Sunan Darmi #2630
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ إِلا وأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَلْأُدْعَ لَهُ، فَأَنَا مَوْلَاهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: ضَيَاعًا: يَعْنِي: عِيَالًا. وَقَالَ: فَلْأُدْعَ لَهُ، يَعْنِي: ادْعُونِي لَهُ أَقْضِ عَنْهُ.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، روئے زمین پر جو بھی مومن ہے میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوں (یعنی اس کا والی اور ذمے دار ہوں)، پس جس شخص نے کوئی قرض یا اولاد چھوڑی میں اس کے لئے پکارا جاؤں، میں اس کا ذمہ دار ہوں اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ مال اس کے وارثین کا ہے جو باحیات ہوں۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «ضَيَاعًا» سے مراد بچے ہیں اور «فَلْأُدْعَ لَهُ» سے مراد ہے کہ مجھے بلایا جائے تاکہ میں اس کا قرض ادا کروں۔