Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 9

مقدمہ

9. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم میں آسمان سے کھانا اترنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

56

Sunan Darmi #56

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ السَّكُونِيَّ، وَقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: سَلَمَةَ السَّكُونِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنْ السَّمَاءِ؟، قَالَ: "نَعَمْ أُتِيتُ بِطَعَامٍ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ كَانَ فِيهِ مِنْ فَضْلٍ؟، قَالَ:"نَعَمْ"، قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِهِ؟، قَالِ:"رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنِّي غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ تَلْبَثُونَ، حَتَّى تَقُولُوا: مَتَى مَتَى؟ ثُمَّ تَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مسلمہ السکونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو آسمان سے کھانا مہیا کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے پاس کھانا لایا گیا“، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس میں سے کچھ بچا بھی تھا، فرمایا: ”ہاں بچا تھا“، کہا: پھر وہ کیا ہوا؟ فرمایا: ”آسمان پر اٹھا لیا گیا اور مجھے وحی کی گئی کہ میں تمہارے ساتھ بہت کم ٹھہروں گا اور تم لوگ موجود رہو گے اور کہنے لگو گے کب کب؟ (قیامت آئے گی)، پھرتم چھوٹی ٹولیوں میں میرے پاس ایک دوسرے کے ساتھ قتل و غارتگری کرتے ہوئے آؤ گے، قرب قیامت بہت اموات ہوں گی اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آ ئیں گے۔“

57

Sunan Darmi #57

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ"، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ الْقَوْمِ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَمَا كَانَتْ تُمَدُّ؟، فَقَالَ سَمُرَةُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید سے بھرا ہوا ایک برتن لایا گیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا اور صبح سے دوپہر تک لوگ باری باری اس سے کھانا تناول کرتے رہے، ایک جماعت کھڑی ہوتی اور دوسری جماعت بیٹھ جاتی۔ ایک آدمی نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اس برتن یا پیالے میں اور کچھ ڈالا گیا تھا؟ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ اور انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس میں وہاں سے کھانا آ رہا تھا۔