس طرح کہ سب کو ایمان کی طرف چلنے پر مجبور کردیتا ۔ اس میں منع کا پہلو ہے یعنی اگر وہ لوگ اس کے خلاف چلنے کا ارادہ کرتے تو انہیں ایسا کرنے نہ دیا جاتا بلکہ انہیں ایمان کی خوبی اور اس کی منفعت کی وسعت کی طرف مجبورا ً جانا پڑتا۔- قول باری ہے ولا یزالون مختلفین مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے۔ مجاہد عطاء ، قتادہ اور اعمش کے قول کے مطابق مختلف ادیان پر چلتے رہیں گے۔ یعنی کوئی یہودی ہوگا تو کوئی نصرانی تو کوئی مجوسی اور اسی طرح اورادیان فاسدہ کا ماننے والے لوگ ہوں گے۔ حسن سے مروی ہے کہ لوگ ارزاق میں اور ایک دوسرے کو اپنے قابو میں لانے اور غلبہ پانے کے احوال کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ قول باری ہے الا من رحم ربک اور ان بےراہ راویوں سے صر ف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ باطل کی مختلف راہوں پر چلنے والوں سے آیت میں مذکورہ لوگوں کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مطلق ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جو ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے کہ ایمان ہی باطل کی مختلف راہوں پر چلنے سے بچا سکتا ہے۔

119

إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

انسان کو اختیار بخشا - قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔

120

وَكُلًّۭا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ وَجَآءَكَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌۭ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے

Explained together with ayah 119

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.