Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 15 · Chapter 785

حدود کے مسائل

5. حاکم کے پاس حدود کے سلسلے میں سفارش کا بیان

1 hadith in this chapter

2339

Sunan Darmi #2339

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟"ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ، تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی قریش کے نزدیک اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا: اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے؟ پھر انہوں نے کہا: اس کی جرأت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون کر سکے گا؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں، چنانچہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم الله کی حدود میں سفارش کرنے آئے ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لئے برباد ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے، اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹ دیتا۔“