Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 13 · Chapter 762

نکاح کے مسائل

56. چھوٹی بچیوں کا اگر ان کے باپ دادا نکاح کر دیں اس کا بیان

1 hadith in this chapter

2298

Sunan Darmi #2298

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَوُعِكْتُ، فَتَمزَّقَ رَأْسِي، فَأَوْفَى جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ہوا تو میری عمر چھ سال تھی، پھر ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے یہاں ٹھہرے، یہاں آ کر مجھے بخار آ گیا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے، پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے، پھر ایک دن (میری والدہ) ام رومان آئیں اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی، انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہوئی اور مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے، آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا، تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے کچھ تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا، پھر مجھے گھر کے اندر لے گئیں، وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ اللہ خیر و برکت کرے اور تمہارا اچھا نصیب ہو، میری ماں نے مجھے ان کے حوالے کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی، اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ان عورتوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا اور اس وقت میری عمر نو سال تھی۔