قول باری ہے ربنا لیضلو ا عن سبیلک ۔ اے رب کیا کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیرا راہ سے بھٹکائیں ۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس میں وارد حرف لام ، لام عاقبت ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے۔۔۔۔ فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا ً او حزنا سے آل فرعون نے اٹھا لیا تا کہ وہ ان کا دشمن اور انکے لیے غم کا سبب بنے۔- دوسری تفسیر یہ ہے کہ لئلا یضلوا عن سبیلک تا کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے نہ بھٹکائیں ۔ حرف لا یہاں محذوف ہے جس طرح اس قول باری میں محذوف ہے ممن ترضون من الشھداء ان تضل احدی ھما یعنی لئلا تضل تا کہ گمراہ نہ ہوجائے ۔ اس طرح یہق ول باری ان تقولوا یوم القیامۃ انا کنا عن ھذا غافلین یعنی لئلا تقولوا تا کہ تم یہ نہ کہو اسی طرح یہ قول باری ہے یبین اللہ لکم ان تضلوا اس کے معنی ہیں ۔ لئلا تضلوا تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔