Sunan Darmi #56
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ السَّكُونِيَّ، وَقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: سَلَمَةَ السَّكُونِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنْ السَّمَاءِ؟، قَالَ: "نَعَمْ أُتِيتُ بِطَعَامٍ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ كَانَ فِيهِ مِنْ فَضْلٍ؟، قَالَ:"نَعَمْ"، قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِهِ؟، قَالِ:"رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنِّي غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ تَلْبَثُونَ، حَتَّى تَقُولُوا: مَتَى مَتَى؟ ثُمَّ تَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا مسلمہ السکونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو آسمان سے کھانا مہیا کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے پاس کھانا لایا گیا“، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس میں سے کچھ بچا بھی تھا، فرمایا: ”ہاں بچا تھا“، کہا: پھر وہ کیا ہوا؟ فرمایا: ”آسمان پر اٹھا لیا گیا اور مجھے وحی کی گئی کہ میں تمہارے ساتھ بہت کم ٹھہروں گا اور تم لوگ موجود رہو گے اور کہنے لگو گے کب کب؟ (قیامت آئے گی)، پھرتم چھوٹی ٹولیوں میں میرے پاس ایک دوسرے کے ساتھ قتل و غارتگری کرتے ہوئے آؤ گے، قرب قیامت بہت اموات ہوں گی اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آ ئیں گے۔“