Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 13 · Chapter 708

نکاح کے مسائل

2. اس کا بیان کہ جس کے پاس استطاعت ہو اس کو شادی کر لینی چاہیے

2 hadiths in this chapter

2202

Sunan Darmi #2202

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَال: قَالَ عَبْدُ اللَّه: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَيْسَ لَنَا شَيْءٌ، فَقَال:"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَة، فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نوجوان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہ تھی۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نو جوانو! تم میں سے جس کے پاس نکاح کی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے کیونکہ یہ نظر کو بہت زیادہ نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے، اور جو نکاح کی (بوجہ غربت) طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کی نفسانی (جنسی) خواہشات کا توڑ ہے۔“

2203

Sunan Darmi #2203

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقِيَهُ عُثْمَانُ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ لَكَ فِي جَارِيَةٍ بِكْرٍ تُذَكِّرُك؟، فَقَالَ: قُلْتَ: ذَاكَ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ كَانَ يَسْتَطِيعُ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (منیٰ میں) ملاقات کی اور فرمایا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کردیں؟ جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو سنیے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اس کو نکاح کر لینا چاہیے اور جو طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ خواہشِ نفسانی کو توڑ دے گا۔“