Sunan Darmi #3213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ الْيَامِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قُلْت: فَكَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ: أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ؟ فَقَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ. وقَالَ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ: أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامَةٍ ذلِكَ.
اردو ترجمہ · Urdu
طلحہ بن مصرف الیامی نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے عرض کیا: پھر کیسے لوگوں پر وصیت لازم ہوئی؟ یا ان کو وصیت کا حکم کیوں دیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: یہ تو کتاب اللہ القرآن سے (واضح) ہے، غالباً اشاره «إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ . . . . . .» [بقره: 180/2] کی طرف طرف ہے۔ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی پر حکومت کر سکتے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کو پورا کرنا ایسے پسند کرتے تھے جیسے تابعدار اونٹنی نکیل ڈلوا کر تابعداری کرتی ہے۔