Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 11–20 of 109

11

۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

No commentary on this ayah in this edition.

12

وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں

No commentary on this ayah in this edition.

13

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

No commentary on this ayah in this edition.

14

ثُمَّ جَعَلْنَٰكُمْ خَلَٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

No commentary on this ayah in this edition.

15

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

سورة یونس - قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے - قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما لکم لا ترجون للہ وقار ا۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ہمارے ثواب کی طمع اور توقع نہیں رکھتے جس طرح کہا جاتا ہے۔ تاب رجاء لثواب اللہ وخوفاعن عقابہ فلاں شخص اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی امید وار اس کے عقاب سے ڈر کی بنا پر تائب ہوگیا کوئی اور قرآن لائے اور قرآن کو تبدیل کرنے کے درمیان یہ فرق ہے کہ پہلی صورت رفع قرآن کی مقتضی نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے قرآن کے ہوتے ہوئے اس کے باقی رہنے کا بھی جواز ہوتا ہے جبکہ دوسری صورت یعنی تبدیل قرآن اسی وقت ہوسکتی ہوے جب رفع قرآن عمل میں آ جائے اور اس کی جگہ دوسرا قرآن یا اس کا کچھ حصہ رکھ دیا جائے ۔ کافروں کا یہ سوال بلا وجہ اور تلبیس کے طور پر تھا اس لیے کہ انہیں قرآن کے خلاف لب کشائی کے لیے اس کے سوا کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی تھی ۔ دوسری طرف اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ قرآن کا معاملہ ان کی اپنی پسند اور بلاوجہ فیصلے پر چھوڑ دیا جاتا کیونکہ انہیں بندوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں تھا، اگر ان کے کہنے پر کوئی قرآن لانے یا قرآن میں تبدیلی کا جواز ہوتا تو وہ دوسرے قرآن کے بارے میں وہی کچھ کہتے جو پہلے کے بارے میں کہتے تھے اور تیسرے قرآن کی صورت میں اس کے متعلق بھی ان کی دہی رائے ہوتی جو دوسرے کے متعلق تھی اور اس طرح یہ سلسلہ کہیں اختتام پذیر نہ ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دلائل بیوقوفوں کے مقاصد اور ان کی خواہشات کے تابع ہو کر رہ جاتے ۔ حالانکہ موجودہ قرآن کے ذریعہ ان پر حجت تام ہوچکی تھشی ۔ جب یہ چیز انہیں مطمئن نہ کرسکی اور وہ اس حجت کی معارضت سے بھی عاجز رہے تو لازمی طور پر دوسرے اور تیسرے قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی طرز عمل ہوتا ہے۔- سنت وحی من اللہ ہے اس سے نسخ آیت قرآنی ممکن ہے - اس آیت سے بعض ایسے حضرات نے استدلال کیا ہے جو سنت کے ذریعے نسخ قرآن کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے کہ قول باری ہے قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی جو لوگ سنت کے ذریعے نسخ قرآن کے جواز کے قائل ہوں گے وہ آیت کی رو سے اس امر کے جواز کے قائل بن جائیں گے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے قرآن میں تبدیلی کرسکتے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح ان حضرات نے سوچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس بات کی ہرگز گنجائش نہیں تھی کہ آپ موجودہ قرآن کو اس جیسے کسی اور قرآن سے تبدیل کردیتے یا اس کی جگہ کوئی اور قرآن لے آتے۔ مشرکین نے آپ سے اسی کا سوال کیا تھا۔ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ قرآن کے الفاظ کی بجائے اس کے احکام کو بدل دیں۔ اس لیے زیر بحث مسئلے میں اس آیت سے استدلال کرنے والا شخص دراصل غفلت کا شکار ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھے۔ ہمارے نزدیک قرآن کا نسخ صرف سنت کا ذریعے جائز ہے جسے وحی من اللہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ ارشاد باری ہے وما ینطق عن الھوی ان ھوالا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں ان کا …

16

قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں

Explained together with ayah 15

17

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے

Explained together with ayah 15

18

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے

Explained together with ayah 15

19

وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا

Explained together with ayah 15

20

وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

Explained together with ayah 15

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.