Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 18 · Chapter 852

کتاب جہاد کے بارے میں

14. تیر اندازی کی فضیلت اور اس کا حکم

2 hadiths in this chapter

2441

Sunan Darmi #2441

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 أَلَا إِنَّ "الْقُوَّةَ: الرَّمْيُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ شریفہ تلاوت کی (ترجمہ): ”تیار کرو کافروں کے لئے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت، سنو: قوت سے مراد ہے: تیر اندازی کرنا۔“

2442

Sunan Darmi #2442

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالْمُمِدُّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا". وَقَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهَ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ" وَقَالَ: "مَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِّمَهُ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِّمَهُ"..

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله عز و جل ایک تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریگا، تیر بنانے والے کو اگر اس کے بنانے میں اچھی نیت کی ہوگی، اس کی مدد کرنے والے اور تیر چلانے والے کو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیراندازی کرو، سواری کرو، اور میرے نزدیک تیر اندازی محبوب ہے سواری کرنے سے“، اور فرمایا: ”اور ہر کھیل جو آدمی کھیلتا ہے وہ باطل ہے سوائے اپنی کمان سے تیراندازی کرنے، اور گھوڑے کی تربیت کرنے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، یہ تین کھیل حق ہیں۔“ اور فرمایا: ”جس نے سیکھنے کے بعد تیراندازی چھوڑ دی اس نے ناشکری کی اس کی جس نے اسے سکھایا۔“