Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 123

101

وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ۖ فَمَآ أَغْنَتْ عَنْهُمْ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِى يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍۢ

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ ۔۔ : یعنی ہم نے جو ان پر عذاب بھیجے اس میں ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اپنی جانوں پر ان کا سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک اور پھر رسولوں کو جھٹلانا تھا، جس کی انھیں سزا ملی۔ - فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ ۔۔ : پھر اللہ کا عذاب آنے پر ان کے معبود، حاجت روا، مشکل کشا، گنج بخش اور دستگیر ان کے کسی کام نہ آسکے، بلکہ وہ ان کے لیے ہلاک کیے جانے میں اور عذاب میں اضافے ہی کا سبب بنے، کیونکہ انھی کی وجہ سے ان پر تباہی اور بربادی آئی۔ ” تَتْبِيْبٍ “ فعل ” تَبَّ “ (وہ ہلاک ہوا) سے باب تفعیل ہے، ہلاک کرنا۔

102

وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلْقُرَىٰ وَهِىَ ظَٰلِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيمٌۭ شَدِيدٌ

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے

وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ ۔۔ : ” اَخَذَ “ کا معنی اچانک جلدی سے پکڑ لینا، جیسا کہ کہتے ہیں : ” فُلَانٌ اَخَذَہُ الْمَوْتُ “ فلاں کو موت نے آدبوچا۔ یعنی جس طرح گزشتہ سات انبیاء ( علیہ السلام) کی اقوام پر ظلم کی وجہ سے پکڑ آئی، کسی بھی ظالم بستی (والوں) پر تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِیْ للظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَہٗ لَمْ یُفْلِتْہُ ، ثُمَّ قَرَأَ : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ) [ بخاری، التفسیر، باب : ( و کذلک أخذ ربک۔۔ ) : ٤٦٨٦۔ مسلم : ٢٥٨٣ ] ” اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے چھوٹ کر کہیں جا نہیں سکتا۔ “ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یہ آیت ہر زمانے میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ سلف میں سے کسی نے کہا ہے : ” کفر کے ساتھ سلطنت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ “

103

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلْءَاخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّجْمُوعٌۭ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّشْهُودٌۭ

ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق ؟- ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ : یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول ” یُجْمَعُ لَہُ “ (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول ” مَّجْمُوْعٌ لہ “ (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ - وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ : یعنی اس میں سب لوگ حاضر کیے ہوئے ہوں گے، کوئی چھپ سکے گا نہ ادھر ادھر ہو سکے گا۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن ہر نیکی یا بدی کی شہادت موجود ہوگی اور پیش بھی کی جائے گی۔ یہ بھی مراد ہے کہ اس دن پہلے، پچھلے انسان اور جن سب حاضر ہوں گے، فرشتے بھی اور خود ذات الٰہی بھی فیصلے کے لیے تشریف لائیں گے، فرمایا : (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) [ الفجر : ٢٢ ] ” اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ “

104

وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٍۢ مَّعْدُودٍۢ

اور ہم اس کے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں

وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ :” مَّعْدُوْدٍ “ کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہوجاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا : (اَیَّاماً مَّعْدُوْدَاتٍ ) [ البقرۃ : ١٨٤ ] ” گنے ہوئے چند دنوں میں۔ “ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آسکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہوسکتی ہے۔

105

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّۭ وَسَعِيدٌۭ

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت

يَوْمَ يَاْتِ : یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ ” یَاتِ “ اصل میں ” یَأْتِیْ “ ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا ” يَوْمَ يَاْتِ “ کی طرح ” لاَ أَدْرِ “ بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے) ۔ ” يَاْتِ “ کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا ” يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ “۔ ” یَوْمٌ“ کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ” التحریر والتنویر لابن عاشور “ یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ آئے گا، یعنی ” یَاتِ “ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) [ الفجر : ٢٢ ] ” اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ “- لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ : یہاں سے نصرانیوں کی اور بعض مسلمانوں کی اس سفارش کا رد ہوگیا جو ان کے خیال میں کچھ ہستیوں کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہونے یا بڑے زبردست ہونے کی وجہ سے جسے چاہیں گے چھڑا لیں گے، حالانکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بات کرنے کی جرأت ہی نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة نبا (٣٨) ۔- فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ : ” شَقِيٌّ“ بروزن ” فَعِیْلٌ“ مبالغہ کے لیے ہے۔ قاموس میں ہے ” اَلشَّقَا “ کو کبھی ” اَلشَّقَاءُ “ بھی کہا جاتا ہے، سختی، تنگی۔ ” شَقِیَ یَشْقٰی “ (ع) یہ ” رَضِیَ یَرْضٰی “ کی طرح ہے، یعنی ناقص واوی ہے۔ زمخشری نے فرمایا : ” اَلَّذِیْ وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ بِإِسَاءَتِہِ “ یعنی وہ بدبخت جس کے لیے اس کی بدعملی کی وجہ سے آگ واجب ہوگئی۔ ” سَعِیْد “ وہ خوش قسمت جس کے لیے اس کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت واجب ہوگئی۔

106

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُوا۟ فَفِى ٱلنَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌۭ وَشَهِيقٌ

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا

فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا ۔۔ : ” زَفِیر “ اور ” شَھِیْق “ دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ ” زَفِیر “ اس کے شروع کی آواز اور ” شَھِیْق “ اس کے آخر کی آواز، یعنی نہایت بری چیخنے چلانے کی آوازیں نکالیں گے۔

107

خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ

(اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں، اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : ” جب تک سارے آسمان و زمین قائم ہیں “ مراد ہمیشہ کا عذاب ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی ہمیشگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عرب ” مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ “ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ تعلیق نہیں، یعنی یہ معنی نہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے عذاب رہے گا پھر نہیں۔ ہاں آسمان و زمین سے مراد آخرت کے آسمان و زمین ہوں تو محاورے کے بغیر ہی ہمیشگی مراد ہے، کیونکہ دنیا کے زمین و آسمان تو اس دن بدل دیے جائیں گے، فرمایا : (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار) [ إبراہیم : ٤٨ ] ” جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔ “ آخرت کے آسمان و زمین میں جنت واقع ہوگی اور وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ لہٰذا وہ زمین و آسمان بھی دائمی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کا قول ذکر فرمایا : (وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ) [ الزمر : ٧٤ ] ” اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں جگہ بنالیں۔ “ تو مطلب یہ ہوگا کہ جہنمی جہنم میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر)- اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : یہ لفظ ” شَقِیٌّ“ اور ” سَعِیْد “ دونوں کے تذکرے میں آئے ہیں، یعنی بدبخت آگ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ اسی طرح سعادت مندوں کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ دونوں آیتوں میں ” مگر جو تیرا رب چاہے “ کا تعلق اہل توحید سے ہے۔ پہلی آیت میں مطلب یہ ہوگا کہ مومن موحد گناہ گار جب اپنی سزا بھگت لیں گے تو انھیں جہنم سے نکال لیا جائے گا، جیسا کہ ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں : ( یَدْخُلُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَأَھْلُ النَّار النَّارَ ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالَی أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِیْمَانٍ ، فَیُخْرَجُوْنَ مِنْھَا قَدِ اسْوَدُّوْا فَیُلْقَوْنَ فِيْ نَھْرِ الْحَیَا أَوِ الْحَیَاۃِ ، شَکَّ مَالِکٌ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّۃُ فِيْ جَانِبِ السَّیْلِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّھَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِیَۃً ؟ ) [ بخاری، الإیمان، باب تفاضل أہل الإیمان فی الأعمال : ٢٢۔ مسلم : ١٨٤ ] ” اہل جنت، جنت میں اور اہل نار آگ میں داخل ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” جس شخص کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے اس سے نکال لو “ تو وہ اس سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ سیاہ ہوچکے ہوں گے، پھر انھیں ” نَھْرُ الْحَیَا “ (بارش کے پانی کی نہر) یا ” نَھْرُ الْحَیَاۃِ “ (زندگی کی نہر) میں ڈال دیا جائے گا (امام مالک کو شک ہے) تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے بوٹیوں کا بیج سیلاب کی جانب میں اگ آتا ہے۔ تم نے نہیں دیکھا کہ وہ زرد لپٹا ہوا اگتا ہے ؟ “ - اس مفہوم کی بہت سی احادیث آئی ہیں کہ سزا پا کر یا شفاعت سے یا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہ گار مسلمان آخر کار جہنم سے نکل کر جنت میں چلے جائیں گے، اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ گو بعض نے اس سے دوزخ کے بالآخر فنا ہونے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ضعیف حدیث اور کچھ غریب اقوال بھی نقل کیے ہیں، مگر یہ مطلب قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے، جن میں جہنمیوں کے متعلق ” خالدین “ اور ” ابدا “ کے الفاظ مذکور ہیں اور ان احادیث کے بھی صریح خلاف ہے، جن میں ہے : ( یُجَاء بالْمَوْتِ یَوْمَ …

108

۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍۢ

اور جو نیک بخت ہوں گے، وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کئے جائیں گے (اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ یہ (خدا کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی

Explained together with ayah 107

109

فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : یعنی ان کے معبودوں کے باطل ہونے یا نفع نقصان کا مالک نہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہ کر۔ ” مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ “ ( جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) میں ” یہ لوگ “ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ میں نے قرآن کی اس اصطلاح کی جستجو کی تو تقریباً گیارہ مقامات میں ایسا ہی پایا۔ یہ بات میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اور میں نے آیت : ( وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : ٤١ ] کی تفسیر میں اس کی وضاحت کی ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قسم کا کوئی شک تھا جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ) [ ہود : ١١٤ ] ” نماز قائم کر۔ “ اسی طرح فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ) [ الأحزاب : ١ ] ” اے نبی اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر۔ “ تو کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے نماز قائم نہیں کرتے تھے ؟ یا کیا آپ اس سے پہلے اللہ سے نہیں ڈرتے تھے ؟ اور کیا آپ کفار و منافقین کی اطاعت کیا کرتے تھے ؟ نہیں، ہرگز نہیں، اس قسم کے احکام جن پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مخلص اہل ایمان پہلے ہی کار بند ہوں، نازل کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پہلے سے عمل کرنے والے ہمیشہ ان پر کاربند رہیں اور استقامت اختیار کریں اور دوسرے تمام انسان بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھ کر ان احکام پر عمل کریں کہ جب نبی کو یہ حکم ہے تو ہماری کیا اوقات ہے کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔ - مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ :” اٰبَاۗؤُهُمْ “ سے مراد عادوثمود ہیں، کیونکہ عدنانی عربوں کی ماں بنوجرہم سے تھی جو اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ بنو جرہم ثمود سے تھے اور قریش کی ماں بنو خزاعہ سے تھی، جو قصی کی بیوی تھی اور عرب میں بت پرستی عمرو بن لحی نے شروع کی تھی جو خزاعی تھا۔ (ابن عاشور) یعنی ان کی غیر اللہ کی پرستش کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) آبا و اجداد کی غیر اللہ کی عبادت کیا تھی ؟ یہی کہ وہ اپنے بزرگوں یا ان کے بتوں یا قبروں کو مصیبت کے وقت پکارتے تھے، انھیں اللہ کا بیٹا یا جز یا عین قرار دیتے تھے۔ اسی طرح عبادت میں ان کے نام کی نذر و نیاز ماننا، اللہ کے حصے کے ساتھ جانوروں اور کھیتیوں میں ان کا حصہ رکھنا، ان کو اللہ کی صفات، مثلاً علم غیب کا مالک، دور سے فریاد سننے اور مدد کرنے والا سمجھنا سبھی شامل ہیں۔ ہر زمانے کے مشرک ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں : (بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن) [ المؤمنون : ٨١ ] ” بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا “ اور ان کے پاس تقلید آباء کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی اور ان پر وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ ” مَا أَشْبَہَ اللَّیْلَۃَ بالْبَارِحَۃِ “ ” آج کی رات کل کی رات کے کس قدر مشابہ ہے۔ “- وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ کسی شخص کا تقدیر میں دنیا کا جو رزق اور آسائشیں لکھی گئی ہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر ہر ایک کو ملیں گی، کافروں کو بھی ان کا حصہ پورا ملے گا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٢٠) دوسری یہ کہ ان کی نیکیاں جو انھوں نے دنیا میں کی ہیں ان کا پورا بدلہ ہم انھیں دنیا ہی میں دے دیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (٢٠) اور تیسری یہ کہ ہم ان کی غیر اللہ کی عبادت اور شرک کا پورا پورا بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ …

110

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ : سورة ہود واحد سورت ہے جس میں ایک ہی رسول کا ذکر دو بار ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہوا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تھا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جائیں، آیات اور سلطان مبین پیش کریں اور جیسا کہ سورة طٰہٰ میں ذکر ہے، اس سے مطالبہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو عذاب دینا چھوڑ دے اور انھیں آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے۔ اگرچہ اس کے ساتھ توحید و رسالت کی دعوت بھی تھی، مگر وہ مسلمان ہی نہیں ہوا کہ اس کے لیے مفصل احکام نازل ہوتے۔ اس وقت تمام احکام زبانی تھے، تورات نازل نہیں ہوئی تھی، اس لیے ساتھ ہی اس کا انجام ذکر کردیا : (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) [ ہود : ٩٨ ] یعنی وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے چلتا ہوا انھیں جہنم میں لے جائے گا۔ - موسیٰ (علیہ السلام) کی دوسری بعثت بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ چناچہ آزادی حاصل ہونے اور سمندر سے بخیریت نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے طور پر چالیس راتوں کا اعتکاف کروایا اور اس کے بعد انھیں تورات عطا فرمائی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون یا اس کے سردار نہیں تھے، ان کے ساتھ بنی اسرائیل تھے یا فرعون کی قوم میں سے مصر سے آنے والے چند نوجوان۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ ) کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) عطا فرمائی، مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں اور اس کے بعد اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے تسلیم کیا، کسی نے انکار کردیا، یا کسی نے کچھ احکام مان لیے کچھ نہیں، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر ارض مقدس (شام) کے حصول کے لیے جہاد پر نکلنے سے بھی صاف انکار کردیا اور کہہ دیا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (٢٤) پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان پر بہت سے دور آئے، کبھی غالب رہے، مثلاً یوشع بن نون (علیہ السلام) کا دور، داؤدو سلیمان (علیہ السلام) کا دور، کبھی مغلوب رہے، پھر آہستہ آہستہ انھوں نے اللہ کی کتاب میں ایسا اختلاف کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق بہتر (٧٢) گروہوں میں بٹ گئے۔ انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب اللہ کے معانی میں تحریف کی، غلط تاویلیں کیں، معانی بدلے، پھر الفاظ میں بھی تحریف کردی، جیسا کہ فرمایا : ( يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ) [ المائدۃ : ١٣ ] ” وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں۔ “ پھر اپنے احبارو رہبان (علماء و درویش) کو اللہ تعالیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا۔ ان کی فقہ اور ان کے اقوال و فتاویٰ کو یہ درجہ دیا کہ وہ حرام کو حلال کہتے تو حلال سمجھ لیتے، حلال کو حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے، فرمایا : (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ) [ التوبۃ : ٣١ ] ” انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ “ ان کے دنیا پرست علماء اللہ کی کتاب لوگوں کو سناتے ہوئے زبانوں کو ایسا پیچ دیتے کہ لوگ سمجھیں یہ اللہ ہی کی کتاب سنا رہے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی کتاب نہ ہوتی، پھر صاف دعویٰ کردیتے کہ یہ اللہ کی طرف سے شرع کا حکم ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا، فرمایا : (وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ) [ آل عمران : ٧٨ ] ” اور بیشک ان میں سے یقیناً کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب (پڑھنے) کے ساتھ اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.