سورة یونس - قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے - قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما لکم لا ترجون للہ وقار ا۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ہمارے ثواب کی طمع اور توقع نہیں رکھتے جس طرح کہا جاتا ہے۔ تاب رجاء لثواب اللہ وخوفاعن عقابہ فلاں شخص اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی امید وار اس کے عقاب سے ڈر کی بنا پر تائب ہوگیا کوئی اور قرآن لائے اور قرآن کو تبدیل کرنے کے درمیان یہ فرق ہے کہ پہلی صورت رفع قرآن کی مقتضی نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے قرآن کے ہوتے ہوئے اس کے باقی رہنے کا بھی جواز ہوتا ہے جبکہ دوسری صورت یعنی تبدیل قرآن اسی وقت ہوسکتی ہوے جب رفع قرآن عمل میں آ جائے اور اس کی جگہ دوسرا قرآن یا اس کا کچھ حصہ رکھ دیا جائے ۔ کافروں کا یہ سوال بلا وجہ اور تلبیس کے طور پر تھا اس لیے کہ انہیں قرآن کے خلاف لب کشائی کے لیے اس کے سوا کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی تھی ۔ دوسری طرف اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ قرآن کا معاملہ ان کی اپنی پسند اور بلاوجہ فیصلے پر چھوڑ دیا جاتا کیونکہ انہیں بندوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں تھا، اگر ان کے کہنے پر کوئی قرآن لانے یا قرآن میں تبدیلی کا جواز ہوتا تو وہ دوسرے قرآن کے بارے میں وہی کچھ کہتے جو پہلے کے بارے میں کہتے تھے اور تیسرے قرآن کی صورت میں اس کے متعلق بھی ان کی دہی رائے ہوتی جو دوسرے کے متعلق تھی اور اس طرح یہ سلسلہ کہیں اختتام پذیر نہ ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دلائل بیوقوفوں کے مقاصد اور ان کی خواہشات کے تابع ہو کر رہ جاتے ۔ حالانکہ موجودہ قرآن کے ذریعہ ان پر حجت تام ہوچکی تھشی ۔ جب یہ چیز انہیں مطمئن نہ کرسکی اور وہ اس حجت کی معارضت سے بھی عاجز رہے تو لازمی طور پر دوسرے اور تیسرے قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی طرز عمل ہوتا ہے۔- سنت وحی من اللہ ہے اس سے نسخ آیت قرآنی ممکن ہے - اس آیت سے بعض ایسے حضرات نے استدلال کیا ہے جو سنت کے ذریعے نسخ قرآن کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے کہ قول باری ہے قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی جو لوگ سنت کے ذریعے نسخ قرآن کے جواز کے قائل ہوں گے وہ آیت کی رو سے اس امر کے جواز کے قائل بن جائیں گے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے قرآن میں تبدیلی کرسکتے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح ان حضرات نے سوچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس بات کی ہرگز گنجائش نہیں تھی کہ آپ موجودہ قرآن کو اس جیسے کسی اور قرآن سے تبدیل کردیتے یا اس کی جگہ کوئی اور قرآن لے آتے۔ مشرکین نے آپ سے اسی کا سوال کیا تھا۔ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ قرآن کے الفاظ کی بجائے اس کے احکام کو بدل دیں۔ اس لیے زیر بحث مسئلے میں اس آیت سے استدلال کرنے والا شخص دراصل غفلت کا شکار ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھے۔ ہمارے نزدیک قرآن کا نسخ صرف سنت کا ذریعے جائز ہے جسے وحی من اللہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ ارشاد باری ہے وما ینطق عن الھوی ان ھوالا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں ان کا …