Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 24 · Chapter 1292

وصیت کے مسائل

4. وصیت نامے کے الفاظ اور شہادت کا بیان

5 hadiths in this chapter

3215

Sunan Darmi #3215

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ:"أَنَّهُ أَوْصَى ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ، أَوْ هَذَا ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ: فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ سورة الأنفال آية 1، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ، وَيَعْقُوبُ: يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة البقرة آية 132، وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَرْغَبُوا أَنْ يَكُونُوا مَوَالِيَ الْأَنْصَارِ وَإِخْوَانَهُمْ فِي الدِّينِ، وَأَنَّ الْعِفَّةَ وَالصِّدْقَ خَيْرٌ وَأَتْقَى مِنْ الزِّنَا وَالْكَذِبِ، إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فِي مَرَضِي هَذَا قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ حَاجَتَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عون نے خبر دی کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے وصیت کی اور لکھا: یہ اس وصیت کا ذکر ہے جو انہوں نے لکھی ہے، یا یہ لکھا یہ محمد بن سیرین (ابوبکر بن ابی عمرہ) کی وصیت کا ذکر ہے ان کے بیٹے اور گھر والوں کے لئے: تم اللہ سے ڈرو، اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو، اور الله تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو [ترجمه: سوره الانفال: 1/8] ، پھر ان کو وصیت کی جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں اور یعقوب علیہ السلام نے وصیت کی: اے میرے بیٹو! الله تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو منتخب فرمایا ہے، خبردار تم مسلمان ہو کر ہی مرنا [البقره 122/2] ، اور ان کو وصیت کی کہ انصار اور اپنے دینی بھائیوں سے بے رغبتی نہ برتیں، اور یہ کہ عفت و سچائی زنا کاری و جھوٹ سے بہتر اور پاکیزہ ہے، اگر میری اس بیماری کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے اور اس وصیت میں رد و بدل نہ کروں تو اس کے بعد انہوں نے وصیت میں ضروری باتیں تحریر کیں۔

3216

Sunan Darmi #3216

Hasan

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:"هَكَذَا كَانُوا يُوصُونَ: هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ يُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ: يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة البقرة آية 132، وَأَوْصَى إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، أَنَّ حَاجَتَهُ كَذَا وَكَذَا".

اردو ترجمہ · Urdu

ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وصیت اس طرح کرتے تھے: فلاں بن فلاں کی یہ وصیت ہے کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ تعالیٰ جو قبروں میں ہیں انہیں دوبارہ زندہ کرے گا، اور اپنے بعد رہ جانے والے اہل و عیال کو وہ وصیت کرتا کہ وہ اللہ سے ڈریں، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کریں، اور اگر وہ مومن ہیں تو الله و اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کریں، اور وہ ویسی ہی وصیت کرتا جیسی ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب علیہ السلام نے وصیت کی: اے میرے بیٹو! الله تعالیٰ نے تمہارے لئے دین (اسلام) کو منتخب کیا ہے لہٰذا تم مسلمان ہو کر ہی مرنا، پھر یہ وصیت کرتا کہ اس مرض و بیماری میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس کی وصیت اس طرح ہے ۔

3217

Sunan Darmi #3217

See Details

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ حِينَ أَوْصَى، قَالَ:"نَشَهُّدُ هَذَا فَاشْهَدْ بِهِ: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَيَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ عَلَى ذَلِكَ يَحْيَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَيَمُوتُ، وَيُبْعَثُ، وَأَوْصَى فِيمَا رَزَقَهُ اللَّهُ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ وَهُوَ كَذَا وَكَذَا، إِنْ لَمْ يُغَيِّرْ شَيْئًا مِمَّا فِي هَذِهِ الْوَصِيَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حفص بن غیلان سے مروی ہے مکحول رحمہ اللہ نے جب وصیت کی تو کہا: ہم اس کی شہادت دیتے ہیں اس کے گواہ رہو، اللہ کے سوا کوئی معبو نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور جو (بندہ) اللہ پر ایمان رکھتا ہے، بتوں کا انکار کرتا ہے، اسی پر ان شاء الله وہ مرے گا اور اسی پر اٹھایا جائے گا۔ اور انہوں نے اللہ کے دیئے ہوئے ترکے کے بارے میں وصیت کی: اگر ان کو کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس طرح کیا جائے اگر اس میں رد و بدل نہ کریں (یعنی مرنے سے پہلے وہ خود رد و بدل نہ کریں تو یہ وصیت قابل عمل ہے)۔

3218

Sunan Darmi #3218

Hasan

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: هَذِهِ وَصِيَّةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ.

اردو ترجمہ · Urdu

مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ (مذکورہ بالا) وصیت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی ہے۔

3219

Sunan Darmi #3219

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:"هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَمُثِيبًا بِأَنِّي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ فِي الْعَابِدِينَ، وَنَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ، وَأَنْ نَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوحیان التیمی نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ربیع بن خثیم نے ایک وصیت (اس طرح) لکھی: بسم اللہ الرحمن الرحیم: یہ ربیع بن خثیم کی وصیت ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں اور الله کی گواہی کافی ہے جو اپنے نیک بندوں کو جزا اور ثواب سے نوازنے والا ہے، میں اللہ پر راضی ہوں اس کے رب ہونے میں اور اسلام پر دین ہونے میں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبی ہونے میں، اور میں اپنے نفس کو اور جو میری اطاعت کرے اس کو حکم دیتا ہوں کہ ہم عبادت گزاروں کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں، حمد و ثنا کرنے والوں میں اس کی حمد کریں، اور مسلم جماعت کے ساتھ خیر خواہی کریں۔