Sunan Darmi #2340
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، لَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ: "مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟"قَالَ: بَلَى، قَالَ:"مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟"قَالَ: بَلَى، قَالَ:"فَاذْهَبُوا فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ"فَقَطَعُوا يَدَهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ:"اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:"اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک چور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا لیکن چوری کا مال اس کے پاس سے برآمد نہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تو نے چوری نہیں کی؟“ وہ بولا: نہیں میں نے چوری کی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں تو نے چوری نہیں کی؟“ اس نے عرض کیا: میں نے چوری کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتراف کے بعد فرمایا: ”اسے لیجاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے میرے پاس لے کر آنا۔“ چنانچہ صحابہ کرام نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اسے لے کر حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگو اور اس سے توبہ کرو“، اس شخص نے مغفرت طلب کی اور اللہ سے توبہ کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے معاف کر دے، اے اللہ! اسے معاف کر دے۔“