Sunan Darmi #2419
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا فِي الدِّيَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرِثَتْهَا وَرَثَتُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ مَعَهَا، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ". مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے وہ مر گئی اور جو اس کے پیٹ میں تھا وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ مقتولہ کے وارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ جھگڑا لے کر آئے تو آپ نے جنین (پیٹ کا پچہ) کے بدلے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور مقتولہ کی دیت کو قاتلہ کے رشتہ داروں کے ذمہ لگایا، اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد اور شوہر وغیرہ کو قرار دیا، اس وقت حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: یا رسول الله! ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ چیخا، اس طرح کا حکم تو قابلِ اعتبار نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس نے کاہنوں جیسی قافیہ بندی کی۔“