Sunan Darmi #2188
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: فَمَاذَا تَأَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"الدِّينَ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں ایک وقت سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں، اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں، کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچے تک پہنچا ہے، پھر میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے، ان کے بدن پر (جو) کرتا تھا (وہ اتنا لمبا کہ) وہ اسے گھسیٹ رہے تھے۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد دین ہے۔“