Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 7 · Chapter 566

حج اور عمرہ کے بیان میں

71. موسم حج کے خطبہ کا بیان (آٹھویں تاریخ سے پہلے)

1 hadith in this chapter

1953

Sunan Darmi #1953

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ: هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ، بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ، فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ رَسُولٌ، "أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ". فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا. ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا. ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ، وَعَنْ نَحْرِهِمْ، وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جعرانہ کے عمرے سے واپس لوٹے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (لوگوں کا سردار بنا کر) حج پر مقرر کیا، ہم لوگ ان کے ساتھ آئے یہاں تک کہ جب مقام عرج میں پہنچے تو صبح کی اذان ہو گئی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی تکبیر کہنے کو کھڑے ہوئے اتنے میں پیچھے اونٹ کی آواز سنی تو توقف کیا اور کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعاء کی آواز ہے، شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کے لئے آنا اچھا لگا ہو اور آپ ہی تشریف لے آئے ہوں تو ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھیں، اتنے میں اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا امیر ہو کر آئے ہو یا پیغام لے کر؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دے کر حج میں سورہ براءت سنانے کو بھیجا ہے، پھر ہم یوم الترویہ سے ایک دن پہلے (سات ذوالحجہ) کو مکہ پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، لوگوں کو مناسک حج بتلائے، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سورہ براءت آخر تک پڑھ کر سنائی، پھر قربانی کے دن دس تاریخ کو جب ہم منیٰ (عرفات سے) واپس آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے تو انہوں نے پھر خطبہ دیا، واپس لوٹنے اور قربانی کے احکام بتلائے، پھر جب فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سورہ براءت سنائی یہاں تک کہ اس کو ختم کیا، پھر جب کوچ کرنے کا پہلا دن (بارہ ذوالحجہ) ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بتلایا کہ کس طرح کوچ کرنا چاہیے، کس طرح رمی کرنی چاہیے اور سب ارکان بتلائے، جب اپنی تقریر کر چکے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو سوره براءت سنائی یہاں تک کہ اس کو ختم کیا۔