Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 111–120 of 123

111

وَإِنَّ كُلًّۭا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ ۔۔ :” كُلًّا “ میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا ” کُلُّھُمْ “ یا ” کُلُّ ھٰؤُلَاءِ “ (یہ سب لوگ) ” لَمَّا “ کا معنی ” جب “ ہے، یہ حرف شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ ” لَيُوَفِّيَنَّهُمْ “ اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط ” لَمَّا “ کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی ” لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ “ یعنی بیشک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقیناً انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ ” اِنَّ “ ، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ ” لَّمَّا “ کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ ” لَّمَّا “ میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔ ( ” اِنَّ كُلًّا لَّمَّا “ کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے : ” قَالَ صَاحِبُ الإِْیْجَازِ ” لَمَّا “ فِیْہِ مَعْنَی الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِی الْکَلاَمِ اخْتِصَارٌ کَأَنَّہُ قِیْلَ ” وَإِنَّ کُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ “ مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے ” لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ “ کے بجائے ” لَمَّا بُعِثُوْا “ محذوف نکالا ہے۔ - اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ : اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔

112

فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكًَ : ” فَاسْتَقِمْ “ میں سین اور تاء کا اضافہ یا تو طلب کے لیے ہے، معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح سیدھا اور قائم رہنے کی درخواست کرتا رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور یہ اضافہ مبالغے اور تاکید کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ قرطبی نے فرمایا، استقامت دائیں یا بائیں طرف جائے بغیر ایک طرف کو سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے۔ پہلا معنی بھی درست ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم ہر رکعت میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔ استقامت کا معنی باطل کے دونوں کناروں افراط اور تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر ان کے عین درمیان سیدھا رہنا ہے۔ یہ نہایت مشکل کام ہے۔ پہلے تو ہر وقت اس کا خیال رکھنا ہی مشکل ہے کہ عین صحیح راستہ کیا ہے ؟ پھر اس پر قائم رہنا اس سے بھی مشکل ہے۔ رازی نے اسے ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان ایک جگہ ہے۔ اس کا معلوم کرنا اور ہر وقت اس کا خیال رکھنا کس قدر مشکل ہوگا۔ اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا تھا : ( شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ ) [ ترمذی : ٣٢٩٧] ” مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ “ اس کا سبب انبیاء ( علیہ السلام) کی قوموں پر عذاب کے واقعات کے بجائے یہ حکم ہے : (فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ )- ” فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ “ سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ جس پر خوب ثابت رہنے کا حکم ہے، صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی فرمایا۔ یہاں استقامت کا حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان تمام لوگوں کو ہے جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ اہل ایمان میں داخل ہوئے، مگر سب کو کس چیز پر استقامت کا حکم ہے، صرف اس پر جسے ” فاستقم “ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یعنی صرف اس پر جس کا حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے امر صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوا ہے، آپ کے سوا ابوبکر (رض) سے لے کر امت کے آخری شخص تک ایک بھی شخص ایسا نہیں جو مامور من اللہ ہو اور جسے وحی کے ذریعے سے حکم ملتا ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کی رائے اللہ کا حکم یا دین ہو، جس پر امت کو قائم رہنے کا حکم ہو۔ اس سے تمام تقلیدی گروہوں کا استقامت سے ہٹ جانا ثابت ہوا۔ نجات چاہتے ہیں تو تمام لوگوں کی رائے، قیاس اور تقلیدی گروہ بندی چھوڑ کر صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑنا ہوگا۔- استقامت (اللہ کے حکم پر پوری طرح قائم رہنا) ایک نہایت جامع لفظ ہے، جس میں پوری شریعت آجاتی ہے۔ عقائد میں اللہ کی صفات پر اس طرح ایمان جس طرح اس نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نہ کسی صفت کا انکار کرنا (تعطیل) ، نہ اسے مخلوق کی صفات جیسا سمجھنا (تشبیہ) بلکہ جیسا اللہ کی شان کے لائق ہے۔ اعمال میں نہ کسی حکم پر عمل چھوڑنا (نافرمانی) اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے بڑھنا یا آپ سے الگ راستہ نکالنا (رہبانیت اور بدعت) ۔ اخلاق میں، مثلاً نہ بخل کرنا نہ بےجا خرچ کرنا۔ غرض ہر چیز میں عین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحیح راستہ معلوم کرکے اس پر قدم بہ قدم چلنا استقامت ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے ؟ فرمایا : ( قُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) ” کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : ٣٨ ] استقامت کے اجر اور فضیلت کے لیے دیکھیے سورة حٰم السجدہ (٣٠) اور احقاف ( ١٣) ۔- وَلَا تَطْغَوْا : ” طَغٰی یَطْغَی طُغْیَانًا “ حد سے بڑھنا، یعنی شریعت کی اطاعت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ …

113

وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی

وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا :” رَکِنَ “ (ن، ع، ف) مائل ہونا۔ 1 ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “ اور ” اَلظَّالِمِیْنَ “ میں فرق ہے۔ ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، خواہ کبھی کبھار کیا ہو اور ” اَلظَّالِمِیْنَ “ ظلم کرنے والے، جن کی روش ہی یہ ہے۔ جب پہلی قسم کے لوگوں کی طرف مائل ہونے سے منع فرمایا تو دوسری قسم کی طرف مائل ہونے کا آپ خود اندازہ کرلیں۔ 2 جب ان کی طرف مائل ہونا منع ہے جنھوں نے ظلم کیا تو خود کسی پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کس قدر قبیح ہوگا۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( یَا عِبَادِيْ إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَ جَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : ٢٥٧٧، عن أبي ذر (رض) ] ” اے میرے بندو میں نے کسی پر ظلم کرنا خود اپنے آپ پر حرام کر رکھا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا، سو تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ “ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِتَّقُوْا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : ٢٥٧٨، عن جابر بن عبداللہ ] ” ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن کئی اندھیرے ہوگا۔ “ 3 ظلم میں شرک اور دوسرے تمام ظلم شامل ہیں، یعنی جو لوگ ظلم کی طرف مائل ہوں ان سے کوئی دوستی اور محبت نہ رکھو، چاہے وہ کافر ہوں یا نام کے مسلمان۔ (شوکانی) 4 ان کی طرف مائل ہونے میں ان کے ساتھ محبت، ان کے ساتھ مجلس آرائی، ان کے پاس بیٹھنا، انھیں ملنے کے لیے جانا، ان کے ظلم پر چپ رہنا، ان کے کاموں پر خوش ہونا، ان جیسا بننا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کا ذکر عزت اور تعظیم کے ساتھ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ ” رُکُوْنٌ“ (مائل ہونے) کا کم از کم مرتبہ پاس رہ کر چپ رہنا اور آخری مرتبہ ظلم پر ان کی حوصلہ افزائی اور مدد ہے ۔- فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۔۔ : ” َلَا تَرْكَنُوْٓا “ نہی کے جواب میں فاء نے ” تَمَسَّ “ مضارع کو نصب دیا ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں، سرداروں اور چودھریوں سے ربط وتعلق کی ممانعت نکلتی ہے۔ ہاں ان کے شر سے بچنے کے لیے یا مصلحت عامہ یا دعوت دین یا دینی ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر ان سے میل جول رکھے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دل میں ان کے ظلم کی وجہ سے نفرت رکھے، جیسا کہ سورة آل عمران (٢٨) اور بعض احادیث میں آیا ہے۔ غرض ظلم کرنے والوں سے دلی محبت یا میلان کسی صورت جائز نہیں، البتہ مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس جانا، نصیحت کرنا، ان کے ظلم پر مجبوراً خاموش رہنا یا دین کی مصلحت اور حق کی دعوت و تاکید کے لیے ربط وتعلق رکھنا الگ بات ہے۔ - لَا تُنْصَرُوْنَ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم اگر ظالم اور بدکار ہو تو اس کی اطاعت اسی وقت ہے جب وہ ظلم یا شریعت کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ اگر وہ شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں، الا یہ کہ اس کے ضرر سے بچنے کے لیے بظاہر اطاعت کا اظہار کرے اور دل میں برا سمجھے، جیسا کہ اوپر سورة آل عمران کے حوالے سے گزرا۔ حاکم کی اطاعت اس وقت فرض ہے : 1 جب وہ مسلمان ہو۔ دیکھیے سورة نساء (٥٩) ۔ 2 مسلمانوں میں اقامت صلوۃ جاری رکھے۔ دیکھیے مسلم (١٨٥٥) ۔ 3 اس سے کھلم کھلا کفر کا ظہور نہ ہو۔ دیکھیے بخاری (٧٠٥٦) ۔ 4 اور وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ دیکھیے بخاری (٧١٤٤) ۔ ” وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ “ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں کی حمایت اور ان کی طرف میلان کا نتیجہ آخرت کے عذاب کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی و حمایت) اور اس کی نصرت (مدد) سے محرومی بھی ہے۔ آج یہ حقیقت ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

114

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں استقامت کا اور طغیانی اور ظالموں کی طرف میلان سے اجتناب کا طریقہ بتایا ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق جو نماز سے حاصل ہوتا ہے اور صبر کرنا اور برائی اور فساد فی الارض سے منع کرتے رہنا۔ - وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ : اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مالک بن حویرث (رض) سے فرمایا : ( صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ ) [ بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا۔۔ : ٦٣١ ] ” نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔ “ قرطبی نے فرمایا کہ مفسرین میں سے کسی کا اختلاف نہیں کہ یہاں اس سے مراد فرض نماز ہے۔ - ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور اقامت صلاۃ پر دیا گیا ہے اور اسے کفر و ایمان کے درمیان فرق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ دفعہ مسجد میں جا کر اللہ کے سامنے حاضری میں ارکان اسلام کا کچھ نہ کچھ حصہ آجاتا ہے۔ کلمہ اسلام تشہد میں موجود ہے، پوری نماز کے دوران میں کھانے پینے سے بلکہ دنیا کے ہر کام سے پرہیز روزے کا عکس ہے، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر آنا اس شخص کے بس کی بات نہیں جو زکوٰۃ نہ دے سکتا ہو اور قبلے کی طرف رخ حج کی یاد دلاتا ہے۔ - طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دو کنارے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نہار (دن) ہوتا ہے، اس میں تین نمازیں آجاتی ہیں۔ زوال سے پہلے والے کنارے میں فجر اور زوال کے بعد والے میں ظہر اور عصر۔ ” زُلَفًا “ ” زُلْفَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ” غُرْفَۃٌ“ کی جمع ” غُرَفٌ“ ہے، اس سے مراد دن کے آخری حصے کے قریب کے اوقات ہیں، کیونکہ ” اِزْلَافٌ“ کا معنی قرب ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ) [ الشعراء : ٩٠ ] ” اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب لائی جائے گی۔ “ اور فرمایا : (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ) [ الزمر : ٣ ] ” ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ “ اس سے مراد مغرب اور عشاء ہیں، کیونکہ وہ دن کے قریب ہوتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازیں آجاتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ان آیات کا نزول معراج کے بعد ہوا ہو تو اجمالی طور پر ان میں پانچوں نمازیں آجاتی ہیں، البتہ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ یہ آیات معراج میں پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہوں اور ان آیات سے دن کے دونوں کنارے سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور غروب ہونے سے پہلے (عصر) کی نماز ہی فرض ہو اور رات کی گھڑیوں سے مراد تہجد ہو جو پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور تمام امت پر فرض تھی، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ اس کی تاکید اور فضیلت باقی رہی۔ اصل یہ ہے کہ تفصیلی طور پر نماز پنج گانہ کے اوقات کی تعیین اور تفصیل حدیث ہی سے ملتی ہے اور قرآن مجید پر عمل حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ منکرین حدیث میں سے پہلے کچھ لوگ قرآن میں تین نمازیں مانتے تھے، پھر دوپر آگئے، بعد والے ایک پر آگئے اور پرویز نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے لے کر اب تک متواتر احادیث اور متواتر عمل کے ساتھ آنے والے نماز کے طریقے کا سرے ہی سے انکار کردیا اور حقیقت یہی ہے کہ صرف قرآن سے نہ نماز کے مکمل اوقات معلوم ہوسکتے ہیں، نہ اس کے ارکان، نہ ارکان کی ترتیب، نہ رکعات کی تعداد اور نہ شروع یا ختم کرنے کا طریقہ، غرض حدیث ترک کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن پر عمل سے جان چھوٹ جائے اور یہی ان بدنصیب لوگوں کی دلی خواہش ہے جو ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔- اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ : پچھلے جملے میں اللہ کے حکم پر استقامت میں اور ظالموں کی طرف میلان سے …

115

وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ ۔۔ : نماز کے ساتھ دوسری چیز جو استقامت علی الحق میں اور ظلم کی طرف میلان سے روکنے میں بیحد مددگار ہے وہ صبر ہے، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) [ البقرۃ : ٤٥ ] ” اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔ “ مفردات راغب میں ہے : ” صبر کا معنی کسی کو تنگی میں روک کر رکھنا ہے، کہا جاتا ہے : ” صَبَرْتُ الدَّابَّۃَ “ ” میں نے جانور کو چارے کے بغیرباندھ رکھا “ اور ” صَبَرْتُ فُلاَنًا “ ” میں نے اس کا ایسا پیچھا کیا جس سے وہ کسی طرح نکل نہ سکے۔ “ صبر نفس کو اس چیز پر روک کر اور باندھ کر رکھتا ہے جس کا تقاضا عقل اور شرع کرتی ہیں، یا اس چیز سے باندھ کر اور روک کر رکھتا ہے جس سے روکنے کا عقل اور شرع تقاضا کرتی ہیں۔ “ اہل علم عموماً صبر کی تین قسمیں بتاتے ہیں : 1 اپنے آپ کو نیکی پر باندھ کر اور ہمیشہ کے لیے اس کا پابند بنا کر رکھنا۔ 2 اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کی نافرمانی سے روک کر رکھنا۔ 3 مصیبت پر جزع فزع کے بجائے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنے کا پابند بنانا۔ استقامت کے لیے صبر کی ضرورت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت کی طرح قرآن میں بہت سی جگہوں پر صبر کا ذکر فرمایا، حتیٰ کہ فرمایا : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) [ الزمر : ١٠ ] ” صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ “

116

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ ۔۔ : ” لَوْ لَا “ کے دو معانی ہیں، پہلا یہ کہ ” اگر یہ نہ ہوتا “ مثلاً ” لَوْ لَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ “ ” اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے۔ “ دوسرا معنی ” ھَلاَّ “ یعنی ” ایسا کیوں نہ ہوا “ یہ ترغیب کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسا ہونا چاہیے تھا، یہاں یہی معنی مراد ہے۔ ” قَرْنٌ“ ایک نسل کے لوگ۔ یہ لفظ عموماً ایک صدی پر بولا جاتا ہے۔ ” اُولُوْا بَقِيَّةٍ “ اچھی عادات و خصائل اور عقل والے لوگ۔ اصل میں ” بَقِيَّةٍ “ ان نفیس اور منتخب چیزوں کو کہا جاتا ہے جنھیں انسان اپنے فائدے کے لیے بچا بچا کر باقی رکھتا ہے، جیسے کہتے ہیں : ” بَقِیَّۃُ السَّلَفِ “ یعنی پہلے لوگوں میں سے بہترین آدمی۔- پہلی تمام قوموں کے واقعات کے بعد اب خلاصہ بیان ہو رہا ہے کہ تم سے پہلے ان لوگوں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل فساد کو فساد فی الارض سے روکتے، یعنی ایسے لوگوں کی موجودگی نہایت ضروری تھی۔ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی مگر نہایت تھوڑے، جن کی کچھ پیش نہ چلی، چناچہ جب دوسروں پر عذاب آیا تو ان قلیل لوگوں کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ جب تک ان میں ایسے اصحاب خیر موجود رہیں گے جو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور ایسے اصحاب خیر بالکل تھوڑے اور بےاثر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک عذاب نہیں آئے گا۔ پھر پہلوں کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ان نعمتوں اور خوش حالیوں میں پڑ کر اپنی خسیس خواہشات کے پیچھے ایسے لگے کہ وہ عذاب کے قابل مجرم بن گئے۔

117

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ ۔۔ : یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک اسی وقت کرتا ہے جب وہ حد سے بڑھ کر زمین میں فساد پھیلانے لگیں، مگر پہلا معنی زیادہ درست ہے۔

118

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : ٣) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ) [ یونس : ٩٩ ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، سمع و بصر دے کر اور راستہ بتا کر اختیار دے دیا کہ حق و باطل میں سے جو چاہو اختیار کرو۔ اس لیے یہ سب لوگ کبھی ایمان پر متفق نہیں ہوسکتے، بلکہ ان میں ہمیشہ اختلاف رہے گا، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی فرماں بردار کوئی نافرمان، فرمایا : ( وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ) ” اور اس نے انھیں اسی (آزمائش کے) لیے پیدا فرمایا ہے۔ “ مائدہ میں ہے : ( وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ) [ المائدۃ : ٤٨ ] ” اور لیکن تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ “ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی طے کردی ہے کہ میں جہنم کو اس آزمائش میں ناکام ہونے والے جن و انس سے بھروں گا اور اس بات کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں کہ آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو اپنی جنت سے نوازوں گا۔ - وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ : معاویہ بن ابو سفیان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا : ( أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً ، وَإِنَّ ھٰذِہِ الْمِلَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَ سَبْعِیْنَ ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ و ھِيَ الْجَمَاعَۃُ ) زَادَ ابْنُ یَحْیَی وَعَمْرٌو فِيْ حَدِیْثِھِمَا : ( وَإِنَّہٗ سَیَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارَی بِھِمْ تِلْکَ الْأَھْوَاءُ کَما یَتَجَارَی الْکَلَبُ لِصَاحِبِہِ ، وَقَالَ عَمْرٌو : الْکَلَبُ بِصَاحِبِہِ لاَ یَبْقَی مِنْہٗ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَہٗ )[ أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ : ٤٥٩٧۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ١؍٤٠٤، ح ٢٠٤ ] ” یاد رکھو تم سے پہلے اہل کتاب بہتر (٧٢) ملتوں میں جدا جدا ہوگئے اور یہ ملت تہتر (٧٣) میں جدا جدا ہوجائے گی۔ بہتر (٧٢) آگ میں اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ ” الجماعۃ “ ہے۔ “ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا : ” میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں یہ خواہشات و بدعات اس طرح رگ رگ میں جاری ہوجائیں گی جیسے باؤلے پن کی بیماری، اس بیماری کے مریض کے رگ و ریشے میں جاری ہوجاتی ہے۔ “ - 3 اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ کسی امت کا اتفاق اور اجتماع رحمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور صاف ظاہر ہے کہ امت مسلمہ صرف اسی چیز پر جمع ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور وہ کتاب وسنت ہے۔ یہی طریق مستقیم ہے اور اسی پر چلنے والے ” الجماعۃ “ ہیں، باقی سب فرقے بعد میں اس سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ۔- 3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں مشہور روایت ” اِخْتَلاَفُ أُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ“ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے، یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صاف جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حزم (رض) نے اسے موضوع ثابت کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ بھی لکھی کہ اگر اسے صحیح مانا جائے تو پھر امت کا اتفاق زحمت ہوگا، کیونکہ اختلاف رحمت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان …

119

إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

Explained together with ayah 118

120

وَكُلًّۭا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ وَجَآءَكَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌۭ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے

Explained together with ayah 118

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.