Sunan Darmi #2299
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضُ، ثُمَّ تَطْهُرُ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ، أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہو کہ رجوع کر لیں اور اسے (بیوی کو) اس وقت تک روکے رکھیں کہ طہر شروع ہو جائے، پھر ایام آئیں اور پھر طہر شروع ہو، پھر اگر چاہیں تو اسے اپنے پاس برقرار رکھیں اور چاہیں تو طلاق دے دیں، صحبت و مجامعت کرنے سے پہلے، پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ (یعنی یہ وہ مدت ہے جس کا حکم ( «فطلقوهن لعدتهن») میں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔