Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 17 · Chapter 833

دیت کے مسائل

20. پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان

2 hadiths in this chapter

2417

Sunan Darmi #2417

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ، فَتَغَايَرَتَا، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً، وَجَعَلَهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، ایک دوسری سے غیرت کے سبب اختلاف میں مبتلا ہوئیں تو ایک نے دوسری پر لوہے کا ڈنڈا دے مارا، جس سے دوسری عورت فوت ہوگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ یہ جھگڑا لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے بدلے ایک لونڈی یا غلام کی دیت کا فیصلہ کیا اور مارنے والی عورت کے عاقلہ پر اس عورت کی دیت کو ڈالا۔

2418

Sunan Darmi #2418

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ: ابْنُ دِينَار، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ،"فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے جنین (پیٹ کا بچہ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تلاش کیا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں دو عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی اٹھا کر ماری (وہ مرگئی اور اس کا بچہ بھی مرگیا «كما فى الرواية الأولى») تو اس قضیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کی دیت غلام یا لونڈی آزاد کرنے کا فیصلہ کیا اور مارنے والی عورت کے قتل کا حکم دیا، یعنی اس کو قتل عمد قرار دے کر قصاص میں اور عورت کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔